برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے…

برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے اولین نقوش

  (مولانا) حذیفہ وستانوی استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم

صفحہ 2 از 5
امیر الموٴمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت پر فائز ہونے کے چار سال بعد سن 15 ہجری میں سیدنا عثمان بن ابوالعاصؓ کو بحرین اور عمان کا والی مقرر کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے برادر محترم ”حضرت حکم بن ابی العاص رضی اللہ عنہ“ کو ایک لشکر کا کمانڈر بنا کر ہندوستان کی بندرگاہ ”تھانہ“ اور ”بھروچ“ کے لیے روانہ کیا اور اپنے دوسرے بھائی ”سیدنا مغیرہ بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ“ کو فوج دے کر،”دبیل (کراچی)“ کے لیے روانہ کیا، مگر یہ غیر مستقل جھڑپیں تھیں، کوئی مستقل فوج کشی اور جنگ نہیں تھی، اس لیے عام تاریخ کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں ملتا، اسی طرح ”مکران، کرمان، رن، بلوچستان، لس بیلا، ملات، ملتان، لاہور، بنوں، کوہاٹ“ اور دیگر علاقوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس جماعت کا ورود مسعود تاریخ کی بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
مؤرخ اسلامی علامہ قاضی محمد اطہر مبارکپوری رحمۃ اللہ کی تحقیق کے مطابق سرزمینِ ہند کو سترہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہا ہے، جبکہ دورِ حاضر کے مؤرخ محمد اسحاق بھٹی کی تحقیق کے مطابق پچیس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقدامِ مبارکہ کی قدم بوسی سرزمینِ ہند کو حاصل ہوئی، اس طرح قاضی اطہر مبارکپوری رحمۃ اللہ نے تابعین کے ورودِ مسعود کا ذکر کرتے ہیں۔ 
(خلافت راشدہ اور ہندوستان) 
اور محمد اسحاق بھٹی صاحب 42 تابعین اور 18 تبع تابعین کے ورودِ مسعود کا تذکرہ کرتے ہیں۔ 
(برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش)
اب یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام ہی ذکر کر دئیے جائیں جن کا ورودِ مسعود ہندوستان کی سرزمین میں ہوا:
1: سیدنا حَکَم بن ابی العاص 2: سیدنا حَکَمْ بن عمرو ثعلبی غفَاری 3: سیدنا حضرت خریت بن راشد ناجی سامی 4: سیدنا رُبَیَّعْ بن زیاد حارثی مَذْحَجِی 5: سیدنا سنان بن سلمہ ہذَلی 6: سیدنا حضرت سہل بن عدی خزرجی انصاری 7: سیدنا صحّار بن عباس عبدی 8: سیدنا عاصم بن عَمرو تمیمی 9: سیدنا عبداللہ بن عبداللہ بن عِتبان انصاری 10: سیدنا عبداللہ بن عمیر اَشجعی 11: سیدنا عبدالرحمٰن بن سمُرہ قرشی 12: سیدنا عبیداللہ بن معْمَر قرشی تیمی 13: سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقَفِی 14: سیدنا عُمیر بن عثمان بن سعد 15: سیدنا مجاشع بن مسعود سَلَمِی 16: سیدنا مغیرہ بن ابی العاص ثقفی 17: سیدنا منذر بن جارود عبدی (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ 
اللھم اجزھم عنا ھؤلاء الصحابة احسن ما جازیت بہ عبادک الصالحین و انزل علیھم شأبیب رحمتک و رضوانک و اجعلنا معھم یوم الحشر و الحساب و فی الجنہ و وفقنا باتخاذھم قدوة لنا فی الدنیا۔ آمین یا رب العالمین!
یہ سترہ اسماء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ جس کو قاضی اطہر مبارکپوری رحمۃ اللہ نے اپنی معرکة الآراء تالیف ”خلافتِ راشدہ اور ہندوستان“ میں تحریر فرمایا۔
اللہ رب العزت، قاضی صاحب رحمۃ اللہ کو بھی جزاءِ خیر عطا فرمائے کہ جنہوں نے بڑی جدوجہد اور کاوشوں کے بعد، ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسماء مبارکہ کو جمع کیا۔
اس کے علاوہ اور چند اسماء مبارکہ کو، محمد اسحاق بھٹی صاحب نے اپنی تالیف لطیف ”برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش“ میں تحریر فرمایا ہے وہ یہ ہیں:
18: سیدنا شہاب بن مخارق بن شہاب تمیمی 19: سیدنا نسیر بن دیسم بن ثور عجلی 20: سیدنا حکیم بن جبلہ اسدی 21: سیدنا کلیب ابووائل 22: سیدنا مُہَلَّبْ بن ابوصفرہ ازدی عتکی 23: سیدنا عبداللہ بن سوّار عبدی 24: سیدنا یاسر بن سوّار عبدی 25: سیدنا عبداللہ سُوَیْد تمیمی (رضوان اللہ علیہم اجمعین)۔
ان میں بعض صحابہ کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے کہ وہ صحابی ہیں یا تابعی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد امت کا بہترین طبقہ، تابعین کا ہے۔ اور الحمدللہ تابعین رحمہم اللہ بھی اعلاء کلمة اللہ کی غرض سے ہندوستان کی سرزمین پر تشریف لائے۔ تو آئیے اب ان تابعین کے نام معلوم کرتے چلیں:
1: سیدنا ثاغر بن ذعر 2: سیدنا حارث بیلمانی 3: سیدنا حکیم بن جبلہ، قاضی صاحب نے ان کو تابعی اور محمد اسحاق بھٹی صاحب نے صحابہ میں شمار کیا ہے۔ 4: سیدنا حسن بن ابوالحسن یسار بصری 5: سیدنا سعید بن ہشام انصاری 6: سیدنا سعید بن کندیہ قشیری 7: سیدنا شہاب بن مخارق تمیمی 8: سیدنا صیفی بن فسیل شیبانی 9: سیدنا نسیر بن وسیم عجلی یہ بھی مختلف فیہ ہیں۔ 
محمد اسحاق بھٹی صاحب نے دیگر تابعین کے اسماء تحریر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں: 
10: سیدنا ابنِ اُسید بن اَخنس 11: سیدنا ابوشیبہ جوہری 12: سیدنا حاتم بن قبیصہ 13: سیدنا راشد بن عمرو الجدیدی 14: سیدنا زائدة بن عمیر طائی 15: سیدنا زیاد بن حواری عمی 16: سیدنا ابوقیس زیاد بن رباح قیسی بصری 17: سیدنا حکم بن عوانہ کلبی 18: سیدنا معاویہ بن قرة مُزنی بصری 19: سیدنا مکحول بن عبداللہ سندھی 20: سیدنا عبدالرحمٰن بن عباس 21: سیدنا عبدالرحمٰن سندھی 22: سیدنا قطن بن مدرِک کلابی 23: سیدنا قیس بن ثعلبہ 24: سیدنا کمس بن حسن بصری 25: سیدنا یزید بن ابوکبشہ سکسکی دمشقی 26: سیدنا موسیٰ سیلانی 27: سیدنا موسیٰ بن یعقوب ثقفی 28: سیدنا عبدالرحمٰن کِندی 29: سیدنا عبدالرحمٰن بیلمانی 30: سیدنا عمر بن عبیداللہ قرشی تیمی31: سیدنا شمر بن عطیہ اسدی 32: سیدنا سعید بن اسلم کلابی 33: سیدنا حباب بن فضالہ ذُہلی 34: سیدنا عبدالرحمٰن بن عبداللہ کواعشی 35: سیدنا حارث بن مرہ عبدی 36: سیدنا ایوب بن زید ہلالی 37: سیدنا حری بن حری باہلی 38: سیدنا عباد بن زیادہ اُموی 39: سیدنا یزید بن مفرغ حِمیَری 40: سیدنا ربیع بن صبیح سُعْدی بصری 41: سیدنا مجاعة بن سعر تمیمی 42: سیدنا عطیہ بن سعد عوفی 43: سیدنا ابوسالمہ زُطی 44: سیدنا محمد بن قاسم ثقفی( رحمہم اللہ علیہم اجمعین)۔
صفحہ 2 از 5