اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 9 از 18

 جلاءالعیون اردو جلد 2 صفحہ نمبر 19 مقدمہ اول

 اہل بیت کے سوا کوئی ولی نہیں

یہ پہلے ثابت ہو چکا کہ فوق درجہ ولایت مطلقہ کوئی اور درجہ نہیں اور ولایت  صرف غلبہ حکومت بادشاہی ہدایت حفاظت ہےپس خدا کے بعد رسول اور اس کے بعد اہل بیت ہی جملہ ماسوااللہ پر تصرف و غالب حاکم و بادشاہ اور ہادی و حافظ ہیں اور وہ اس لئے کہ میعاد ولایت ان کو حاصل ہے باقی انبیاء اور ملائکہ یہ منصب نہیں رکھتے

 جلاءالعیون اردو جلد نمبر 2 صفحہ 29 مقدمہ اول

 تبصرہ۔۔

شیعہ مصنفین اپنے ائمہ معصومین کے لیے ایسا عقیدہ (کے جملہ ماسوااللہ پر متصرف و غالب وحاکم و بادشاہ اور حافظ  )رکھنے کے بعد بھی اگر چیختے اور چلاتے رہے کہ ان سے خلافت چھینی گئی اور یہ حضرات مجبور مقہورمغلوب اور مظلوم تھے تو اس کہنے پر شیعوں کو شرم آنی چاہیے لیکن سچ کہتے ہیں کہ  دروغ گوہ راحافظہ نباشد

یعنی جھوٹا بات بھول جاتا ہے

 حاضر و ناظر ہونا

سوال۔ اب یہ کہنا کہ ایک وقت میں کروڑوں مخلوق پکار رہی ہے یہ کیسے سن رہے ہیں اور وہاں ہر جگہ جا کر ان کی مشکل کو دور کر رہے ہیں

 جواب۔پہلے میں عرض کرچکا ہوں کا جیسے خدا سن رہا ہے یہ سن رہے ہیں جیسے وہ ہر جگہ ہے ایسے یہ ہر جگہ ہیں ۔۔۔لہذا خداوند عالم نے تمام عالمین میں محمد و آل محمد کو علم غیب ۔حاجت روائی ۔مشکل کشائی بادشاہی حاضروناظر مدبر عدل و انصاف اور عصمت میں بلند دیکھا تو نبوت امامت خلافت و ولایت شہادت کے عہدے دے دیئے اور اپنی حکومت کا مختار بنا کر اپنا نائب اعظم اور وزیر اعظم بنا دیا اب جو یہ چاہیں وہ چاہے اور جو وہ چاہے یہ چاہیں انکا کرنا اس کا کرنا اور ان کا قول اس کا قول ہے

 جلاء العیون صفحہ نمبر 80 اور 81 جلد 2 مقدمہ ثانی

جناب مولا امیر المومنین نے فرمایا ہے کہ مومن منافق کافر مشرک کوئی آدمی نہیں مرتا جب تک میں اس کے سرہانے جاکر حکم نہ دو

جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی  صفحہ نمبر 85

جناب فاطمہ زہرا سلام علیہا ہمارے تمام رونے والوں کے ساتھ ہے اور ان کے آنسو اپنے رومال میں لیتی ہیں لہٰذا محمد و آل محمد علیہ السلام کے حاضر و ناظر ہونے کا انکار قرآن کا انکار اسلام توحید کا انکار ہے کیونکہ۔ ۔۔۔۔۔۔

 جلاء العیون مترجم اردو صفحہ 86 جلد 2 مقدمہ ثانی

 بقیۃ اللہ

سوال۔ کیا خداوندکریم نے محمد و آل محمد علیہ السلام کے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ صاحبان ایمان اپنی تکالیف مصائب و مشکلات میں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب فاطمہ زہرا اور جناب علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ معصومین کو پکاریں آواز دیں مدد مانگیں اور حاجت طلب کریں ؟؟؟جبکہ اس نے فرمایا ہے کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین ؟؟؟

 جواب

لہذا کسی کو مددگار حاجت روا مشکل کشا ماننا واقعتا گناہ اور شرک ہے مگر ہاں ان کو مشکل کشا حاجت روا مانو اور مدد کے لئے پکارو جن کو ان کاموں کے لیے اللہ نے مقرر کیا ہے ۔لہذا سرکار رسالت اور ائمہ معصومین نے  اپنے خطبات میں فرمایا ہے

 نحن وجہ اللہ ۔نحن باب اللہ نحن نفس اللہ نحن ایات اللہ نحن عین اللہ نحن ہیبت اللہ نحن لسان اللہ نحن صبغت اللہ

نحن بقیة اللہ نحن صراط اللہ

لہذا اب قرآن پاک میں آئے اور حکم خداوندی کو پڑھ کر ایمان کو درست کرکے جلاءالعیون سے جلاءالعیون حاصل کیجیے

 بقیة اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین

 ترجمہ۔ بقیہ اللہ تمہارے لئے خیر ہے اگر تم  مومن ہو اور میں تمہارے اوپر نگہبان نہیں ہوں

بقیہ اللہ نگران نگہبان محافظ ہے ہر طرح سے بیماری بے روزگاری بےاولادی بےعزتی پریشانی حیرانی گھبراہٹ غرض یہ کہ ہر کام میں اللہ نے صاحبان ایمان پر محافظ بنایا ہے بقیہ اللہ کو اور خود فرمایا کہ میں تمہارے اوپر محافظ نہیں یعنی مصائب میں مشکلات پریشانیوں میں مقدمات غربت ہو رزق نہ ہو بیماری ہو تو میں نے تمہارے اوپر آئمہ صاحبان ایمان بقیہ اللہ کو مقرر کر دیا ہے اب تم لوگ اس ہی کو پکارنا وہ تمہاری ہر طرح سے مدد کرے گا تو مانگو گے وہ دے گا وہ ہم سے جدا نہیں ہم اس سے علیحدہ نہیں اس کا فعل ہمارا فعل اس کا قول ہمارا قول اس کا دینا ہمارا دینا اس کا انکار ہمارا انکار جو بھی مومن ہے وہ بقیۃاللہ سے مانگے اور بقیة اللہ سے مراد ہے جو اللہ نے باقی رکھا یعنی جس کو بقا ہے فنا نہیں موت نہیں اور کائنات میں جن کو موت نہیں فنا نہیں وہ ہے محمد و آل محمد علیہ السلام

 جلاءالعیون اردو جلد 2 صفحہ 87 86 مقدمہ ثانی

 تبصرہ

شیعہ مصنف نے اس آیت کریمہ کو ذکر کرکے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مشکلات کو دور کرنے کے لیے صاحب بقیت اللہ کو صاحب ایمان پر نگہبان بنایا ہے اور خود فرمایا کہ میں اب تمہارے اوپر محافظ نہیں ہوں جبکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے  اللہ حفیظ علیہم ۔انکاحافظ اللہ ہے

 وما انت علیہم بوکیل ۔

اللہ ان کا محافظ ہے اے رسول تم ان کے نگہبان نہیں ہوں

 شوری آیت نمبر 6

 ماارسلناک علیہم حفیظا

اے رسول ہم نے تم کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا  شوریٰ آیت نمبر 48

 وسع کرسیہ السموات والارض ولایودہ جفظہما۔

۔اللہ کی کرسی سب آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے ہے اور ان دونوں آسمان و زمین کی نگہداشت اس پر کچھ بھی گراں نہیں اور وہ بڑاعالیشان بزرگ مرتبہ ہے  البقرہ آیت نمبر 255

 وما یعلم جنود ربک الا ہو

۔اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا

 سورہ مدثر آیت نمبر 31

ان تمام آیات میں فرمایا گیا کہ تمام کائنات کا نگہبان صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا گیا کہ آپ ان پر نگہبان نہیں ہیں لیکن باوجود اس حقیقت کے شیعہ مصنف کا یہ کہنا کہ اب تمام مشکلات کو حل کرنے کے لئے بقیۃ اللہ کو پکارو یہی تمہارے نگہبان ہے اور خود اللہ بھی تمہارے اوپر نگہبان نہیں تو یہ سراسر جھوٹ اور کھلا شرک اور صریح کفر ہے

 آیت کریمہ کی حقیقت

یہ آیت کریمہ جو شیعہ مصنف نے لکھی ہے یعنی بقیہ اللہ خیر لکم ۔۔۔

درحقیقت یہ حضرت شعیب علیہ السلام کا قول ہے جو اس نے اپنی قوم کو فرمایا تھا اللہ تعالی نے اس کا قول نقل کیا ہے

صفحہ 9 از 18