اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 6 از 18

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال العباد لایعزب عنی شی‏ء فی الارض ولافی السماء.

وقال (علیه السلام): انا مصباح الهدی، انا مشکوة الذی فیها نور المصطفی، انا الذی لیس عمل عامل الا به معرفتی.

وقال (علیه السلام): اناخازن(532) السموات وخازن الارض، اناقائم بالقسط، انا عالم بتغیر الزمان وحدثانه، انا الذی

اعلم عدد النمل ووزنها وخفتها ومقدار الجبال ووزنها وعدد قطرات الامطار.

وقال (علیه السلام): انا آیة الکبری التی اراها الله فرعون وعصی.

وقال (علیه السلام): انا اقتل القتلتین احیی مرتین واظهر الاشیاء کیف شئت‏

وقال (علیه السلام): انا الذی رمیت وجه الکفار وبکف تراب فرجعوا هلکی، انا الذی جحدوا ولایتی الف امة فمسخوهم.

وقال (علیه السلام): انا المذکور فی سالف الزمان وخارج وظاهر فی آخرالزمان.

وقال (علیه السلام): انا قاصم فراعنة الاولین ومخرجهم ومعذبهم فی الاخرین، انا معذب الجبت والطاغوت ومحرقهم ومعذبهم یغوث ویعوق ونسراً.

وقال (علیه السلام): انا متکلم بسبعین لساناً ومفتی کل شی‏ء علی سبعین وجهاً، انا الذی اعلم ما یحدث فی اللیل والنهار أمراً بعد امر وشیئاً بعد شی‏ء الی یوم القیمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی اثنان وسبعون اسماً من اسماء العظام.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال الخلایق فی مشارق الارض ومغاربها لایخفی علی منهم شی‏ء.

وقال (علیه السلام): انا الکعبة والبیت الحرام والبیت العتیق، انا الذی یملکنی الله شرق الارض وغربها فی طرفة عین ولمح البصر.

وقال (علیه السلام): انا محمد المصطفی، انا علی المرتض کما قال النبی (صلی الله علیه و آله و سلم): علی ظهر منی، انا الممدوح بروح القدس، انا المعنی الذی لایقع علیه اسم ولا شبه.

وقال (علیه السلام): انا اظهر الاشیاء الوجودیة کیف اشاء، انا باب حطتهم(537) التی یدخلون فیها.

 مختصر ترجمہ۔۔

جناب علی علیہ السلام نے اپنے بعض خطبات میں ارشاد فرمایا ہے میں وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں بعد رسول میرے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔میں وہ ذوالقرنین ہوں جس کا ذکر صحف اولی میں ہے ۔۔میں خاتم سلیمان کا مالک ہوں  میں یوم حساب کا مالک ہوں میں صراط اور میدان حشر کا مالک ہوں میں قاسم جنت و نار ہوں میں اول آدم ہوں میں اول نوح ہوں میں جبار کی آیت ہوں میں اسرار کی حقیقت ہوں میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں میں پھلوں کا پکانے والا ہوں میں چشموں کا جاری کرنے والا ہوں  نہروں کو بہانے والا ہوں میں علم کا خزانہ ہوں میں حلم کا پہاڑ ہوں میں امیرالمومنین ہوں چشمہ یقین ہوں میں زمین وآسمان میں حجت خدا ہوں میں متزلزل کرنے والا ہوں میں بجلی کی کڑک ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ نور ہو جس سے موسی علیہ السلام نے ہدایت کا اقتباس کیا ۔۔

صور کا مالک ہوں میں قبروں سے مردوں کو نکال کر زندہ کرنے والا ہوں میں یوم النشور کا مالک ہوں ۔میں ایوب بلا رسیدہ کا صاحب اور اس کو شفا دینے والا ہوںں

آسمانوں کو قائم کرنے والا ہوں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ حی ہوں جسے موت نہیں میں تمام مخلوقات پر ولی حق ہوں میں وہ ہوں جس کے سامنے بات نہیں بدل سکتی مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے میں وہ ہوں جسے امر مخلوق تفویض کیا گیا

میں خلیفة اللہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آگے شیعہ مصنف لکھتا ہے کہ مولیٰ کائنات کا یہ فرمان خلاف قرآن اور اسلام نہیں بلکہ عین اسلام ہے

 شیعہ مصنف سید ظہور الحسن خطیب شیعہ ملتان جلاءالعیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 61 ۔60

 عبارت نمبر 3

 انبیاءؑ نے علیؑ کو پکارا

آدم سے لے کر آج تک اور تا قیامت ہر زمانے میں انبیاء صلحا رسول مومنین یا جس نے بھی پکار کی محمدوآل محمد نے ان کی مدد کی ماقبل میں علی رضی اللہ عنہ کے خطبات کے الفاظ گزرے

نوح کو نجات دینے والا اور ایوب کو شفا دینے والا میں ہوں (جب کہ ابھی تو یہ حضرات مکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے تو مددکیسے کرتے تھے)

 کیا انبیاء نے ان کو پکارا ؟؟

 کیا انہوں نے ان کی مدد کی ؟؟

 قرآن کیا کہتا ہے ؟؟؟

لہٰذا ملاحظہ ہو رحمان رحیم قابض عادل عالم حی مدرک باعث خالق رب رازق ناصر معین ولی وغیرہ یہ اللہ کے نام ہیں

اور ماقبل یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ یہ اللہ تعالی کے نام صفات محمد و آل محمد ہیں ۔۔

اب یہ اللہ نہیں بلکہ یا اللہ کی صفات یا اللہ کے نام ہیں ۔اپنے اپنے دور میں مصائب میں انبیاء نے پکارا ہے اللہ کو رب کے نام سے اللہ اور رب دونوں ایک نہیں ہیں  بلکہ اللہ اور ہے  اور رب اور ہے

حضرت آدم سے لے کر جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تک انبیاء کرام نے پرچار کیا ہے اللہ کا اور جب ان پر مصائب پڑے تو پکارا ہے انہوں نے رب کو

 جناب جناب آدم اور حوا علیہ الصلاۃ والسلام نے کہا

  رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

 حضرت نوح نے آواز دی

 وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ

 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا

 انی ذاھب الٰی ربی سیھدین

 اور ایوب علیہ الصلاۃ والسلام جب مصائب سے دوچار ہوئے اولاد وفات پا گئے گھر تباہ ہوگیا خود بیماری میں لاغر اور نحیف ہوگئے

 وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ۸۳

 حضرت زکریا نے پکارا

 وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ

 موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے پکارا

 قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (25)

 صالح صلوۃوسلام نے قوم کے مقابل اور زندان میں جس ذات کو پکارا وہ ہے رب

 خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جنگ اور ہر مقام مشکل میں اگر فرمایا ہے تو

 وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا (80)

مطلب یہ کہ ہر ایک نبی نے مصائب میں پکارا ہے رب کو

 اب قرآن میں دیکھتے ہیں کہ رب سے کون مراد ہے

 ۔۔وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا۔

صفحہ 6 از 18