اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 14 از 18

 ترجمہ۔ جب زائر قبر کے پاس آتا ہے تو اللہ تعالی اس سے سرگوشی کرتے ہوئے کہتے ہیں میرے بندے مجھ سے مانگ میں تمہیں عطا کروں گا مجھ سے مانگ میں تیری مانگ پوری کروں گا

 کامل الزیارات صفحہ 132

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 342

 ثواب الاعمال صفحہ 51

 قبروں کا طواف

 روایت

 ترجمہ۔ مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ بیت اللہ کے سوا کسی جگہ کا طواف جائز اور مشروع نہیں

 مجموعہ فتاوی شیخ الاسلام جلد 4 صفحہ 521

 لیکن شیعہ علماء نے اپنے پیروکاروں کے لئے اپنے اماموں کی قبروں کا طواف مشروع قرار دیا ہے اور اس شعر کی سند کے لیے انہوں نے آل بیت کے نام پر جھوٹی روایات وضع کی ہیں

مجلسی کہتاہے کہ آئمہ کی زیارت کی بعض روایات منقول ہیں ہم تمہارے مزاروں کے گرد طواف کریں گے اور بعض روایات میں ہے قبر کے اطراف کو بوسہ دے

جس طرح اس نے کہا کہ امام رضا رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی قبر کی زیارت کرتا تھا

 بحارالانوار جلد سوم صفحہ 126

اس سے ان کے مذہب میں اس بت پرستی کی عبادت کے جواز کی دلیل لی گئی ہے لیکن شرک سے منع کرنے والی اور شرک کے لئے جہنم کے عقائد پر مشتمل صریح و واضح قرآنی آیات کی طرف اس کی نظر نہیں گئی لیکن وہ روایات اس کے لیے باعث اشکال ہوتی ہیں جو  رواج و عادت کے مطابق مزاروں کے متعلق ان کے مذہب کی مخالفت کرتی ہیں اور ان کے آئمہ سے مروی ہیں لیکن اس نے ان کی تاویل کرکے ان سے خلاصی حاصل کرلی ہے

 روایت

 ترجمہ۔ کھڑے ہو کر پانی نہ پئی اور نہ قبر پر طواف کر جس نے ایسا کام کیا وہ اپنا  سوا کسی کو ملامت نہ کرے جس نے اس میں سے کوئی کام بھی کیا وہ اس کو چھوڑ نہیں سکے گا اللہ یہ کہ جو اللہ چاہے

 علل الشرائع صفحہ 283

 بحارالانوار جلد سوم صفحہ 126

 ان روایات کے تاویل میں مجلسی نے لکھا ہے کے احتمال ہے کہ اس تعداد کے ساتھ طواف سے منع کیا ہو جو تعداد بیت اللہ کے طواف کے لیے مخصوص ہے

 بحارالانوار ج ،100/۔ 126

 دوسری تاویل ۔احتمال بھی ہے کہ جس طواف کی نفی کی گئی ہے وہ یہاں پاخانہ کرنا ہے

 بحارالانوار جلد سوم صفحہ 127

 قبرکے پاس نماز

 روایت

 ترجمہ۔ حسین رضی اللہ عنہ کے حرم میں نماز تمہارے لئے حرکت کے بدلے جو تم وہاں ادا کرتے ہو ایک ہزار حج ایک ہزار عمرے اور 1000 گردنوں کو آزاد کروانے کے ثواب کے برابر ہے اور گویا کسی نبی مرسل کے ساتھ ہزاروں مرتبہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہے

 الوافی المجلد الثانی جلد 8 صفحہ 234

 روایت

 ترجمہ۔ ۔اس نے امام رضاعلیہ السلام کی زیارت کیا کسی امام کی اور اس کے پاس نماز پڑھی تو اس کے لئے( مذکورہ ثواب لکھا جائے گا )

پھر وہ اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہتاہے اس کو ہر قدم کے بدلے ایک سو حج 100 عمرے اور اللہ کی راہ میں ایک سو غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لئے سونیکی لکھی جاتی ہے اور اس کی سو غلطیاں مٹا دی جاتی ہیں

 بحارالانوار جلد سوم صفحہ 137 38

 قبروں پر اوندھا گرنا

شیعہ کے ہاں مزارات کے مناسک اور عبادات میں قبر پر اوندھے منہ گرنا اس پر اپنا رخسار رکھنا چوکھٹ کو بوسہ دینا اور صاحب قبر سے سانس منقطع ہونے تک جس طرح یہ کہتے ہیں مناجات کرنا بھی شامل ہے

 روایت

 ترجمہ۔ اس بات کے بیان میں باب حسین کی قبر کے پاس کونسا فعل بجالانا مستحب ہے

اس کے بعد اس نے ذکر کیا کہ شیعہ عالم طوسی نے جمعے کے دن زیارت کے اعمال بیان کرتے ہوئے کہا ہے پھر تم قبر پر اوندھے منہ گرجاو اور کہو میرے مولا میرا امام مظلوم ہے اس پر ظلم کرنے والے کے خلاف مدد مدد پکار حتی کہ سانس منقطع ہو جائے

 بحارالانوار جلد 1 صفحہ 285

 روایت

 ترجمہ۔ حضرت جعفر نے وصیت کی اور اس زیارت کو شروع کرنے سے تین دن پہلے روزہ رکھنے۔ پھر غسل کرنے دو پاک کپڑے پہننے پھر دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیاپھر جب تم دروازے کے پاس آؤ تو گنبد سے باہر کھڑے ہو جاؤ اپنی آنکھ سے قبر کی طرف اشارہ کرو اور کہو اے میرے مولا اے ابوعبداللہ اے فرزند رسول تیرا غلام تیرے غلام کا بیٹاتیری لونڈی کا بیٹا تمہارے سامنے ذلیل تمہارے بلند شان میں تقصیر کرنے والا تمھارے حق کا معترف تمہارے پاس تمہارے ذمے کے ساتھ پناہ مانگتے ہوئے تمہارے حرم کا قصد کرتے ہوئے اور تمہارے مقام کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے آیا ہے ۔پھر اس نے کہا پھر اس کی قبر پر اوندھے منہ گر جا اور اے میرے آقا میں تمہارے پاس ڈرا ہوا آیا ہوں مجھے امن دے تمہارے پاس پناہ مانگتے ہوئے آیا ہوں مجھے پناہ دے پھر دوسری مرتبہ قبر پر اوندھے منہ گرجا

 بحارالانوار جلد101 ایک صفحہ 258۔261

 ان المزار الکبیر المحمد المشہدی

صفحہ 143 144

 روایت۔

 ترجمہ۔مفید کہتا ہے

جب تم قبرپر نکلنے لگتےہو تو قبر پر اوندھے منہ گر جائے اورپھر حسین کے مزار کی طرف واپس ہواور کہ اے ابوعبداللہ تجھ پر سلامتی ہو تم میرے لئے عذاب سے ڈھال ہو

 بحارالنوار جلد 1 صفحہ257۔

261

 خلاصہ عنوانات

مزاروں کی زیارت شیعہ کے مذہبی فرائض میں سے ایک فرض ہے ۔جن کا تارک  کافر ہے

 تہذیب الاحکام جلد 2 صفحہ 14

 کامل الزیارات لابن قولویہ صفحہ 193

 وسائل الشیعہ جلد صفحہ 333 ۔337مجلسی نے عنوان دیا ہے حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت واجب فرض اور مامور ہے اور اس کے ترک کرنے پر وارد ہونے والی مذمت اور عتاب کا ذکر ۔کے ساتھ ایک باب قائم کیا ہے اور اس میں 40 روایات ذکر کی ہیں

 بحارالانوار جلد101

مجلسی نے بحار الانوار میں ایک مستقل کتاب ہے جس کا اس نے کتاب المزار رکھا ہے جو بہت زیادہ ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب سینکڑوں روایات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے یہ بحار کی جدید طباعت میں تقریبا تین جلدوں پر مشتمل ہے جلد 100 101 اور 102

کی طرح حر عاملی کی وسائل الشیعہ میں ابواب المزار جلد 10 صفحہ 251 سے 106 ابواب ہیں

کاشانی نے وافی میں جوان کے اصول اربعہ کی جامع ہے ابواب المزارعۃ والمشاہدۃ کے عنوان سے 33 ابواب قائم کئے  ہیں الوافی المجلدالثانی جلد 8 صفحہ 193 سے الفقیہ تہذیب الاحکام مزارات اور قبروں کی تعظیم نیز ایسی دعاؤں کے ساتھ ائمہ سے مناجات کرنے پر مشتمل ہے جو انہیں خدا کا درجہ دیتی ہیں تہذیب الاحکام جلد 6 صفحہ 3 مستدرک الوسائل میں 86 ابواب ہیں جو 275 روایات پر مشتمل ہیں

صفحہ 14 از 18