سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی کتاب استخلاف یزید میں یہ باتیں لکھی ہوں۔
1: رحمت خداوندی نے دستگیری کی، امت صدیق اکبرؓ کی بیعت پر متفق ہو گئی۔ اگر بالفرض ان پر امت متفق نہ ہوتی، اور بیعتِ خلافت کے لئے وہ تلوار اٹھاتے تو وہ بھی یقیناً ملوکیت ہوتی۔(صفحہ 534)
2: حضرت علیؓ کے متعلق لکھتے ہیں: اگر بالفرض ایسا ہوتا، یعنی: شیعانِ علیؓ ان کی نافرمانیاں کرتے، تو حضرت علیؓ کے شان میں کوئی کمی نہ ہوتی، اور قوم کی شقاوت اور بدنصیبی ہوتی، کہ اس نے امام برحق خلیفہ راشد کے اطاعت سے سرتابی کی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اگر قوم کی بدعنوانیوں سے تنگ آ کر پکار سر اٹھتے ہیں کہ: قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِىۡ وَاَخِىۡ۞ تو بتائیے کہ ان کے ثبوت میں کونسا فرق آیا۔ (صفحہ 529)
3: حضرت امیر معاویہؓ کے متعلق لکھتے ہیں: دوسری چیز جس نے حضرت امیر معاویہؓ کے عہدِ خلافت کو بانج سے ہٹا دیا ہے وہ بیت المال ہے۔ حضرت امیر معاویہؓ کے زمانہ میں یعنی عہدِ حکومت میں بیت المال خلفاء راشدینؓ کے طریقہ پر نہ تھا۔ (صفحہ 234)
4: حضرت امیر معاویہؓ کے حکام میں اکمل اموال اور قتل نفس کی ایسی نا گوار صورتیں بھی ہیں جنہیں عبد الرحمٰن بن عبد رب الکعبہ باطل اور ناحق قرار دیتے ہیں۔ (صفحہ 237)
5: محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت میں پورے ذخیرۂ حدیث میں ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے۔ (صفحہ 118)
کیا اس طرح کا شخص اہل سنت ہو سکتا ہے؟ اور اہل سنت کے امامت کا حقدار ہے؟
جواب: یہ مؤلف، شیعہ پر معلوم ہوتا ہے، اس نے غیر مستند تاریخی روایات کی وجہ سے مسلمہ اصول و عدالت صحابہ کرامؓ کو نظر انداز کیا ہے۔ اور مستند روایاتِ حدیثیہ کو اتباع ہویٰٔ کی وجہ سے خود ساختہ قرار دیا ہے۔ پس ایسا نیم شیعہ یا شیعہ پرور شخص اہل سنت و الجماعت کی امامت اور خطابت کا اہل نہیں ہے۔ (فتاویٰ فریدیہ: جلد 1 صفحہ 135)