شیعوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے مسجد کا نام "مسجد ابوبكر…

شیعوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے مسجد کا نام "مسجد ابوبكر صديقؓ" ركها


سوال: جس مسجد کا مذکورہ بالا سوال میں تذکرہ ہوا، کیا اس کو امام باڑہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس لیے کہ اس میں شیعی عقائد وغیرہ کے پروگرام ہوتے ہیں یا پھر اس کا موجودہ نام: مسجد سیدنا ابوبکر صدیقؓ باقی رکھا جائے؟

جواب: اگر مسجد شیعوں نے بنائی ہو، اور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے نام "مسجد ابو بکر صدیقؓ" رکھا ہو، تو عوام کو اس پر مطلع کرنا ضروری ہے۔ اور اگر مسجد ہمارے لوگوں نے بنائی، پھر اس پر غلط لوگ مسلط ہو گئے تو ان کا تسلط ختم کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی جانی چاہیے۔ بہرحال وہ شیعوں کی مسجد: امام باڑے: ہی کی طرح ہے۔

(فتاوىٰ دار العلوم زكريا: جلد 1 صفحہ 170)