اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید

  توقیر احمد

صفحہ 10 از 18

 وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ وَلَا تَنقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ۚ إِنِّي أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ (84) وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (85) بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ (86)

 ترجمہ۔ اور ہم نے مدین والوں کے پاس ان کے بھائی شعیب کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے کہا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں اور  تول میں کمی نہ کیا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔اے میری قوم پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھ پورا پورا رکھا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور روئے زمین میں فساد نہ پھیلاتےپھرو اگر تم سچے مومن ہو تو خدا کا بقیہ تمہارے واسطے کہیں اچھا ہے اور میں تو کچھ  تمہارا نگہبان نہیں ہوں

 یہ تھا شعیب علیہ سلام کا وعظ جس میں انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا کہ ناپ تول کی کمی کرنے سے کمایا ہوا مال تمہارے لیے اچھا نہیں بلکہ اس کے علاوہ باقی اللہ یعنی اللہ تعالی کا دیا ہوا باقی مال اور فساد پھیلانے کے علاوہ امن اور اصلاح والےاعمال تمہارے لیے بہتر ہیں اگر تم مومن ہو تو میری بات مان لو وماانا علیکم بحفیظ۔ یعنی اگر تم نہیں مانو گے تو میں تمہارے اوپر نگہبان نہیں ہوں یہ شعیب علیہ السلام کا قول اللہ تعالی نے نقل کیا ہے مگر شیعہ مصنف نے قرآن مجید کی آیت کو بگاڑ کر نتیجہ نکالا کہ اب اللہ تعالی بھی تمہارا نگہبان نہیں اب محمد وآل محمد تمہاری نگہبانی کریں گے اور تمہاری ضروریات کو پورا کرتے رہیں گے اس قسم کا عقیدہ رکھنا اللہ پر جھوٹ باندھنا صریح کفر ہے

 کلید مناظرہ کی عبارات

ایک اور شیعہ مصنف سید برکت علی شاہ گوشہ نشین نے اپنی کتاب کلید مناظرہ میں برگ سبز کا عنوان لکھا ہے کہ جن پر تمام کمالات اور فضائل کا خاتمہ ہوا وہ چاردہ معصوم علیہ السلام کی ذوات مبارکہ ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان پر ارضی اور سماوی حالات اس طرح ظاہر ہیں جس طرح اپنے ہاتھ کی ہتھیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دنیا میں نعمات دنیا تقسیم کرنے والے اور آخرت میں بہشت و دوزخ کے بانٹنے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ماں کے پیٹ میں ہی اتنے عالم اور عارف تھے جتنے بلوغت میں یہ ہر جگہ ہر آن واحد میں بفضلہ حاضروناظر ہو سکتے ہیں اور ہم کو ہر وقت دیکھتے ہیں اور ہماری ہر بات کو سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

قضاء وقدر لوح و قلم اور اور حیات اورممات پر بحکم خدا مختار ہیں ۔۔۔۔

گذشتہ حال و مستقبل سے بفضلہ تعالی آگاہ ہیں

 کلید مناظرہ صفحہ 15 16

 چودہ ستارے کی عبارات

ایک اور شیعہ مصنف سید نجم الحسن کراروی نے اپنی کتاب چودہ ستارے کے پیش لفظ کے ماتحت لکھا ہے کہ چودہ ستارے سے مراد حضرات چہاردہ معصومین علیہ السلام ہیں۔۔۔۔۔۔۔

یہ وہ ذوات ہیں جو خالق کائنات کی طرح بے مثل و بے نظیر ہیں ۔۔۔۔۔۔

یہ جب عالم نور میں تھے انہوں نے ملائکہ کو تسبیح و تحمید کا سبق دیا ۔۔۔جبرائیل کو علم معرفت سے بہرور کیاآدم و حوا جوگرے ہوئے آنسوؤں کی طرح بے وقعت ہو چکے تھے (نعوذباللہ) ان کو شرف انسانیت میں توبہ کے ذریعہ سے عروج و فروغ بخشا

 14 ستارہ صفحہ نمبر 2  انوارالنعمانیہ کی عبارات

ایک اور شیعہ مصنف سید نعمت اللہ الموسوی الجزائری نے اپنی کتاب الانوارالنعمانیہ عربی میں نور علوی کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا

 یاعلی ان اللہ تعالی قال یامحمدبعث علیا مع الانبیاء باطنا ومعک ظاہرا۔ ۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ۔۔اے علی اللہ تعالی نے مجھے فرمایا کہ میں نے علی کو دوسرے انبیاء کے ساتھ باطنی طور پر بھیجا تھا اور تیرے ساتھ ظاہری طور پر بھیجا ہے

مصنف کہتا ہے کہ اس قسم کا مضمون اہلبیت رضی اللہ عنہ کی روایتوں میں خود علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے بھی ملتا ہے مثلا

 وھو انہ قدروی عنہ علیہ السلام انہ قال فی جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفضل من تقدمہ من الانبیاءمع انھم حاذواغایة الاعجاز۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔فقال واللہ قدکنت مع ابراھیم فی النار۔ ۔۔۔۔مع کنت نوح فی السفینة فانجیتہ من الغرق۔ ۔۔۔۔مع موسی۔ ۔۔۔۔۔والنطقت عیسی فی المھد۔ ۔۔۔۔۔مع یوسف فی الجب ۔۔۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ جو انبیاء علیہ السلام گزر چکے ہیں وہ آپ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا آپ کی فضیلت ان سے زیادہ ہے باوجود اس کے کہ وہ انتہائی معجزات والے تھےبہرحال ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے نارے نمرود سے نجات دی اور نمرود کی آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا اور نوح کو اللہ تعالی نے غرق ہونے سے بچا دیا اور موسی کو اللہ تعالی نے فرعون سے نجات دے کر اس کو تورات کی تعلیمات عطا فرمائی اور عیسیٰ کو اللہ تعالی نے جھولے میں نبوت عطا کر کے اس کو حکمت سے بات کرنا سکھایا اور سلیمان کے لئے اللہ تعالی نے جن جمیع مخلوق اور عوام کو مسخر کردیا ان معجزات کے باوجود وہ انبیاء علیہ السلام زیادہ فضیلت والے ہیں یا آپ تو علی علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم ابراہیم کی آگ کو ٹھنڈا کرکے اور سلامتی والا کرکے اس کو نجات دینے والا میں تھا اور نوح کو غرق ہونے سے بچانے والا میں تھا اور موسی کو فرعون سے نجات دے کر تورات کی تعلیم دینے والا میں تھا اور عیسی  کو جھولے میں نجات دے کر انجیل کی تعلیم دینے والا میں تھا اور یوسف کو اپنے بھائیوں کے مکر سے اور کنویں سے نجات دینے والا میں تھا اور سلیمان کے لئے تخت پر ہواؤں کو مسخر کرنے والا میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 41

 روایت

وان الامام لایخفی علیہ شی فی الارض ولافی السماء وانہ ینظرفی ملکوت السموات فلایخفی علیہ شی ۔۔۔۔۔۔ومن لم یکن بھذہ الصفات فلیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ترجمہ۔ ۔۔۔۔یعنی آسمان اور زمین کی کوئی چیز امام سے مخفی نہیں ہوسکتی اور جس میں یہ صفات نہیں وہ امام ہی نہیں

 انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 33

نور علوی

 امام با اختیار خود مرتے ہیں

صفحہ 10 از 18