صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقوش کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقوش کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت

  سہیل اختر قاسمی

صفحہ 2 از 3
اسلام نے اپنی پیدائش کے بعد اپنی افزائش کی ذمہ داریاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر عائد کی اور انہیں ہی اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اس کی حقانیت و اجتماعیت کے اثبات کے لیے متعین و منتخب کیا اور یہ انتخاب صحیح معنوں میں موزوں اور بروقت تھا کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہ صرف ذمہ داریاں قبول کیں بلکہ انہوں نے ان ذمہ داریوں، فرائض اور ان حقوق کی ادائیگی میں جو دعوت و تبلیغ کے ضمن میں آتے ہیں، کبھی بھی کوئی خامی نہیں رہنے دی، دعوت و تبلیغ کے تمام حقوق کی ادائیگی میں مکمل اخلاص اور اتمام کا مظاہرہ کیا اور اپنے ما بعد نسلوں کے لیے ایک نمونہ اور مشعلِ راہ چھوڑ دیا، حضور پُرنورﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے ان کا سب سے قیمتی سرمایہ مدینة الرسولﷺ کی یادیں اور وہاں کی فضاء تھا، یثرب کا پیارا احساس ان کے لیے توشہ زیست تھا، مدینے کی گلیاں ان کے لیے حسین تر جنت کی بل کھاتی خوبصورت پگڈنڈیاں تھیں، اور پھر ان سب علائق کے ساتھ وہ حکایات جن کے تانے بانے شہر رسولﷺ کے ذرہ ذرہ سے مربوط تھے ان کی زندگی جینے کا جواز تھی ان تمام رنگینیوں کے باوجود دین محمدی کے اعلاء و فروغ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیگر شہر و ممالک کا قصد کیا اور تبلیغ اسلام کی بھرپور سعی کی، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ میں فروکش ہوئے اور تعلیمِ دین کا سلسلہ چل پڑا، مرکزیت کے حامل شہر کعبہ میں اقامت، ان کی خوش نصیبی بھی تھی اور ذمہ داری بھی، سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی، سیدنا عبداللہ بن ابی ربیعہ المخزومی، سیدنا عکرمہ بن ابی جہل، سیدنا عتاب بن اسید، سیدنا خالد بن اسید، سیدنا حکم بن ابی العاص، سیدنا صفوان بن امیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے درجنوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ میں درس و تدریس اور کارِ تبلیغ میں مصروف تھے۔
کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوفہ کو سدھار گئے، جو مسلم مجاہدین کا ہیڈ کوارٹر تھا بالخصوص حضرت علیؓ کی خلافت کی مرکزیت کی وجہ سے تشریف آوری زیادہ ہوئی مشاہیرِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا سعد ابن ابی وقاص، سیدنا سعید بن زید بن عمر بن نفیل، سیدنا نعمان بن بشیر، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا جریر بن عبداللہ البجلی، سیدنا عدی بن حاتم الطائی، سیدنا اشعب بن قیس، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ان میں سے اکثر حضرات آخری عمر تک کوفہ میں رہے اور وہیں مدفون ہوئے ان حضرات کے درس و تدریس اور مسند علم و فضل کا چرچہ کوفہ میں صدیوں تک رہا۔
کچھ نے بصرہ کی پُر بصیرت کوچوں میں علمِ حدیث اور معرفتِ قرآن کی بساطیں بچھائیں اور خوب خوب جواہر اور فن پارے لٹائے، سیدنا معقل بن یسار، سیدنا ابو زہرہ الاسلمی، سیدنا عبداللہ بن مغفل المزنی، سیدنا ابوبکرہ، سیدنا انس بن مالک، سیدنا ثابت بن زید، سیدنا اقرع بن حابس، سیدنا عثمان بن ابی العاص، سیدنا ابو العشراء الدارمی رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں تعلیمِ دین کی کمان سنبھال لی اور اپنی خدمات رسول اللہﷺ کے دین کی تبلیغ کے لیے وقف کر دی، سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا خارجہ بن حذافہ، سیدنا ابوبصرہ الغفاری، سیدنا ابوفاطم الایادی ابوجمعہ الشموس البلوی اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مصر میں تعلیمِ دین کا ایک سلسلہ شروع کیا۔
فتوحاتِ مصر اور حضرت عمرو بن ابی العاص کی وہاں فروکشی کے بعد مرکزِ خلافت کی جانب سے تعلیم و تعلّم اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مختصر جمعیت مصر بھیجی گئی، اس جمعیت کے جلو میں بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تشریف لے آئے، مشہور سپہ سالار اسلام سیدنا عبید اللہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے جب شام پر یلغار کی اور اسے مملکتِ اسلامیہ میں داخل کر لیا، تو اشاعتِ دین کی غرض سے سیدنا بلالؓ بن رباع الموذن، سیدنا عبادہ بن الصامتؓ، سیدنا معاذ بن جبلؓ، سیدنا مسعود بن عبادہؓ، سیدنا شرجیل بن حسنہؓ، سیدنا خالد بن ولیدؓ، سیدنا عیاض بن غنمؓ، سیدنا فضل بن عباسؓ بن عبدالمطلب، سیدنا شداد بن اوسؓ، سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ، سیدنا بسر بن ابی ارطاةؓ وغیرہ تشریف لے گئے، جزیرے میں بھی بعض صحابہ کرام سیدنا عفان بن عمیرة الکندیؓ، سیدنا وابصہ بن معبد الاسدیؓ، سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کی موجودگی اشاعتِ دین کی غرض سے ہی تھی اور خراسان جیسے اجنبی دیار میں سیدنا بریدہ بن حصیب الاسلمی (مدفون بمرو) سیدنا ابو برزہ الاسلمی، سیدنا حکم بن عمر الغفاری، سیدنا عبداللہ بن الخازم الاسلمی، سیدنا قم بن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کا قیام اشاعتِ دین کے اغراض پر مبنی تھا۔
تبلیغ و دعوت کا کام ان کے لیے کوئی آسان لقمہ نہیں تھا کہ اس کو بسہولت نگل لیا جائے بلکہ یہ کام ان جانثار مجاہدوں کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوا تھا، اس راہ میں انہوں نے جتنی تکالیف اٹھائی ہیں جتنی مشقتیں برداشت کی ہیں اور جتنے مصائب کو خندہ پیشانی سے سہا ہے، وہ سب تاریخ کے صفحات میں درج ہے، قرآن کریم نے ان کی انہی خدمات اور جذبہ جانثاری کے وسیلے میں یہ اعلان کیا کہ ان ”اصحابِ نبی“ کو رضائے خداوندی اور خوشنودی ایزدی جیسی قیمتی نعمتیں مل گئیں ”رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ“
صفحہ 2 از 3