صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقوش کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقوش کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت

  سہیل اختر قاسمی

صفحہ 3 از 3
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سوانحات پر مشتمل دستاویزی کتب کے مطالعے کے بعد یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کی اشاعت کی راہ میں ان کے کیا اور کیسے خدمات ہیں؟ حالات کے حد درجہ ناساز گاری کے باوجود اسلام کو عروج و استحکام بخشنے میں ان کا کردار کیا ہے؟ اسلامی شریعت کے عملی نفاذ میں خود ان کی جانب سے عملی اطاعت کس نوعیت اور کس درجے کی تھی؟ کفار کے تعاقب، مصائب کی گہما گہمی اسباب و وسائل کے یکسر فقدان اور دشمنوں کی شدید مخالفت کے باوجود اسلام کو ایک مضبوط اور ٹھوس پلیٹ فارم بنانے میں ان کا کیا کردار رہا ہے؟ مزاحمت اور ردِ عمل کے کیا اسلوب تھے؟ دعوت و تبلیغ کے کیا مناہج تھے؟ خطرات کے ازدھام، دشمنوں کی شدت انگیزیوں اور بھرپور اقدامات کے باوجود مسلمان اور اسلام محفوظ کیوں کر رہا؟ ان سوالوں کے جوابات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہترین اور مثالی زندگی کے مطالعاتی غور و فکر کے بعد واضح ہو جاتی ہے، سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خدمات، جرأت اور ہمت، ان کی دانائی، دانش مندی اور لیاقت، اسلام سے محبت، غایت درجہ الفت اوراس کے تئیں جذبہ فداکاری اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ہمہ تن پیشی و انہماک؛ دعوت کی راہ میں حائل قوتوں سے جنگ و مزاحمت اور دشمن طاقتوں سے لوہا لینا اور ہر پہلو سے ایک فولادی، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر پہاڑ ثابت ہونا اور ایسے ایسے کارنامے انجام دینا جن پر عقولِ انسانی آج تک دنگ ہیں ایسی روایتی یا عام سی افسانوی کہانی نہیں یا ایسا کوئی تصوراتی خاکہ نہیں کہ جس کی سچائی و صداقت پر سوالیہ نشان لگایا جا سکے۔
جن چودہ صدیوں میں جتنی تصانیف اسلام کی اشاعت اور اس کے بقاء و تحفظ کے عنوان سے معرضِ وجود میں آئیں وہ سب کی سب، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خدماتِ جلیلہ اور بہترین کار کردگیوں کا واضح اعتراف ہیں، واقعہ نگاروں نے ایسے بے شمار تذکرے کتابیں اور تصانیف تحریر کی ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار اور ان کے مقام کے تعیین و انتخاب میں بدیہی دلائل کی حیثیت رکھتے ہیں دراصل معروضہ اور مقصد یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تمام تر خدماتِ جلیلہ کے باوجود، مسلم طبقے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تئیں اعتقادی حوالے سے وہ عملی استحکام نہیں جو ایک مسلم کے دل میں ہونی چاہیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ حضرات جن کی انتھک جدوجہد اور تعاون کے بعد اسلام کو ایک وسیع اور عالمگیر فضا ملی انہیں ہی فراموش کر دیا گیا اور ان کی خدمات کو ذہول و نسیان کے خانے میں ڈال دیا گیا جو مسلم قوم کے لیے کسی بدترین المیہ سے کم نہیں۔
آج کی تاریخ میں امتِ مسلمہ کا موجودہ بحران اور اس کی ناقابلِ تدارک پسماندگی کے جو بھی اسباب ہوں اور جیسے بھی محرکات و مضمرات ہوں وہ ایک المیہ ہے دراصل آئیڈیل ہدف کی تعیین ان تمام المناک مراحل کا سدِباب ہے آج اگر ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک زیست کے اصول اور حیات گذاری کے اسلوب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک لائحہ عمل تیار کریں گے اور اسے برتیں گے تو عین ممکن ہے کہ مسلم کمیونٹی کے لیے دن بدن پیدا ہونے والے مسائل کی شیطانی رفتار، تھم جائے اور امتِ مسلمہ کی پسماندگی چھٹتی نظر آئے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی کی طرف ایک بار دوبارہ مڑ کر دیکھیں اور ان کی جدوجہد سے لبریز تاریخ کے انقلابی گوشوں کو مشعلِ راہ بنائیں، ہو سکتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ امید کے امکانات روشن ہوں گے، ہمیں اپنے مسائل سے چھٹکارا ملے گا اور کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ پھر دوبارہ ہمیں مل جائے گی۔

صفحہ 3 از 3