شیخ القرآن حضرت مولانا محمد يعقوب شرودی دیوبندی رحمۃاللہ…

شیخ القرآن حضرت مولانا محمد يعقوب شرودی دیوبندی رحمۃاللہ علیہ کا فتویٰ


زکوۃ سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو شیعہ لکھوانے والے مولوی کی امامت

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک امام مسجد اپنا رقم بینک فارم میں یہ لکھ کر دیں کہ میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتا ہوں بالفاظ دیگر میں شیعہ ہوں۔ کیونکہ بینک میں شیعہ سنی کے الگ الگ اکاؤنٹ ہیں۔

ابھی دریافت طلب بات یہ ہے کہ کیا اس طرح لکھ کر دینے والے شخص کے پیچھے سنی مسلمانوں کی نمازیں پڑھنا عندالشرع جائز ہے یا نہیں؟ اور شخص اس تحریر کے بعد کسی مسجد کا امام بن سکتا ہے یا نہیں؟ برائے کرم شرعی حکم مدلل تحریر فرمائیں۔

جواب: تکفیر اہل بدعت میں فقہائے احنافؒ کے مختلف اقوال ہیں، بعضے احتیاط برتتے ہیں۔ البتہ اگر منصوصاتِ قطعیہ کے منکر ہوں وہ بےشک کافر ہوں گے۔

شیعوں میں سے جو بھی تحریفِ قرآن پر یقین رکھتا ہو اور جو قرآن کریم کو (معاذاللہ) ناقص و محرف کہتا ہو یا حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہو وہ بیشک کافر ہے۔

: نعم لاشك في تكفير من قذف السيدة عائشةؓ او انكر صحبة الصديقؓ او اعتقدالولوهية علىؓ الخ: (شامی: جلد 3 صفحہ 406)

پس بلا ریب امام مذکور امامت کا لائق نہیں جو اتنا بےضمیر ہے کہ چند پیسے زکوٰۃ کی کٹوتی سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو شیعہ لکھتا ہے، جو خود جانا چاہے اس کو کوئی کیسا روکے۔ (ثمينہ الفتاوىٰ: جلد 1 صفحہ 48)