اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 18

اس کی وہ اس طرح معنوی تحریف کرتے ہیں  فلاں فلاں کے اولیاء ہے جنکو انہوں نے اس امام کے سوا امام بنا لیا جس کو اللہ تعالی نے لوگوں کےلیے امام بنایا تھا

 الغیبۃ للنعمانی صفحہ 83

 بحارالانوار جلد 23 ص 360

 البرھان جلد 3 صفحہ 172

 فاقم وجھک للدین حنیفا۔

 الروم 30

 اس آیت میں ولایت مراد ہے

 تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 153

 الکافی جلد 1 صفحہ 418 419

 کنز جامع الفوائد صفحہ 224

 بحارالانوار جلد 23 صفحہ 365

 البرھان جلد 3 صفحہ 261

 وویل للمشرکین۔الذین لایوتون ۔۔۔

 فصلت۔ 6۔7

 ان مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے جنہوں نے امام اول کے ساتھ شرک کیا اور وہ دیگر ائمہ کا انکار کرنے والے ہیں

 تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 262

 بحارالانوار جلد 23 صفحہ 83 84

 البرھان جلد 4 صفحہ 106

 تفسیر الصافی جلد 4 صفحہ353

 روایت

 ہر وہ آیت جس کا ظاہری مفہوم ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے اللہ کے ساتھ غیروں کو رب بنایا اور بتوں کو شریک بنایا جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ۔پھر ان کی تعظیم کی ان کے ساتھ محبت رکھی ان کی عبادت کا التزام کیا ان کو اپنے رب کا شریک بنا دیا اور اپنی آراء اور خواہشات کی پیروی میں نہ کے اللہ کے حکم کے ساتھ کہا کہ وہ ہمارے اللہ کے ہاں سفارش کرنے والے ہیں اس کا باطنی معنی ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے آئمہ نصب کیے ان کی تعظیم کی ان سے محبت کی ان کی فرمانبرداری کا التزام کیا اور ان کو اپنے اس امام کا شریک بنا دیا جس کو اللہ نے ان کے لیے متعین کیا تھا

 مراۃالانوار صفحہ۔ 58 اور100

 روایت

اللہ تعالی کے ساتھ شرک اور اس کی عبادت میں شرک کی تاویل ولایت اور امامت میں شرک کے ساتھ کرنے کے متعلق روایات کثیر تعداد میں موجود ہیں یعنی امام کے ساتھ اس کو شریک کرنا جو اہل امامت سے نہیں اور آل محمد یعنی بارہ اماموں کی ولایت کے ساتھ غیر کی ولایت اختیار کرنا

 مراۃ الانوار صفحہ 202

 نوٹ

 تاویل کے فساد اور اس کے سبب امت کو جو مصائب جھیلنے پڑے اس کے متعلق امام ابن قیم نے بڑی عمدہ گفتگو فرمائی ہے ان کا کہنا ہے کہ دین اور دنیا کی خرابی کی اصل جڑ وہ تاویل ہے جو اللہ تعالی اور اس کے رسول نے اپنے کلام سے مراد نہ لی ہو نہ کوئی ایسی دلیل ہو جو اس پر دلالت کرے کہ اس سے مراد وہی تاویل معنی ہے

 اعلام الموقعین جلد 4 صفحہ 250 ۔ 253

 نتیجہ۔

ان کے علاوہ بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ آیات موجود ہیں لیکن بارہ اماموں کی امامت کا قرآن کریم میں مطلقاً کہیں کوئی ذکر نہیں شیعہ اپنی روایات اور عبارات میں بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں جیسے کہ ہم ماقبل عبداللہ ابن سبا کے ذکر میں مذکور کرآئے ہیں۔لہذا یہ خطرناک تحریفات اور تاویلات دین میں بہت بڑی بدعت سازی دین کی عظیمت سے توجہ ہٹانے شرک کے دروازے کھولنے اور وسائل شریک مہیا کرنے کی بہت بڑی جسارت ہے

 شیعہ کتب کی کچھ عبارت

 عبارت نمبر1

شیعوں کا سید الواعظین رئیس المتقین زبدۃ العلماء فاضل جلیل جناب ابوالبیان سید ظہور الحسن صاحب

باقر مجلسی کی کتاب جلاء العیون جلد نمبر 2 کے مقدمہ میں لکھتا ہے کہ فرمان صادق آل محمد علیہ السلام ہے کہ

 لنا مع اللہ حالة نحن فیہا ھو و ھوفیہانحن مع ذالک ھو ھوونحن نحن

 ترجمہ۔ ۔۔ہمارے اللہ کے ساتھ ایسے حالات ہیں جس میں ہم وہ یعنی اللہ ہوتے ہیں اور وہ ہم ہوتا ہے اس طور پر ہونے کے باوجود وہ وہی اللہ ہے اور ہم آئمہ ہم ہی ہے

 جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ نمبر 63

 عبارت  نمبر 2

خطبة البیان

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی مفاتیح‏الغیب لا یعلمها بعد محمد (صلی الله علیه و آله و سلم) غیری‏

وقال (علیه السلام): انا بکل شی‏ء علیم.

وقال (علیه السلام): انا الذی قال خیر رسول الله: انا مدینة العلم وعلی بابها.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین المذکور فی الصحف الاولی.

وقال (علیه السلام): انا الحجرالمکرم التی(152) یتفجر منه اثنتا عشرة عیناً.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی خاتم سلیمان.

وقال (علیه السلام): انا الذی اتولی حساب الخلایق.

وقال (علیه السلام): انا اللوح المحفوظ.

وقال (علیه السلام): انا مقلب القلوب والابصار (ان الینا ایابهم ثم ان علینا حسابهم).(181)

وقال (علیه السلام): انا الذی قال رسول الله(189) (صلی الله علیه و آله و سلم): یا علی، الصراط صراطک والموقف موقفک.

وقال (علیه السلام): انا الذی عنده علم الکتاب علی ما کان وما یکون.

وقال (علیه السلام): انا آدم الاول، انا نوح الاول. انا ابراهیم الخلیل حین القی(198) فی النار. انا موسی مونس المومنین.

وقال (علیه السلام): انا مفجر العیون، انا مطرد الانهار.

وقال (علیه السلام): انا داحی الارضین، انا سماک السموات.

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی فصل الخطاب، انا قسیم الجنة والنار.

وقال (علیه السلام): انا ترجمان وحی الله، انا معصوم من(231) عندالله.

وقال (علیه السلام): انا حجة الله علی من فی السموات وعلی من فی الارضین.

وقال (علیه السلام): انا خازن علم الله، انا قائم بالقسط.

وقال (علیه السلام): انا دابة الارض.(246)

وقال (علیه السلام): انا الراجفة وانا الرادفة.(249)

وقال (علیه السلام): انا الصحیحة بالحق یوم الخروج الذی لا یکتم عنه(254) خلق السموات والارض.

وقال (علیه السلام): انا اول(261) ما خلق الله حجة وکتب علی حواشیه لااله الا الله، محمد رسول الله، (صلی الله علیه و آله و سلم) علی ولی الله ووصیه (علیه السلام).

وقال علیه السلام:(277) ثم خلق الارضین فکتب اطرافها لا اله الا الله محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) وعلی وصیه (ع).

وقال علیه السلام: ثم خلق اللوح فکتب علی حدوده لا اله الا الله، محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) علی وصیه (ع).

وقال (علیه السلام): انا الساعة التی(279) اعتد لمن کذب بها سعیراً.

وقال (علیه السلام): انا (ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین).(294)

وقال (علیه السلام): انا اسماء الله الحسنی التی امر الله ان یدعی بها.

وقال (علیه السلام): انا النور الذی اقتبس منه موسی فهدی.

وقال (علیه السلام): انا هادم القصور.

وقال (علیه السلام): انا مخرج المومنین من القبور.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی الف کتاب من کتب الانبیاء.

صفحہ 4 از 18