اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 12 از 18

شیعہ مصنفین نے اللہ تعالی کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں بھی اللہ تعالی کو وحدہ و لاشریک لہٗ رہنے نہیں دیا بلکہ تمام صفات میں ائمہ حضرات کو اللہ تعالی کا شریک بنا کر دکھایا باوجود اس کے کہ اپنے آپ کو توحید کا ماننے والا مواحد کہنا سراسر جھوٹ ہے جبکہ مشرکین مکہ بھی حضرت ابراہیم خلیل اللہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ حضرت عزیر نبی اللہ حضرت عیسیٰ روح اللہ کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالی کے مقبول بندے ہیں اور اس کی عطائی طاقت سے وہ مشکل کشا عالم الغیب حاضروناظر اور غیبی مدد گار ہیں اس لیے انہوں نے ان حضرات کے نام پر تصویریں بنا کر چسپاں کردی تھی اور ان کے سامنے سجدہ رکوع کر کے ان سے غیبی مدد طلب کرتے تھے اور انہی حضرات کے ناموں کی سبیل کرتے تھے اور منت مانتے تھے اور انہی حضرات کا نذرونیاز کر کے تقرب الی اللہ کا عقیدہ رکھتے تھے

جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے فرمایا

Surat No 39 : Ayat No 3

 اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ  اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ  ۬ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ ﴿۳﴾

 ترجمہ۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کے سوا اوروں کو اپنا سرپرست بنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش اس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں ہمارا تقرب بڑھا دیں گے

 ترجمہ فرمان علی شیعہ

 اوریہ لوگ ان کو  اللہ کی بارگاہ میں سفارشی تصور کرتے تھے

 Surat No 10 : Ayat No 18

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ اَتُنَبِّئُوۡنَ اللّٰہَ بِمَا  لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾

 ترجمہ۔ ۔اور خدا کو چھوڑ کر جو لوگ ایسی چیز کی پرستش یعنی سجدہ رکوع نذر نیاز منت کرتے ہیں جو نہ ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ خدا کے ہاں یہی لوگ ہمارے سفارشی ہوں گے اے رسول تم ان سے کہو تو کیا تم خدا کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جس کو وہ نہ تو آسمانوں میں کہیں پاتا ہے نہ زمین میں درحقیقت یہ لوگ جس چیز کو اس اللہ کا شریک بناتے ہیں اس سے وہ پاک صاف اور برتر ہے

 ترجمہ فرمان علی شیعہ

اس آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کے عقیدے اور عمل کی تردید کی گئی اور بتایا گیا کہ جو شخص مخلوق میں سے کسی کو اللہ کے دربار میں سفارشی سمجھ کر اس کا سجدہ رکوع یعنی بدنی عبادت اور اس کو غیبی مدد گار سمجھ کر اس سے مشکل کشائی کے لیے دعا کرنا یعنی لسانیت عبادت اور اس کے لئے نذر و نیاز کرنا یا اس کی سبیل میں مال خرچ کرنا یا اس میں منت ماننا یا مالی عبادت کرنا یہ سارا کچھ شرک ہے اور اللہ تعالی شراکت سے پاک صاف اور برتر ہے

ان عقائد کی وجہ سے اگر مکہ کے لوگ مشرک ہو سکتے ہیں اور اللہ اور رسول نے ان کو مشرک کہا ہے تو شیعہ انہی کی طرح اپنے اماموں میں غیبی طاقت کا عقیدہ رکھ کر ان کو مشکل کشائی کے لیے غیبی مدد کے لئے پکارے اور ان کے نام پر کال کریں اور ان کی منت مانیں اور نذر ونیاز کریں اور ان کے لیے جانور ذبح کریں تو شیعہ مشرکین مکہ کی طرح کیوں کر مشرک نہیں ہو سکتے

 نتیجہ۔ ۔

مشرکین مکہ کی طرح شرک کرنے کی وجہ سے شیعہ بھی مشرک ہیں ان کا توحید باری تعالی پر ایمان ہرگز نہیں ہے لہذا شیعہ مذہب کی ایمانیات میں توحید کو شامل کرنا برائے نام ہے ان کا توحید باری تعالی پر ذرہ برابر ایمان نہیں ہے بھلا جس قوم کی ایمانیات میں خود کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کو شامل نہ کیا گیا ہو تو اس قوم کی توحیدقرآنی توحید کے مطابق کیسے ہو سکتی ہے

 درباروں کا حج بیت اللہ کے حج سے بڑا عمل ہے

 ترجمہ۔ حسین کی قبر کی زیارت بھی بیس حج کے برابر ہے اور بیس حج اور عمرہ سے افضل ہیں

 الکافی جلد 1 صفحہ 324

 ثواب الاعمال صفحہ 52

 تہذیب الاحکام جلد 2 صفحہ 16

 کامل الزیارات صحرا 161

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 348

 بحارالانوار جلد 101 صفحہ 38

 روایت

 ترجمہ۔ ایک شیعہ نے جب اپنے امام سے کہا۔میں نے انیس حج اور انیس عمرہ کیے ہیں تو امام نے استہزاء کے اسلوب میں کہا ایک اور حج اور عمرہ کرتا کہ تجھے قبر حسین کی زیارت کا ثواب مل جائے

 تہذیب الاحکام جلد 2 صفحہ 16

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 348

 بحارالانوار جلد 101۔38

روایت 

 ترجمہ۔ ایک دیہاتی نے یمن سے زیارت حسین کے لیے رخت سفر باندھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرزند رسول میرے لیے اضافہ فرمائے انہوں نے کہا ابوعبداللہ( اپنی ذات )کی زیارت رسول اللہ کے ساتھ ایک پاک اور مقبول حج کے برابر ہے اس نے اس بات سے تعجب کیا تو انہوں نے اس سے کہا خدا کی قسم رسول اللہ کے ساتھ دو مقبول اور پاک حج ۔۔۔۔۔۔یہاں تک  کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھ تیس مقبول اور پاک حجوں کے برابر

 سوال الصفہ 52

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 350 351

 روایت

 ترجمہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دن حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی گود میں بیٹھے تھے اور آپ ان کو کھلااور ہنسا رہے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے اللہ کے رسول آپ اس بچے کو کس قدر زیادہ پسند کرتے ہیں تو آپ نے ان سے کہا میں اس سے محبت اور اس کو پسندیدہ کیوں نہ رکھوں جبکہ یہ میرے دل کا ثمرہ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے لیکن میری امت اس کو قتل کر دے گی جس نے اس کی وفات کے بعد اس کی زیارت کی اللہ اس کے نامہ اعمال میں میرے ساتھ ایک حج کا ثواب لکھ دے گا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کے ساتھ حج میں سے ایک حج  آپ نے فرمایا ہاں دو حج ۔۔۔۔۔۔پاک رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے حجوں میں سے ان کے عمروں سمیت70 حج تک پہنچ گئے۔

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 351 352

 روایت

 ترجمہ۔ جس نے ابو عبداللہ کی قبر کی زیارت کی اللہ تعالی اس کے لیے اسی مقبول حج لکھ دے گا

 ثواب الاعمال صفحہ 52

 کامل الزیارات صفحہ 162

 وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 350

 روایت

صفحہ 12 از 18