اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 15 از 18

مستدرک الوسائل جلد 2 صفحہ 179 سے ابن بابویہ وغیرہ کی کتاب ثواب الاعمال ابن قولویہ کی کامل الزیارات

عباس قمی کی مفاتح الجنان  حیدرحسین کی عمدة الزائر جوہری کی ضیاءالصالحین۔یہ ساری کتابیں ائمہ کی قبروں کی زیارت کے لئے رخت سفر باندھنے والے پھر وہاں جاکر طواف کرنے ان کے آستانوں پر دعا مانگنے اور ان سے فریاد رسی کرنے کے فضائل کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اور یہ کتاب ایسی سینکڑوں دعائیں ذکر کرتے ہیں جو ائمہ کے متعلق اتنے زیادہ غزلوں پر مبنی ہیں کہ یہ انہیں خالق کائنات کے مقام تک پہنچا دیتی ہیں اور ان میں جتنا شرک ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے

 نتیجہ۔ شیعہ نے توحید کو جو دین کی اصل اور اساس ہے اس کے بگاڑ میں ان نظریات نے اہم کرداراداکیاہے بوجہ جو اتنی زیادہ اہمیت دی ہے تو اس کا دیار شیعہ پر گہرا اثر ہے انہوں نے شرک کے اڈوں کو جنہیں یہ مزارات سادات کا نام لیتے ہی آباد کیا ہے اور توحید کے گھروں کو جو مساجد ہیں برباد و ویران کر دیا ہے اور ان کی یہ دلچسپی اور اہتمام آج تک قائم ہے۔

 شیعہ کا نقوش و رموز کے ساتھ پکارنا اور نامعلوم سے فریاد رسی کرنا

 روایت۔ بحارالانوار میں بعض بڑے بڑے عجیب وغریب لکیروں کے ساتھ نقوش کی تصویریں بھی بنائی ہیں اور ان کے متعلق یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ائمہ کا شفا کے لئے ایک طریقہ ہے ان نقوش اور طلاسم کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے امیرالمومنین کا جادو زدہ توابع وہ جن جو انسان کے ساتھ رہتے ہیں مرگی زدہ زہر سلطان شیطان اور انسان کو ڈرانے والی تمام اشیاء کے لیے ورد

 ۔بسم اللہ الرحمن الرحیم

ای کنوش ای کنوش ارشش اتنی عطنیطنیطح۔ یا مطیطرون فریالسون

ماوما ساما سویاطیطشا لوش۔خیطوش۔الخ۔ ۔

  پھر اس نے باہم ملی ہوئی لکیروں کی طرح کے عجیب وغریب رموز بنائے ہیں

 بحارالانوار جلد 94صفحہ 193 ہے

 اعوذہ بیاآھیا شراھیا۔ ۔۔۔۔۔۔الخ

 نورالانوار جلد 94 صفحہ 229 صفحہ265 صفحہ 297 صفحہ 372

صفحہ373

پر عجیب و غریب نقوش اور طلاسم کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں

 نوٹ۔جبکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں

 وللہ الاسماء الحسنی۔ ۔۔

 مافرطنا فی الکتاب۔ ۔۔۔

 ایاک نعبد و ایاک۔ ۔ ۔

 قضی ربک الاتعبدوا۔ ۔۔۔

 روایت۔ ابو بصیر سے مروی ہے وہ ابوعبداللہ سے بیان کرتا ہے کہ انہوں نے کہا جب تم راستہ کھو دو تو یہ آواز لگاؤں ایصال ہے یا اباصالح مجھے راستہ بتاؤ اللہ تم پر رحم کرے

 الفقہ جلد 2 صفحہ 195

 المحاسن صفحہ 362

 وسائل الشیعہ جلد 8 صفحہ 325

 روایت۔ تم میں سے جو سفر میں راستہ خود اور اس کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں تو وہی آواز لگائی صالح میری فریاد سن تمہارے جن بھائیوں میں سے ایک صالح نامی جن ہے جو تمہارے لئے ثواب سمجھتے ہوئے زمین پر گھومتا رہتا ہے جب وہ آواز سنتا ہے تو جواب دیتا ہے اور تم میں سے گم گشتہ راہ بتاتا ہے اور

 الخصال جلد 2 صفحہ 618

 وسائل الشیعہ جلد 8 صفحہ 325

 نوٹ۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کی عادت تھی کہ جب وہ کسی جگہ ٹھہرے تو اس جگہ کے سربراہ جن سے پناہ مانگتا ہے کہ انہیں ان کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے جس طرح اور ان میں جب کوئی اپنے دشمن کے علاقے میں جاتا تو کسی بڑے آدمی کی پناہ اور ذمہ داری میں آجاتا اب جنوں نے دیکھا کہ انسان ان سے خوف کھاتے ہوئے ان کی پناہ طلب کرتے ہیں تو انھوں نے ان کو مزید خوفناک اور دہشتناک کرنا شروع کر دیا ان سے زیادہ ڈرنے لگے اور ان کی زیادہ پناہ مانگنے لگا

 آیت وانہ کان رجال من الانس۔ ۔۔۔

اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے بعض لوگوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انھوں نے ان دنوں کو سرکشی میں زیادہ کر دیا

حضرت قتادہ نے فرمایا یعنی انہوں نے ان کو گناہ میں زیادہ کر دیا اور جنوں کی جرات میں اضافہ ہوگیا جب وہ اللہ کے سوا ان سے پناہ مانگتے تو جن اس وقت ان کو زیادہ اذیت پہنچاتا

 تفسیر ابن کثیر جلد 4/454

 تفسیر الطبری جلد 29 صفحہ 108

 فتح القدیر جلد 5 صفحہ 305

 شیعہ تفسیر البرھان جلد 4 صفحہ 391

 تفسیر صافی جلد 5 صفحہ 234

 شیعہ کا جاہلیت کے تیروں سے مشابہ اشیاء کے ساتھ استخارہ کرنا

 زمانہ جاہلیت میں جب کوئی عربی شخص سفر یہ جنگ یا اس جیسے کسی کام کا ارادہ کرتا تو تیر گھماتا یہ تین تیر تین باتوں پر مشتمل ہوتے

 ایک پر لکھا ہوتا کرلو

 دوسرے پر لکھا ہوتا نہ کرو

 اور تیسرا خالی ہوتا

جب وہ انہی کلمات اور اگر حکم کا تیر نکل آتا تو وہ کام کر گزرتا اگر منع کا تیر نکل آتا تو اسکو چھوڑ دیتا

اگر خالی تیر نکل آتا تو دوبارہ تیر گھماتا

 تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ 12

 تفسیر طبری جلد 9 صفحہ 510

اللہ رب العزت کا دین قرآن شریعت ان کاموں کے خلاف ہے

 شیعہ نے تیروں سے قسمت آزمائی پر مشتمل استخارے کو اپنے دین میں شامل کرلیا ہے اور اس پر بعض اضافے بھی کیے ہیں جنہیں یہ رقاع

کہتے ہیں چنانچہ شیعہ عالم حرالعاملی نے اس مقصد کے لیے اس عنوان کے ساتھ استخارہ کے استحباب اور کیفیت کا باب کے ساتھ ایک باب قائم کیا ہے

 وسائل الشیعہ جلد 5 صفحہ 260 صفحہ 213

مجلسی نے تین ابواب قائم کیے ہیں

 باب الاستخارہ بالرقاع۔

 باب الاستخارة بالبنادق

 الاستخارة بالسبحة والحصی

ان استخاروں کے شیعہ کتب جو کیفیت بیان کرتی ہیں وہ شرع میں تو اہل جاہلیت کے طور پر ہی کیونکہ وہ نماز اور دعا پر مشتمل ہے اور نماز بھی بدعت طریقے کے مطابق پر ایک مخصوص دعا لیکن امر اختتام جاہلیت کے عمل کے مشابہ ہی ہوتا ہے

کیوں کہ ان میں تسبیح گھما کر یا مخصوص رقعوں پر کر یا نہ کر لکھ کر اور اس کو بار بار آزما کر خیر تلاش کی جاتی ہے

 الکافی جلد 1 صفحہ 131

 تہذیب جلد 1 صفحہ 306

 وسائل الشیعہ جلد 5 صفحہ 208

 المقنعة۔ ص36

 المصباح۔ ص372

 نوٹ۔ اہل تشیع نےبہت سارے طریقے استخارہ کے نقل کیے ہیں اپنی کتابوں میں ۔

جو کہ تمام کے تمام دور جاہلیت کے طریقوں سے ملتے جلتے ہیں اور شرک و بدعت ہیں جن کو قرآن وشریعت نے منع کیا ہے

Surat No 5 : Ayat No 3

صفحہ 15 از 18