اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 3 از 18

 اس آیت کا معنیٰ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بالکل واضح ہے اور یہ صرف اس شخص پر مشتبہ ہوسکتا ہے جو ہوائے نفس کا غلام اور خود غرض اور اس کی خواہش پرستی نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہو اور وہ حق کو دیکھنے سے قاصر ہوں اس کا سب سے بڑا مقصد اور اہم فکر اپنے دعوی امامت کی سند تلاش کرنا تھی اس لیے یہ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارتے رہے اور دین اور شریعت تو ایک طرف رہی ان کا استدلال لغت یا عقل کی کسی دلیل پر بھی مبنی نہیں

 دوسری آیت

Surat No 40 : Ayat No 12

ذٰلِکُمۡ  بِاَنَّہٗۤ  اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ  وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ  لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

یہ  ( عذاب )  تمہیں اس لئے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے  تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے ۔

آیت کی تفسیر میں ابو جعفر سے مروی ہے کہ تم علی کی ولایت کا انکار کرتے ہو اور جس کی ولایت نہیں اس کو اس کی ولایت میں شریک کرتے ہو اور اس پر ایمان رکھتے ہو بس حکم تو بلند و بالا اور بہت بڑے اللہ ہی کے لیے ہے

 کنز جامع الفوائد صفحہ 277

 بحارالانوار جلد 23 صفحہ 363

 تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 256

 اصول الکافی جلد 1 صفحہ 461

 البرھان جلد 4 صفحہ 93 94

 تفسیر الصافی جلد 4 صفحہ 337

Surat No 40 : Ayat No 12

ذٰلِکُمۡ  بِاَنَّہٗۤ  اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ  وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ  لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

یہ  ( عذاب )  تمہیں اس لئے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے  تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے ۔

 سیاق آیت واضح ہے مشرکین ایک اللہ کی عبادت سے اعراض کرتے ہیں دراصل یہ الفاظ مشرکین کی بات کا جواب ہے جب انہوں نے جہنم سے نکالنے اور دوبارہ دنیا میں بھیجنے کی درخواست کی اور کہا

 فھل الی خروج من سبیل  کیا اس سے نکلنے کی کوئی راہ ہے تو ان کو یہ جواب دیا گیا

Surat No 40 : Ayat No 12

ذٰلِکُمۡ  بِاَنَّہٗۤ  اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ  وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ  لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

یہ  ( عذاب )  تمہیں اس لئے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے  تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے ۔

 یہ آیت ماقبل آیات سے ملکر آخرت میں مشرکوں کی سزا کی خبر دیتی ہے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے وہ اس سے کبہی نہیں نکلیں گے اور وہ دنیا میں لوٹ جانے کی درخواست کریں گے لیکن ان کے اللہ تعالی کی عبادت میں شرک کرنے کی وجہ سے ان کی درخواست قبول نہیں ہوگی

 تفسیر الطبری جلد 24 صفحہ 48

 تفسیر البغوی جلد 4 صفحہ 93

 تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 79 80

 فتح القدیر جلد 4 ص 484

 تفسیر القاسمی جلد 14 صفحہ 227

 تیسیر الکریم الرحمن جلد 6 صفحہ 512

 تیسری آیت

 Surat No 27 : Ayat No 60

اَمَّنۡ  خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ  لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾

بھلا بتاؤ تو؟  کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دئیے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہرگز نہ اگا سکتے ،   کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں ( سیدھی راہ سے ) ۔

 اس آیت کی تفسیر میں بھی ان کی روایات اس گمراہ منہج اور تاویل فاسد کی راہ پر گامزن ہے ابو عبداللہ سے مروی ہے

( جس طرح یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں)

کیا انہوں نے کہا یعنی کیا ایک ہی صدی میں امام ہدایت کے ساتھ امام ضلالت بھی موجود ہے

 بحارالانوار جلد 23 صفحہ 391

 کنز جامع الفوائد صفحہ 207

 یہ اور اس جیسی دیگر روایات انفال رجحانات کی نشونما کے لیے بڑی زرخیز مٹی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الٰہ قرار دیتے ہیں اور جو ان کے گھروں میں وقتا فوقتا ظاہر ہوتے رہتے ہیں وگرنہ اس آیت کا ان کے امام کے ساتھ قطعا کوئی تعلق نہیں

 اللہ تعالی آیت کے آخر میں فرماتے ہیں ءَ اِلٰہٌ  مَّعَ اللّٰہِ ؕیعنی کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جس نے یہ کیا ہے یہ استفہام انکاری ہے جو اس کی نفی پر مشتمل ہے وہ لوگ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ یہ کام اللہ کے علاوہ کسی دوسرے نے نہیں کئے تو اللہ تعالی نے اس بات کو ان کے خلاف بطور حجت پیش کیا اور اس کا یہ تقاضہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے

 شرح الطحاویہ صفحہ25

 چوتھی آیت

 Surat No 21 : Ayat No 25

وَ مَاۤ  اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ  اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۲۵﴾

تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو ۔

 اس آیت کی تفسیر میں شیعہ روایات وضع کرنے والے گروہوں نے جو معنی وضع کیے

 ما بعث اللہ من نبیا  الا بولایتناوالبراة من اعدائنا

 اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر ہمارے ولایت کے ساتھ اور ہمارے دشمنوں سے برات کے ساتھ

 البرھان جلد 2 صفحہ 368

 تفسیر العیاشی

 تفسیر الصافی جلد 3 صفحہ 137

 دوسری روایت

ولایتناولایةاللہ التی لم ینعث نبیاقط الا بھا

 ہمارے ولایت اللہ تعالی کی وہ ولایت ہے کہ اس نے جو نبی بھی بھیجا اس کو یہ دیکھ کر بھیجا

 الکافی جلد 1 صفحہ 437

  ان آیات کے علاوہ اور بہت ساری ایسی آیات ہیں جن میں شیعہ مفسروں نے اپنے ائمہ کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے

  Surat No 2 : Ayat No 165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ

صفحہ 3 از 18