برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے…

برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے اولین نقوش

  (مولانا) حذیفہ وستانوی استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم

صفحہ 3 از 5
یہ وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہوں نے إعلاء کلمة اللہ اور ابلاغِ دینِ اسلام کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور ہم اہلِ ہند کو اسلام کی تعلیماتِ صحیحہ سے روشناس کیا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بہترین بدلہ عطا فرمائے اور ہم لوگوں کو بھی جاہلیت قرنِ عشرین کی تاریکیوں سے محفوظ فرما کر، دوسروں کے لیے ہدایت کا باعث بنا دے، ہمیں ہمارے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین!
سرزمینِ ہند کی جانب تبع تابعین:
1: اسرائیل بن موسیٰ بصری 2: کرْزْ بن ابوکرز عبدی 3: معلی بن راشد بصری 4: جنید بن عمرو العدوانی المکی 5: محمد بن زید عبدی 6: محمد بن غزان کلبی 7: ابوعینہ ازدی 8: سندی بن شماس السمان بصری 9: عبدالرحیم دیبلی سندھی 10: عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی 11: عبدالرحمٰن بن السندی 12: عمرو بن عبید بن باب السندی 13: فتح بن عبداللہ سندھی 14: قیس بن بسر سندی النصری 15: ابومعشر نُجَیْح بن عبدالرحمٰن سندھی مدنی 16: محمد بن ابراہیم بیلمانی 17: محمد بن حارث بیلمانی 18: یزید بن عبداللہ قرشی سندھی۔ 
(برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش)
اللہ رحمت نازل کند ایں عاشقانِ پاک طینت را۔ اللھم نور قبورھم واسکنھم فی جنات عدن تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدا واجعل قبورھم روضات من ریاض الجنة واجعلنا فی زمرتھم مع النبیین و الصالحین والشھداء .
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صحابہ کرام رضوان الله عليہم اجمعين، تابعین، اور تبع تابعین کی انتھک محنتوں کے بعد برِصغیر ہند و پاک تک پہنچا برِصغیر میں اسلام دو طریقے سے پھیلا:
1: تبلیغ کے ذریعہ۔ 2: جہاد کے ذریعہ۔
سراندیپ، کلکپدیپ، مالدیپ، مالابارہ، جزیرہ جاوا، سُمَاتَرَہ، سنگاپور، ملایا، کالیکَٹْ وغیرہ میں اسلام انصاف اور مساوات پر مشتمل تعلیمات کی وجہ اور علاقوں کے بادشاہوں کے زمانہ قدیم سے، اہلِ عرب سے تجارتی تعلقات کی وجہ سے بغیر کسی جہاد و جنگ کے بہت تیزی سے اسلام پھیلا۔ عرب کے تاجروں میں سے مشرف بن مالک اور سیدنا مالک بن دینار اور سیدنا مالک بن حبیب کا بھی ان علاقوں میں اسلام کی تبلیغ میں بڑا کردار رہا، مسلمانوں کی کثرت کو دیکھ کر، مالک بن دینار وغیرہ نے کدنکلور کالیکٹ میں، مسجد بھی تعمیر کروائی، ان مذکورہ مسلمان تاجروں کی محنت کے سبب اسلام ساحلی کاروکمنڈل تک پھیل گیا اور بکثرت مسجدیں بھی بنائی گئیں؛ گویا یہ تمام علاقے حضرت محمد بن قاسم ثقفی رضی اللہ عنہ کے ہندوستان پر حملہ آور ہونے سے قبل ہی اسلام میں داخل ہو گئے ”وللہ الحمد علی ذالک“۔
اللہ ہمارے ان مسلمان تاجروں کو اس کا بہترین بدلہ آخرت مین عطار فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)
علاقہ سندھ، جس کا اطلاق قدیم دور میں ایک عظیم مملکت پر ہوتا تھا، یہ مملکتِ سندھ، موجودہ سندھ سے مغرب میں مکران تک، جنوب میں بحرۀ عرب اور گجرات تک، مشرق میں مالوہ کے وسط اور راجپوتانہ تک، شمال میں ملتان سے اوپر گزر کر جنوبی پنجاب کے علاقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ 
(فتوح الہند) 
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ سندھ میں مسلمانوں کی آمد کا آغاز عہدِ فاروقی رضی اللہ عنہ کے ابتداء ہی سے ہو چکا تھا، جس کے اولین محرک حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے اپنے دو بھائی سیدنا حکم بن ابی العاصؓ اور سیدنا مغیرہ بن ابی العاصؓ کو اس خطہ میں روانہ کیا تھا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی ہندوستان میں صدائے ”لا إلہ اللہ“ کی گونج کے لیے اور حالات دریافت کرنے کے لیے فوج روانہ کی، مگر جنگ کی نوبت نہ آئی، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں سیدنا حارث بن مرہ عبدیؓ، سرہند پر حملہ آور ہوئے، پھر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں 44ھ میں سیدنا مہلب بن ابی صفرہؓ حملہ کرنے کی غرض سے آئے اور فاتح ہوئے، اسی لیے تاریخِ فرشتہ کے مصنف نے اسلام پر پہلی منظم جنگ کا شرف اُنہیں کے سر باندھا ہے۔ مگر یہ حملے چھوٹے چھوٹے تھے، بڑا حملہ حجاج کے اشارے پر محمد بن قاسمؒ ہی نے 92 ہجری میں کیا، اور اقل قلیل مدت میں وہ پورے سندھ کو فتح کر لیا، مگر بد قسمتی سے سلیمان بن عبد الملک نے حجاج کے ساتھ اپنے اختلافات میں، محمد بن قاسمؒ جیسے جواں مرد اور نیک صفت مجاہد اسلام کو، بلی کا بکرا بنا دیا ”إنا للہ وإنا الیہ راجعون“ محمد بن قاسمؒ نے دیبل کو فتح کرنے کے بعد، وہاں جامع مسجد تعمیر کروائی، چار ہزار عربوں کو وہیں ٹھہرنے کا حکم دے دیا، یہاں یہ بات قابلِ لحاظ رہے کہ ان فتوحات کے بعد بھی مسلمانوں نے اس بات کا حد سے زیادہ خیال رکھا کہ ہماری حکومت سے مملکتِ سندھ کے کسی طبقہ کو بھی اذیت نہ پہنچے، مسلمانوں نے پست لوگوں کو اُبھارا تو سہی، مگر بلند لوگوں کو پست نہیں کیا، جیسا کہ عام فاتحین کا طریقہ ہوتا ہے، جس کا ذکر قرآن کریم نے بلقیس کے واقعہ میں کیا ہے، کہ ملکہ سبا بلقیس نے اپنے مشیروں سے کہا 
”إن الملوک إذا دخلوا قریة افسدوھا و جعلوا اَعزة اہلھا اذلة وکذالک یفعلون“ 
محمد بن قاسمؒ نے ایسا زبردست انصاف کیا کہ تاریخِ ہند میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے مقدمات کا فیصلہ قاضی کرتے تھے، لیکن ہندوؤں کے لیے ان کی پنچایتیں بدستور قائم رہیں۔
محمد بن قاسمؒ کی یہی رواداری اور انصاف تھا، جس کی وجہ سے ان کی مخالفت کم ہوئی، کئی شہروں نے خود بخود ان کی اطاعت قبول کر لی، بلکہ بلا ذوری تو لکھتا ہے، کہ جب محمد بن قاسمؒ قید ہو کر عراق بھیجے گئے، تو ہندوستان کے لوگ روتے تھے اور علاقہ کَچ گجرات کے لوگوں نے ان کا مجسمہ بنایا۔
صفحہ 3 از 5