اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 18

کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے  انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سُن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے ۔

 منت صرف اللہ کا حق ہے۔

Surat No 2 : Ayat No 270

 وَ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ  اَنۡصَارٍ ﴿۲۷۰﴾

تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو  اسے اللہ تعالٰی بخوبی جانتا ہے ، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔

 ترجمہ فرمان علی شیعہ ۔

اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو یا کوئی منت مانو خدا اس کو ضرور جانتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ ظالموں کا یعنی جو خدا کا حق مار کر اوروں کی نزر کرتے ہیں قیامت میں کوئی مددگار نہ ہو گا

 پریشان حال کی پکار کو قبول کر کے اللہ ہی مصیبت دور کرتا ہے۔

  Surat No 27 : Ayat No 62

 اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ  خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾

بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے  کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے ؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنانا ہے  کیا اللہ تعالٰی کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو ۔

ترجمہ فرمان علی شیعہ۔

بھلا وہ کون ہے کہ جب مضطر پریشان حال اسے پکارے تو وہ دعا قبول کرتا ہے اور مصیبت کو دور کرتا ہے اور تم لوگوں کو زمین میں ایک دوسرے کا نائب بناتا ہے تو خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ہرگز نہیں اس پر بھی تم لوگ بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو

 خلاصہ

 غیبی مدد کے لیے پکار صرف اللہ کا حق ہے
 پریشان حال کی پکار کو قبول کرکے اللہ مصیبت دور کرتا ہے
 منت صرف اللہ ہی کا حق ہے
 ہر دور کے ہر رسول اور تمام مومنین نے غیبی مدد کے لئے صرف اللہ ہی کو پکارا ہے
 اللہ کے سوا کسی سے غیبی مدد ہو ہی نہیں سکتی
 غیبی مدد کے لیے مخلوق میں سے کسی کو پکارنا پانی کو پکارنے کی طرح ہے ، جس طرح پانی کسی کی پکار پوری نہیں کر سکتا اسی طرح مخلوق میں سے کوئی بھی غیبی مدد کے لیے پکارنے والے کی پکار کو پورا نہیں کر سکتے

اسلام میں توحید کے مفہوم کو سمجھنے کے بعد اب ہم مذہب شیعہ کی کتابوں سے کچھ عبارتیں نقل کرکے دیکھتے ہیں کہ شیعہ مصنفین نے توحید باری تعالیٰ کا کتنا لحاظ رکھا ہے۔

 شیعہ مذہب کا پہلا اصول توحید

 توحید کی وہ آیات جو شیعہ نے ولایت ائمہ پر محمول کی ہیں۔

سب سے پہلے ہم وہ قرآنی آیات جو خدا واحد کی عبادت کا حکم دیتے ہیں انہوں نے ان کا معنی حضرت علی اور ائمہ کی امامت میں تبدیل کر دیا ہے اور وہ نصوص جو شرک سے منع کرتی ہیں انہوں نے ان سے مقصود آئمہ کی ولایت میں شرک کرنا قرار دیا ہے۔

  پہلی آیت

وَ لَقَدۡ  اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ  اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾

یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے  ( کے تمام نبیوں ) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو ضیاع کاروں میں سے ہو جائے گا ۔

 البرہان کے مصنف نے تفسیر قرآن میں اس سابقہ آیت کی تفسیر میں اس مذکورہ مفہوم کی چار روایات درج کی ہیں

 البرہان جلد 4 صفحہ 83

 اس آیت کا شان نزول شیعہ مفسرین نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے

اللہ تعالی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے لئے ولی متعین کیا تو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر چغلی لگائی کہ اس کی ولایت میں پہلے اور دوسرے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو بھی شریک کر لیں تاکہ لوگ آپ کی بات سے مطمئن ہوجائے اور آپ کی تصدیق کریں پھر جب اللہ تعالی نے یہ آیت

 یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ۔۔۔

 اے رسول پہنچا دے جو کچھ تیری طرف  تیرے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے

نازل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے شکایت کی کہ لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور میری بات نہیں مانتے تو پھر اللہ تعالی نے یہ آیت

 لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین ۔۔

 بلاشبہ اگر تونے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا

 البرھان جلد 4 صفحہ 83

 ہم اس آیت کا سیاق و سباق اور تفسیر ذکر کرتے ہیں تاکہ قاری ان کے قرآن کریم میں تحریف کی حدود اور دین کی عظیم بنیاد توحید میں تبدیلی کرکے دین اسلام میں تحریف کی سازش کا ادراک کر سکے

Surat No 39 : Ayat No 64

 قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ  تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ  اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾

آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو ۔

   Surat No 39 : Ayat No 65

وَ لَقَدۡ  اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ  اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾

یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے  ( کے تمام نبیوں ) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیا کاروں میں سے ہو جائے گا ۔

Surat No 39 : Ayat No 66

 بَلِ اللّٰہَ  فَاعۡبُدۡ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر  اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا ۔

 مشرکین نےجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتوں کی پوجا پر مبنی اپنے دین کی دعوت دی اور کہا گیا تیرے آباواجداد کا دین ہے تو اللہ تعالی نے اپنے نبی سے کہا کہ مشرکوں کو یہ جواب دیں

 تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 8

 تفسیر البغوی جلد 4 صفحہ 283

 تفسیر طبری جلد 24 صفحہ 24

 تفسیر قرطبی جلد 15 صفحہ 276۔277

 البحر المحیط ۔جلد 7 صفحہ 438

 فتح القدیر جلد 4 صفحہ 473

 روح المعانی جلد 24 صفحہ 23 24

صفحہ 2 از 18