اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 16 از 18

حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ وَ الۡمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیۡحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ اَلۡیَوۡمَ  یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳﴾

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو ،   اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو ، اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو  ، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو ، لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں ، اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو ، اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری ہو ،   یہ سب بدترین گناہ ہیں ، آج کفار تمھارے دین سے ناآمید ہوگئے ، خبردار تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا ، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام   بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قر ار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالٰی معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے

  جاہلیت کے زمانے میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک مشترک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرتے تھے اور قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف تیروں پر حصوں کے نام لکھ کر ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے، پھر جس شخص کے نام جو حصہ نکل آیا، اسے گوشت میں سے اتنا حصہ دے دیا جاتا تھا، اور کسی کے نام پر کوئی ایسا تیر نکل آیا جس پر کوئی حصہ مقرر نہیں ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ اسی طرح ایک اور طریقہ یہ تھا کہ جب کسی اہم معاملے کا فیصلہ کرنا ہوتا تو تیروں کے ذریعے فال نکالتے تھے۔ اور اس فال میں جو بات نکل آئے اس کی پیروی لازم سمجھتے تھے۔ ان تمام طریقوں کو آیت کریمہ نے ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ پہلی صورت میں یہ جوا ہے، اور دوسری صورت میں یا علم غیب کا دعویٰ ہے، یا کسی معقول وجہ کے بغیر کسی بات کو لازم سمجھنے کی خرابی ہے۔ بعض حضرات نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ : اور یہ بات بھی (تمہارے لیے حرام ہے) کہ تم تیروں سے قسمت کا حال معلوم کرو۔ یہ دوسرے طریقے کی طرف اشارہ ہے اور آیت کے الفاظ میں اس ترجمے کی بھی گنجائش ہے۔

صحیح احادیث میں آیا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔

 اثبات میں غلو کی گمراہی جسے تجسیم وتعطیل کہا جاتا ہے

 ۔تجسیم کی گمراہ یہود میں مشہور اور منتشر تھی

 سفر تقویم فصل 23 آیت 22 سفر تثنیہ فصل 24 آیت 10 ر0 قضات فصل 6 آیت 11سفر الخروج فصل 24 آیت 4

لیکن مسلمانوں میں سب سے پہلے اس گمراہی کا آغاز روافض نے کیا اسلئے امام رازی نے کہا ہے

 یہودیوں کی اکثریت اللہ تعالی کو بندوں کے ساتھ تشبیہ دینے والی تھی اور اسلام میں تشبیہ کے ظہور کا آغاز ہشام بن حکم ۔ہشام بن سالم جوالیقی ۔یونس بن عبدالرحمن قمی۔

اور ابو جعفر الاحول جیسے رافضیوں نے کیا

  اعتقادات فرق المسلمین والمشرکین صفحہ 97

یہ تمام مذکورہ لوگ وہ ہیں جن کو شیعہ علماء کا ہراول دستہ اور اپنے مذہب کے ناقلین میں سے ثقہ شمار کرتے ہیں

 اعیان الشیعہ جلد 1 صفحہ 106

 مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 106 ۔صفحہ 110 صفحہ 109

 شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے جھوٹ کو پھیلانے والے سب سے پہلے شخص کی تعین کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلا وہ شخص جس نے یہ کہا کہ اللہ تعالی جسم ہے وہ ہشام بن حکم ہے

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 20

 ان سے پہلے امام ابو حسن اشعری نے مقالات الاسلامیین میں ذکر کیا ہے کہ اوائل شیعہ مجسمہ اللہ کا جسم قرار دینے والا فرقہ تھے پھر انہوں نے ان کا تجسیم کے بارے میں مذہب بیان کیا اور ان کے اس ضمن میں بعض اقوال نقل کئے لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے متاخرین میں کچھ لوگ تجسیم کا قول چھوڑ کر تعطیل اللہ کی صفات معطل کرنا کے قائل ہوگئے تھے

 مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 106 تا 109

یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شیعہ کا تعطیل کی طرف رجحان بالکل ابتدائی زمانے میں ہوچکافرق و عقائد کی کتابوں کے مصنفین نے تشبیہ اور تعطیل کے متعلق ہشام بن حکم اور اس کے پیروکاروں کی طرف غلو میں ڈوبے ہوئے ایسے کلمات نقل کیے ہیں جنہیں سن کر مومنوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں عبدالقاہر بغدادی کہتے ہیں

ہشام بن حکم نے یہ دعوی کیا کہ اس کا معبود ایک طویل و عریض اور عمیق ایک محدود جسم ہے اس کی لمبائی اس کی چوڑائی کے برابر ہے

 فرق بین الفرق صفحات 95

وہ مزیدکہتےہیں ہشام بن سالم جوایلقی کی تجسیم اور تشبیہ میں انتہائی زیادہ افراط کا شکار ہے کیونکہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا معبود انسان کی صورت پر ہے اور اس کے انسان کی طرح کے حواس خمسہ ہیں

 الفرق بین الفرق صفحہ-28 اور صفحہ 69

یونس بن عبدالرحمن بھی تشبیہ کے باب میں افراط میں مبتلا ہے

 الفرق بین الفرق صفحہ 70

پھر انہوں نے اس کے اسی سلسلے میں چند اقوال نقل کئے ہیں

 ہشام نے کہا اس کا رب اپنی سات بالشتوں کے برابر ہے

 الفصل جلد 5 صفحہ 40

اسفراینی نے بھی ہشام بن حکم ہشام جوالقینی اور اس کے پیروکاروں کا تجسیم کے متعلق نظریہ نقل کرتے ہوئے کہا ہے صاحب دانش پہلی نظر ہی میں جان جاتا ہے جس کا یہ نظریہ ہو اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں

 التبصیر فی الدین صفحہ-24

صرف نظریات کی کتابوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ ہشام بن حکم اور اس کے اعتبار سے تجسیم کے متعلق نظریات پر روشنی ڈالی ہے

 التنبیہ والرد صفحہ-24

 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 183 صفحہ 187 دفعہ 188

 السکسکی البرھان صفحہ 41

 المیزان صف جلد 6 صفحہ 194

 الفرق الاسلامیۃ صفا 57

صفحہ 16 از 18