اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 7 از 18

انکا رب ان کو خوشبودار ٹھنڈا پانی پلائے گا اور میٹھے پانی کا چشمہ حوض کوثر ہے اور ساقی حوض کوثر مولا علیہ السلام ہیں یعنی قرآن نے جس کو رب کہا وہ ساقی کوثر علی علیہ السلام ہے

انبیاء نے تبلیغ فرمائی توحید کی معبود کی اور اللہ کی لیکن جب آفات آئیں تو پکارا ہے رب علیؑ کو

 جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ نمبر 63 تا 66

 تبصرہ۔۔

شیعہ مصنف نے جلی الفاظ میں عنوان دیا  انبیاء نے علی کو پکارا۔اور دلیل یہ دی کہ رحمان اور رحیم قابض قادر حی خالق رب رازق ناصر وغیرہ  اللہ کے نام ہے اور یہ اللہ کے نام محمد و آل محمد اور یہ اللہ نہیں بلکہ اللہ کی صفات ہیں

 جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 64

ظاہر ہے کہ ایسا عقیدہ کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا کیونکہ جس طرح اللہ قدیم ہے اس طرح کی ہر صفت بھی قدیم ہے کوئی صفت بھی اس کی ذات سے جدا نہیں۔

اور دوسری طرف حضرت محمد اور آل محمد حادث ہیں قدیم نہیں کیوں کہ مخلوق ہیں خالق نہیں۔اور مغلوب ہیں غالب نہیں اور مرزوق ہیں رازق نہیں۔اور ہر وقت اللہ کے سامنے عاجز اور مجبور ہیں خود اپنی ذات کے لئے بیماری اور تندرستی فتح اور شکست مالداری اور تنگدستی خوشی اور غمی زندگی اور موت پر بھی قادر نہیں ۔

شیعہ مصنف کا ان حضرات کو اللہ تعالی کی  صفات کہنا سراسر غلط ہے اور توحید باری تعالی کے خلاف ہے اور دوسری بات یہ کہ شیعہ مصنف نے انبیاء علیہ السلام کی وہ دعائیں جن میں انہوں نے اپنے رب یعنی اللہ کو پکارا ہے ان دعاؤں کو نقل کرکے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ رب علیؑ ہے  ۔

شیعہ مصنف کا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام پر تہمت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس حقیقت کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے

 ۔۔۔۔حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ

(214)

اس آیت میں اللہ تعالی نے انبیاء کی پکار کو واضح کردیا کہ انہوں نے مصائب میں رب کو پکارا تھا یعنی اللہ کو پکارا تھا نہ کہ انہوں نے حضرت علی کو پکارا

لہذا اللہ تعالی کی خبر کے انبیاء نے رب یعنی اللہ کو پکارا سچ ہے اور شیعوں کا کہنا کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے رب یعنی علی کو پکارا یہ سراسر جھوٹ ہے

شیعہ مصنف کا یہ کہنا کے  وسقاھم ربھم شراباًطھورا آیت کریمہ میں رب سے مراد حضرت علی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ حوض کوثر کو مومنین کے لئے اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہےاس بنا پر حوض کوثر پلانے والا حقیقی طور پر مافوق الاسباب کے لحاظ سے اللہ تعالی ہی ہے باقی مجازی طور پر ماتحت الاسباب کے لحاظ سے رسول اللہ کی نگرانی میں حوض کوثر سے بھر کر پلانے والے فرشتے ہوں گے ظاہر ہے کہ شیعہ مصنف نے فرعون کی طرح اپنے آپ کو تو رب نہ کہہ سکا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو انبیاء کارب کہہ کر توحید اور انبیاء علیہ الصلاۃ کی دشمنی کی بھڑاس نکالی۔۔

 ظاہری پیدائش سے قبل علیین کا وجود

محمد و آل محمد علیہ السلام علین ہیں اور تخلیق عالمین سے قبل تخلیق کے ساتھ اور نیز بعد میں ہر زمانے میں ہر نبی کے ساتھ ان علیین کا وجود رہا ہے (یہ رب ہیں) لفظ رب بتاتا ہے کہ یہ موجود تھے جناب عبداللہ اور جناب ابوطالب کے گھر سرزمین مکہ میں تو یہ لوگ لباس بستر میں آئے ہیں

 سوال  کیا یہ صرف انبیاء کی مدد کرتے رہے یا تمام مخلوق کی ؟؟

 تمام مخلوق کی جس نے پکارا اس کی اور جس نے نہیں پکارا اس کی بھی مدد کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔

 جلاء العیون جلد 2 صفحہ 66 اردو مقدمہ ثانی

 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو مولا علی علیہ السلام نے فرمایا اے سلمان یہ دنیا عالم اسباب ہے یہاں آنا بھی اسباب کے تحت اور جانا بھی اسباب کے تحت ہے اور رہنا بھی اسباب کے تحت ہے مگر ہم محمدوآل محمد اسباب کے محتاج نہیں بلکہ اسباب ہمارے محتاج ہیں ہمارے متعلق کبھی بھی کسی طرح کا شک نہ کرنا

 جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 68

 تبصرہ۔ ۔۔

ان عبارات میں شیعہ مصنف نے محمد و آل محمد کو تخلیق عالمین سے قبل ان کا وجود کے ساتھ موجود ہونا بتایا اور صاف کہا کہ یہ حضرات تمام انبیاء کے مددگار ہی نہیں بلکہ تمام مخلوق کی مدد کیا کرتے تھے کوئی پکارے یا نہ پکارے سب کے مددگار تھے لیکن شیعہ مصنف نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی تو ظاہر ہے یہ عقیدہ من گھڑت ہونے کے ساتھ ساتھ شرکیہ عقیدہ بھی ہے کیوں کہ قرآن مقدس میں واضح طور پر موجود ہے کہ تمام انبیاء علیہ السلام نے مصائب کے وقت اللہ کو پکارا اور اللہ تعالی نے ان کی غیبی مدد فرمائی پرشیعہ مصنف نے محمد و آل محمد کو ظاہری پیدائش سے قبل وجود کے ساتھ موجود ہونے کا عقیدہ رکھ کر خود ان حضرات کی توہین کی ہے

کیونکہ کسی کو اپنے ماں باپ سے پہلے موجود ماننا یہ اس کی توہین بلکہ یہ ایک قسم کی گالی ہے کہ یہ اپنے ماں باپ سے بھی پہلے کا ہے اور دوسری عبارت میں شیعہ مصنف نے صاف لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ہم اسباب کے محتاج نہیں اس کا مطلب ہوا کہ وہ اپنے ماں باپ کے اسباب سے پیدا ہونے کے محتاج نہیں تھے یعنی ان کو والدین کی ضرورت ہی نہیں تھی اور آگے لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کے اسباب ہمارے محتاج ہیں ۔تو ظاہر ہے کہ یہ شان صرف اللہ تعالی کی ہے کیونکہ وہ خود مسبب الاسباب ہے باقی تمام مخلوق اسباب کے ماتحت ہیں مخلوق میں سے کسی کو اسباب سے فوق سمجھنا یہ خالص شرک ہے

 ایک وقت میں سب آوازوں کی سماعت

 ایک وقت میں عالمین میں مختلف آوازیں امداد کے لیے پکار رہی ہیں بلند آواز سے اور آہستہ بھی اور بعض گونگے بھی اور بعض دل ہی دل میں پکار رہے ہیں ان تمام آوازوں میں یہ شناخت کیسے کرتے ہیں کہ یہ فلاں کی آواز ہے اور یہ فلاں کی ہے یہ سوال اور خیال اگرچہ بہت وزنی ہے مگر لایعنی ہے

 جواب۔ ۔کیوں کہ محمد و آل محمد مظہر صفات واجب الوجود ہیں

(پہلے لکھا تھا کہ یہ اللہ تعالی کی صفات ہیں صفحہ نمبر64 جلاءالعیون )

 ان پر نہ نیند طاری ہوتی ہے اور نہ آونگھ ان پر خوف طاری نہیں ہوتا ہر لمحہ اور ہر گھڑی مخلوق کی آواز کو سن رہے ہیں ۔۔،۔۔۔۔۔۔۔ہر اواز کو علیحدہ علیحدہ شناخت بھی کر رہے ہیں اور جواب بھی دے رہے ہیں

صفحہ 7 از 18