اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 13 از 18

 ترجمہ۔ ۔جو حسین کی قبر پر اس کا حق پہچانتے ہوئے آیا وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھ سو حج کیے

 ثواب الاعمال صفحہ 52

 وسائل الشیعہ جلد صفحہ 350

 روایت۔ ۔

 ترجمہ۔۔۔

ایک منادی اعلان کر رہا ہوگا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے جذب و شوق کے ساتھ حسین کی زیارت کی تھی تو قیامت کے دن کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جس کی یہ تمنا نہ ہوگی کہ کاش وہ بھی حسین کے زائرین میں سے ہوتا

 کامل الزیارات صفحہ 143

 وسائل الشیعہ جلد 1 صفحہ 353

 بحارالانوار جلد 100 1 صفحہ 18

 روایت

 ترجمہ۔ ۔۔تم میں سے ایک آدمی فرات میں غسل کرتا ہے پھر حسین کی قبر کے پاس اس کا حق پہچانتے ہوئے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ہر قدم کے بدلے ایک سو مقبول حج 100 مقبول عامر اور نبی مرسل یا امام عادل کے ساتھ 100 غزوات کا اجر دے گا

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 380

 کامل الزیارات صفحہ 185

 روایت

 ترجمہ۔ ۔۔جس نے عاشورا کے دن حسین کی زیارت کی اور اس کے پاس روتا رہا تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالی کو بیس لاکھ حج اور بیس لاکھ عمرہ اور بیس لاکھ غزوات کے ثواب کے ساتھ ملے گا اور ہر حج عمرے اور غزوے کا ثواب اس شخص کے ثواب کے برابر ہوگا جس نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم اور ائمہ راشدین کی معیت میں حج عمرے اور غزوات میں شرکت کی

یہ ساری فضیلت اسی شخص کو بھی حاصل ہوگی جو اس دن قبر حسین کی زیارت تو نہ کر سکا لیکن اپنے گھر کی چھت پر چڑھ کر اس نے اشارہ کے ساتھ ان کو سلام کیا پھر ان کے قاتل کو بدعا دی حسین کے لیے روتا رہا اورنوحہ کرتا رہا اور اپنے اس دن میں اپنا کوئی کام نہ کیا

 بحارالانوار جلد 101 صفحہ 290

 کامل الزیارات صفحہ 176  عرفات کے دن کربلا کی زیارت

 روایت

 ترجمہ۔ ۔۔۔جو عید کے دن کے علاوہ کسی دوسرے دن حضرت حسین کا حق پہچانتے ہوئے ان کی قبر کی زیارت کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے بیس مقبول حجوں اور بیس مقبول عمروں کا ثواب لکھ دیتے ہیں اور جو عید کے دن ان کی قبر کی زیارت کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالی سو حج اور عمرہ کا ثواب لکھ دیتے ہیں اور جو عرفات کے دن ان کا حق پہچانتے ہوئے ان کی قبر کی زیارت کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک ہزار مقبول حج اور 1000 مقبول عمرہ اور کسی نبی مرسل یا امام عادل کی معیت میں 1000 غزوات کا ثواب لکھ دیتے ہیں

 الکافی جلد 1 صفحہ 324

 الفقیہ جلد 1 صفحہ 182

 التہذیب جلد 2 صفحہ 16

 کامل الزیارات صفحہ 170

 ثواب الاعمال صفحہ50

 وسائل الشیعہ جلد صفحہ  360

 روایت

 ترجمہ۔ ۔۔اگر میں تم کو اس کی زیارت کی فضیلت اور اسکی قبر کی فضیلت بیان کر دوں تو تم حج کو اصلا چھوڑ ہی دو اور تم میں سے کوئی بھی حج نہ کرے تو ہلاک ہو کیا تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالی نے مکہ کو حرم بنانے سے پہلے کربلا کو امن اور برکت والا حرم بنایا ہے

اللہ تعالی عرفات کے دوسرے پر عرفات میں موجود حاجیوں پر نظر ڈالتے ہیں پہلے قبر حسین کے زائرین پر نظر ڈالتے ہیں (راوی نے پوچھایہ کس طرح ہوتا ہے )تو ابو عبداللہ نے کہا جس طرح ان لوگوں کا دعوی ہے کیونکہ ان میں کئی زنا کی پیداوار ہے لیکن ان میں کوئی زنا کی پیداوار نہیں

 الوافی مجھے لگ ثانی جلد 8 صفحہ 222

 بحارالانوار جلد 101 صفحہ 33

 کامل الزیارات صفحہ 266

 تہمت زنا کی تفصیل دیکھیے

 تفسیر العیاشی جلد 2 صفحہ 218

 البرھان جلد 2 صفحہ 139

 تفسیر نورالثقلین جلد 2 صفہ 513

 بحار الانوار باب۔ انہ یدعی الناس باسماءامھاتھم الاالشیعة

 روایت۔

 ترجمہ۔ ۔۔۔۔راوی نے جعفر کی زائرین حسین کے لیے دعا سن کر کہا

خدا کی قسم میں نے یہ تمنا کی کہ کاش میں نے اس کی زیارت کی ہوتی اور حج نہ کیا ہوتا

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 321

 ثواب الاعمال صفحہ 35

 قبرے حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت تمام اعمال سے افضل ہے

 روایت

 ترجمہ۔ قبر حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت جو اعمال بھی ہوسکتے ہیں ان سب سے افضل ہیں

 کامل الزیارات صفحہ 146

 بحار الانوار جلد 1 صفحہ 39

 روایت

 ترجمہ۔ تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ عمل قبر حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت ہے

 کامل الزیارات صفحہ 146

 بحارالانوار جلد 1 صفحہ 49

 بحارالانوار جلد 1 صفحہ 49 پر ایک باب قائم کیا گیا ہے  باب ان زیارتہ علیہ السلام من افضل الاعمال

 بقول شیعہ کربلا کعبہ سے افضل ہے

 روایت ۔

 ترجمہ۔ کوفہ اللہ اس کے رسول اور امیرالمومنین کا حرم ہے اس میں ایک نماز ایک ہزار نماز کے برابر ہے اور ایک درہم ایک ہزار درہم کے برابر ہے

 الوافی باب فضل الکوفة ومساجدھا۔ المجلد الثانی ۔جلد 8 صفحہ 215

 روایت۔

 ترجمہ۔ اللہ کا حرم مکہ ہے اس کے رسول کا حرم مدینہ ہے امیرالمومنین کا حرم کوفہ ہے اور ہمارا حرم قم ہے ۔اس میں میری نسل سے ایک فاطمہ نامی عورت(امام موسی بن جعفر کی بیٹی فاطمہ کی قبر ہے ) دفن کی جائے گی جس نے اس کی زیارت کی اس کے لیے جنت واجب ہو گی

 معجم البلدان صفحہ 397 جلد 4

 مشاہدات العترہ۔ صفحہ 162

 بحارالانوار جلد 102 صفحہ 267

 روایت

 ترجمہ۔ علی بن حسین نے فرمایا اللہ تعالی نے کعبہ کی زمین پیدا کرنے اور اس کو حرم بنانے سے چوبیس ہزار سال پہلے سر زمین کربلا کو برکت اور امن والا حرم بنایا اللہ نے اس کو مقدس بنایا اور اس میں برکت ڈالیں یہ اللہ تعالی کے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہی سے مقدس اور مبارک تھا اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا حتیٰ کہ اللہ اس کو جنت میں افضل زمین اور افضل گھر دے گا جس میں اس کے اولیاء جنت میں رہیں گے

 بحارالانوار جلد 101 صفحہ 107

 حسین رضی اللہ عنہ کے زائرین کے پاس فرشتے آتے ہیں اور ان سے اللہ تعالی سرگوشیاں کرتا ہے

 روایت

 ترجمہ۔ جو اپنے گھر سے زیارت حسین کی نیت سے نکلا اللہ تعالی اس کے ہر قدم کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں جو اپنے مناسک پورے کرلیتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو اس سے کہتا ہے میں اللہ کا ایلچی ہوں تیرا رب تجھے سلام پیش کرتا ہے اور کہتا ہے اب نئی زندگی شروع کر کیوں کے میں نے تیرے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے ہیں

التہذیب جلد 2 صفحہ 14

 کامل الزیارات صفحہ 132

 ثواب الاعمال صفحہ 51

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 341 ۔

 روایت

صفحہ 13 از 18