اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 8 از 18

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ نمبر 68۔69مقدمہ ثانی

 تکلیف خدا نہیں دیتا

انسانوں کا مصائب میں مبتلا ہونا حالات کا خراب ہونا بیماری کا پیدا ہونا اور جو بھی تکالیف انسان کو آتی ہیں وہ اللہ تعالی نہیں دیتا ماں جو اپنی اولاد سے پیار کرے یا ان کی حرکات نازیبہ سے ان سے پیار نہ کرے مگر وہ یہ کوشش و ارادہ نہیں کرتی ہے کہ اولاد میں کوئی تکلیف پیدا ہو یا مصیبت میں مبتلا ہو جائے بلکہ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو ناراض ماں اس کے لیے صحت کی تمنا رکھتی اور دعا کرتی ہے کہ یہ بیماری دور ہوجائے ۔

تو اللہ تعالی تو والدین سے زیادہ مخلوق پر مہربان ہے وہ کب چاہتا ہے کہ مرے بندےتکلیف میں مبتلا کر دیئے جائیں بلکہ وہ تو ماں کی طرح یہ تمنا رکھے گا کہ مخلوق کو مصائب سے نکال دیا جائے لہٰذا مصائب کا نزول اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ انسانوں کے اپنے افعال و اعمال سے پیدا کردہ ہے

 جلاءالعیون اردو صفحہ نمبر 77 جلد نمبر 2 مقدمہ ثانی

 تبصرہ۔

شیعہ مصنف نے صفحہ نمبر 68.69پر محمد و آل محمد کے بارے میں من گھڑت عقیدہ ذکر کیا کہ ان حضرات پر نیند طاری ہو سکتی ہے نہ اونگھ وہ  تمام مخلوق کی آواز کو سنتے سمجھتے ان آوازوں کی شناخت بھی کرتے ہیں جو سراسر شرکیہ عقیدہ ہیں اور صفحہ نمبر 77 پر اس نے لکھا کہ تکالیف خدا نہیں دیتا اس کی یہ عبارت بھی سراسر قرآن مجید کے خلاف ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے

  مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (11)

 ترجمہ۔کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آسکتی

 ترجمہ فرمان علی شیعہ

  وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (107)

 ترجمہ۔ اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کو اللہ کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں

کبھی اپنے بندوں کو آزمانے کے لئے اللہ تعالی ان کو طرح طرح کی تکالیف اور مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ صابرین اور ماتمیین کا خود ان کے عمل سے ظہور ہو جائے

 Surat No 2 : Ayat No 155

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ،  دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔

 Surat No 4 : Ayat No 78

اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ  فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾

تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ پکڑے گی  ، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے  انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں ۔

 ان تمام آیات میں بتایا گیا ہے کہ تکالیف اور مصائب اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں لہٰذا اللہ کی بات سچی ہے اور شیعہ مصنف کا عقیدہ قرآن کے خلاف ہے اس لیے جھوٹ اور باطل ہے قرآن مقدس کی تعلیم یہ ہے کہ ہر قسم کا نفع و نقصان بیماری اور تندرستی خوشحالی اور غم حالی فتح اور شکست خوشی اور غمی صرف اور صرف اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے وہ اپنی حکمت کی بنا پر اپنے مقبول بندوں کو آزمانے کے لیے اور ان کو ان کی استقامت کو ظاہر کرنے کے لئے ان حضرات کو مصائب و مشکلات تنگدستی بیماری اور دوسری تکلیف وغیرہ میں مبتلا کرتا ہے جیسا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو بہت ساری تکلیف پہنچی بلاخر جسمانی بیماری سے آزمایا گیا اور بالآخر صبرواستقامت کے بدلے اللہ تعالی نے اس کو کامیابی کا تمغا دے کر ایک ہی لحظہ میں بیماری سے شفا دے کر پہلے سے زیادہ مال اور اولاد بھی عطا فرمائے اور بعض اوقات اللہ تعالی انسان کی بد اعمالی کی وجہ سے بھی اس کو مصائب اور مشکلات میں ڈالتا ہے تاکہ وہ اپنی بد اعمالی سے باز آجائے ایسے لوگوں کی تکلیف کا سبب اگرچہ ان کی بد اعمالی ہوتی ہے لیکن تکالیف اور مصائب کا پہنچنا اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے یہی قرآن کی تعلیم ہے اس کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا

 وجود رسول و آل رسول قبل مخلوق تھا

حضرت امام باقرعلیہ السلام نے ابو بصیر سے فرمایا

 یاابا البصیر منا رب العرش والکرسی منا رب السماوات والارض ومنا رب الشمس والقمر والکواکب والحجب والسرادق ونحن ارباب ذالک الاسباب وان اللہ ھو الارباب

 ترجمہ ۔ہم ہیں رب عرش و کرسی کے اور ہم ہیں رب آسمان و زمین کے اور ہم ہیں رب انبیاء و ملائکہ کے اور ہم ہیں رب لوح و قلم کے اور ہم ہیں رب جہانوں کے اور ہم ہی ہیں رب  شمس و قمر وکواکب اور حجاب ہائے قدس وجلال وصادق عظمت و کمال کے اور ہم ہی ہیں رب چیزوں کے رب اور خداوندکریم رب الارباب ہے

 اور امام باقر نے فرمایا کہ ہم ہیں افضل کائنات اور اشرف موجودات ہیں جملہ ماسوااللہ پر حاکم و متصرف ہیں اور جناب علی علیہ السلام کے نورانی قطرات سے انبیاء و ملائکہ  پیدا ہوئے پس وہ جمیع انبیاء و ملائکہ سے افضل ہیں اور انکی تدبیر و ترتیب ان یعنی علی علیہ السلام کے سپرد ہوئی اس لیے وہ علی رب انبیاءو ملائکہ ہیں اے ابو البصیر جناب سید النساء کے نورانی قطرات سے خداوندنے آسمان و زمین کو پیدا کیا ۔۔۔۔بس وہ معصومہ تمام زمین و آسمان واہل زمین و آسمان سے افضل ہیں اس لئے تدبیر وترتیب آسمان و زمین کی ان فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سپرد ہوئی اور وہ رب السموات والارض ہیں

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 23 تا 26 مقدمہ اول

 درجہ ولایت مطلقہ

فوق درجہ نبوت و رسالت و امامت درجہ ولایت ہے

صفحہ 8 از 18