برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے…

برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے اولین نقوش

  (مولانا) حذیفہ وستانوی استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم

صفحہ 1 از 5

برِصغیر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین رحمۃ اللہ اور تبع تابعین کے اولین نقوش

الحمدللہ! جس خطہ میں ہم اہلِ ہند آباد ہیں وہ ایک ایسا خطہ ہے جو ابتداء آفرینش سے ہی انبیاء کرام علیہ السلام اور رسولوں سے وابستہ ہے جس کی برکتوں سے اسلام اس دورِ پُرفتن میں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ مسلمانانِ ہند کے قلب و جگر میں آباد ہے۔ اور ان شاء اللہ قیامت تک رہے گا۔ بعض احادیث کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط سرزمینِ ہند پر ہوا اور بعض روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام سرزمینِ مکہ پر اُتارے گئے، پھر بیت اللہ کی تعمیر کے بعد سرزمینِ ہند کی طرف تشریف لائے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرزمینِ ہند کو ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ صرف یہی نہیں چونکہ یہ خطہ تاریخ بشر کے آغاز ہی سے آباد ہوتا چلا آیا ہے اس سے حضرت آدم علیہ السلام کے بعد بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت وقفہ وقفہ سے یہاں ہوتی رہی ہو گی جیسا کہ سرہند کے قریب ایک دیہات میں دو نبیوں حضرت ابراہیم اور حضرت خضر علیہما السلام کی قبریں آج بھی موجود ہے، یہ دونوں مذکورہ انبیاء علیہما السلام والد اور صاحبزادے تھے، صرف اتنے ہی پر بس نہیں بلکہ نبی آخر الزماںﷺ کی بعثت کے ابتدائی مراحل ہی میں اسلام اہلِ ہند تک پہنچ چکا تھا جیسا کہ بعض تاریخی روایات سے معلوم ہوتا کہ ہندوستان کے شہر ”قنوج“ کا بادشاہ سربانک معجزہ شق القمر کو دیکھ کر نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا، اسی طرح بعض روایات ہیں کہ ایک اور ہندی صحابی سیدنا بابا رتن ہندی کی ملاقات اور نبی کریمﷺ سے چند احادیث کی روایت بھی ثابت ہے، آج بھی بابارتن ہندی کا مزار مشرقی پنجاب کے شہر بھنڈہ میں موجود ہے، اسی طرح ایک ہندوستانی بادشاہ کا نبی کریمﷺ کی خدمت میں تحفہ بھیجنا بھی ثابت ہے جیسا کہ محدث کبیر حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب ”المستدرک“ میں اس واقعہ کو ذکر کیا ہے، اسی طرح اہل سرندیپ نے بھی نبی کریمﷺ کی خدمت میں ایک عقلمند، ذی شعور اور ذکی الفطرت شخص کو تعلیماتِ نبویہ کے مشاہدے کے لیے عرب تاجروں کے ساتھ روانہ کیا تھا، جب وہ مدینہ پہنچا تو نبی کریمﷺ اس دارِ فانی سے دارِ باقی کی طرف رحلت فرما چکے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی، اور حضرت عمر خلیفہ منتخب ہو چکے تھے، اس شخص نے اپنے وطن لوٹ کر تعلیماتِ اسلامیہ کی بہت تعریف کی، اہلِ سرندیپ اس سے بہت متأثر ہوئے، اس کی برکتیں ہیں جو آج مالدیپ مملکتِ اسلامیہ کی صورت میں آباد ہے، اس طرح جنگِ یمامہ کے بعد حضرت علیؓ کے حصہ میں آنے والی ایک خاتون ”خَوْلَہْ ہندیہ حنفیہ“ تھی، جس کے بطن سے آپؓ کے ایک صاحبزادے سیدنا محمد بن حنفیہؒ پیدا ہوئے، علامہ ابنِ خلکان نے اپنی معرکة الآراء تصنیف ”وفیات الاعیان“ میں خولہ کا ہندیہ ہونا ثابت کیا ہے، یہ تو وہ واقعات تھے جن سے بعض اہلِ ہند کا انفرادی طور پر اسلام میں داخل ہو کر السابقون الاولون کی فہرست میں شامل ہونے کا شرف حاصل کرنا ثابت ہوتا ہے۔
ہندوستان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آمد:
نبی کریمﷺ کو لباسِ نبوت و رسالت سے آراستہ کیے جانے کے بعد چوں کہ جزیرة العرب کے کافر و مشرک یہود و نصاریٰ کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا تھا، لہٰذا انہیں لوگوں کو اسلام میں داخل کرنے کی سعی میں مشغول رہے اور جس میں الحمدللہ آپ سو فیصدی ہی نہیں بلکہ ہزار اور لاکھ فیصدی کامیاب رہے کہ آنحضرتﷺ کی 23 سالہ بے مثال جدوجہد کے نتیجہ میں پورا جزیرة العرب اسلام میں داخل ہو گیا، صرف داخل ہی نہیں بلکہ آپؓ کی صحبت کی برکت اور جانبین کی اخلاص کی وجہ سے مکمل طور پر تعلیماتِ نبویہ سے سرشار ہو گئے اور ہر اعتبار سے اسوہ رسول اللہﷺ میں ڈھل گئے، یہاں تک کہ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے انہیں اپنی رضا کا پروانہ دے دیا اور رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ اور صحابہ جیسے عظیم القاب سے یاد کیے جانے لگے جو انبیاء کے بعد بنی آدم کے افضل ترین رتبہ پر فائز ہو گئے۔
نبی کریمﷺ کے اس دارِ فانی سے دارِ باقی کی طرف رحلت فرما جانے کے بعد تبلیغ کو انہوں نے اپنا مشن بنائے رکھا اور یہ تہیہ کر لیا کہ پیغامِ حق سے پوری دنیا کو سرشار کریں گے اور الحمدللہ ہمارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ صرف کہا نہیں بلکہ کر دکھایا۔ اے اللہ! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرما اور ان کی محبت سے ہمارے قلوب کو سرشار فرما۔ آمین یا رب العالمین!
نبی کریمﷺ کی وفات حسرت و یاس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے، مگر چونکہ آپؓ کا دور ”فتنہٴ ارتداد“ سے دو چار ہوا لہٰذا اس کی سرکوبی میں مختصر سا مگر بابرکت دور پورا ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہندوستان کی جانب توجہ کا موقعہ نہیں مل سکا اور رفیقِ غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے، رضی اللہ عنہ و رضاہ۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انتقال پُر ملال کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسندِ خلافت پر جلوہ گر ہوئے، چونکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے داخلی فتنوں کو اپنی حکمتِ عملی اور کامیاب تدابیر سے نسیاً منسیاً کر دیا تھا، لہٰذا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اب کسی داخلی فتنہ سے خطرہ نہ تھا، لہٰذا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مکمل توجہ دین اسلام کو اقوامِ عالم تک پہنچانے میں صرف کی اور الحمدللہ آپ رضی اللہ عنہ بھی اپنے ہدف کو حاصل کرنے یعنی دور دور علاقوں میں اقوامِ عالم تک دینِ اسلام کو پہنچانے میں کامیاب رہے۔
سرزمینِ ہند پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اولین نقوش:
صفحہ 1 از 5