اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 17 از 18

 تاریخ الفرق الاسلامیہ صفحہ 300

اس کے متعلق بعض معتزلہ اور زیدیہ کی کتابوں نے بھی گفتگو کی معتزلہ میں سے جاحظ نے یہ بات نقل کی ہے

رافضہ نے کلام کیا اور اس کی صورت اور جسم قرار دیا اور ہر اس شخص کو کافر قرار دیا جس نے تجسیم اور تصویر کے بغیر رؤیت کا قول اختیار ہے

 رسالہ الجاحظ فی بنی امیہ صفحہ 90

اسی طرح ابن الخیاط اور قاضی عبدالجبار نے بھی کہا ہے زیدیہ میں سے ابن المرتضی یمانی نے کہا ہے روافض کی اکثریت ان کے سوا جن کا معتزلہ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا تجسیم کے قائل ہے

 المنیة والعمل صفحہ 19

 الحورالعین صفحہ 148 149

 الانتصار صفحہ 14

 تثبیت دلائل النبوۃ جلد 1 صفحہ 225

 الملل والنحل جلد 11 صفحہ 162

 العلم الشامخ صفحہ 319

لہذا اللہ تعالی سبحانہ کو اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دینا یہود کا نظریہ تھا جو شیعیت میں سرایت کر گیا کیونکہ شیعیت ہر اس شخص کے لیے اپنی باہیں پھیلا دیتی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف کوئی سازش کرنا چاہتا ہوں چنانچہ سب سے پہلے اس کام کا بیڑہ ہشام بن حکم نے اٹھایا پھر اس کا اثر ان لوگوں تک پھیل گیا جو عقائد اور نظریات کی کتابوں میں گمراہ اور غالی مذاہب کے سربرآوردہ تھے کے نام کی طرف یہ مذاہب منسوب تھے

لیکن شیعہ علماء گمراہیوں کا دفاع کرتے ہیں جن کے فتنے کے خبر عام ہو چکی ہیں اور ان کا شر ہر طرف پھیل چکا ہے لہذا وہ ان کی طرف منسوب ہر شر کی تاویل یا تقدیر کا تکلف کرتے ہیں

مجلسی کہتاہے

شاید مخالفین نے ان دونوں یعنی ہشام بن حکم اور ہشام بن سالم جوالیقی کی طرف یہ دونوں اقوال تجسیم اور تصور کا قول ان دونوں کے ساتھ عناد رکھتے ہوئے منسوب کر دیے ہیں

 بحار الانوار جلد 3 صفحہ 290 صفحہ 292 صفحہ 288

 نوٹ۔ مسلمانوں میں اس بدعت کے پھیلانے میں اصلاہاتھ اس شخص جو شخص شیعہ کا اس سے انکار کرتا ہے اس کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوسکتی ہے کہ ان کی طرف تجسیم کی نسبت حریف کی طرف سے کی گئی ہے جس کے شیعہ کی کتابوں سے کوئی دلیل نہیں لیکن یہ بات خلاف حقیقت ہے کیونکہ ان کے معتبر کتابوں میں ایسی روایات ذکر ہوئی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شیعہ کے ہشام بن حکم ہشام بن سالم اور یونس بن عبدالرحمن جیسے متکلمین نے قرآن و سنت کی دلالت کے مطابق صفات کا اثبات کرنے ہی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ انہوں نے اثبات اور تجسیم میں غلو کی بدعت بھی ایجاد کی ہے

کلینی کی الکافی اور ابن بابویہ وغیرہ کی توحید میں ایسی باتیں منقول ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شیعہ اندھیرے صحرا میں ہاتھ پاؤں مارتے رہے ہیں کیونکہ وہ تجسیم کے مسئلہ میں اختلاف کی گہرائی میں غرق ہو چکے تھے کوئی کہتا ہے کہ وہ تصویر ہے کوئی کہتا ہے وہ جسم ہے انہوں نے یہ صورتحال اپنے امام کے سامنے پیش کی تو اس نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ توحید سے بہت دور ہے

 روایت کہتی ہے جس طرح شیعہ کا صدوق قمی سہل سے روایت کرتا ہے کہ اس نے کہا میں نے 255 ہجری کو ابو محمد کے نام یہ لکھا ۔

 اے جناب توحید کے مسئلے میں ہمارے حساب میں اختلاف ہو چکا ہے کوئی کہتا ہے کہ وہ جسم ہے تو کوئی کہتا ہے وہ صورت ہے اگر آپ بہتر سمجھیں تو مجھےاس کی تعلیم دے دیں جس سے میں اس پر واقف ہو جاؤں اور اس کو جائز قرار نہ دو تو آپ اپنے بندہ ناچیز پر احسان کریں گے چنانچہ اس یعنی امام منتظر نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر یہ جواب دیا کہ تم نے توحید کے بارے میں سوال کیا ہے یہ تم سے الگ ہے اللہ تعالی واحد ہے احد ہےصمد ہے اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا نہ کوئی اس کے برابر ہی ہے وہ خالق ہے مخلوق نہیں جو اقسام وہ چاہے پیدا کرسکتا ہے اور جو صورت وہ چاہے تخلیق کر سکتا ہے وہ مصور نہیں اس کی تعریف بلند ہے اور اس کے اسماء مقدس ہیں وہ شبیہ سے بلند ہے اس جیسا کوئی نہیں وہ سمیع اور بصیر ہے

 الکافی جلد 1 صفحہ 103

 التوحید صفحہ 101 102

 بحارالانوار جلد 2 صفحہ 261

 نوٹ۔ شیعہ کے ہاں تجسیم کے رجحان میں بڑا ظاہر کردار ہے جس طرح کہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہیں

الکافی التوحید امالی الصدوق بحارالانوار الفصول المہمہ وغیرہ میں بکثرت یہ روایات ملتی ہیں

چنانچہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ ان کے بڑے بڑے متکلمین نے اثبات جسم میں غلو کیا ہے حتی کہ انہوں نے اللہ کو اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اللہ کے ساتھ کفر اور اس کے اس فرمان  لیس کمثلہ شئی کے سراسر تکذیب اور تکفیر ہے

 عقیدہ تعطیل

 روایت۔ شیعہ عالم محمد حسینی قزوینی جس کو یہ تیرہویں امام کا لقب دیتے ہیں کیونکہ اس نے ان کے مظلوم امام زمانہ سے تین مرتبہ ملاقات کی اللہ تعالی کے وصف میں کہتا ہے

 اس کا کوئی جز نہیں جس کا کوئی جز نہیں اس میں کوئی ترکیب نہیں ہوتی جو مرکب نہ ہو وہ جوہر اور عرض نہیں ہوتا جو جوہر نہ ہو وہ عقل  نفس معدہ صورت اور جسم نہیں ہوتا اور جو جسم نہ ہو وہ مکان زمان جہت اور وقت میں نہیں ہوتا جو کسی جہت میں نہ ہو اس کی مقدار ہوتی ہے نہ کیفیت نہ رتبہ۔جس کی مقدار کیفیت اور جہت نا ہو اس کی کوئی وضع نہیں ہوتی اور جس کی وقت اور جگہ میں وضع نہ ہو اس کی نسبت اور اس کی طرف کسی چیز کی اضافت نہیں ہوتی لہذا جس کی نسبت نہ ہو اس کا کوئی فعل و انفعال نہیں ہوتا جس کا کوئی جسم ہونا رنگ نہ مکان ناجہت وہ دیکھا جا سکتا ہے نہ اس کا کوئی ادراک کیا جاسکتا ہے

 قلائد الخرائد فی اصول عقائد صفحہ50

 نہج  المسترشدین صفحہ 45۔47

 مجالس المواحدین فی اصول الدین صفحہ-21

 نوٹ۔

آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہیں حنفیہ محض جو اس نے فلسفا کی گندگی کے ڈھیر اور ملحدوں کے تلچھٹ سے اخذ کی ہے وجودہ کی نفی پر مشتمل ہے

 نتیجہ۔

تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ شیعہ کا عقیدہ تشبیہ اور تعطیل یہ قرآن کریم کی صریح قطعی الدلالہ آیات کے خلاف ہے جو کہ سراسر کفر اور تکذیب خداوندی ہے ملاحظہ فرمائیے آیات قرآنی میں 

 Surat No 59 : Ayat No 22

ہُوَ اللّٰہُ  الَّذِیۡ لَاۤ  اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ۚ ہُوَ  الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۲۲﴾

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں چھپے  کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا ۔

 Surat No 59 : Ayat No 23

صفحہ 17 از 18