امام صاحب کے لیے شيعہ کا لقمہ لينا درست نہیں - فتاویٰ جات |…

امام صاحب کے لیے شيعہ کا لقمہ لينا درست نہیں


اور شیعہ زیدیہ کے علاوہ باقی تمام شیعوں کا یہی حکم ہے۔ اور کافر یا مرتد کا لقمہ لینے سے امام کی نماز اور اس کے مقتدیوں کی نماز باطل ہو جاتی ہے، اس لئے شیعہ کا لقمہ نہ لیا کرے۔

اگر شیعہ سنی امام کے پیچھے اقتداء کر کے نماز میں شریک ہونے کے بعد لقمہ دے گا تو بھی امام کے لیے اس کا لقمہ لینا درست نہیں ہو گا۔ اگر سنی امام، شیعہ کا لقمہ لے کر اپنی غلطی درست کرے گا تو امام اور مقتدی سب کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ کیونکہ کافر اور مرتد کی نماز اور اقتداء درست نہیں۔

وفي الفقه الاسلامي وادلته فلا يصح اداء العبادة من الكفار ما داموا كفار۔ وعليه لا تصح الصلوة من كافر بالاجماع وفي المجموع شرح المهذب لا يصح من كافر صلى ولا مرتد صلاة: ولوصلي في كفره ثم اسلم لم تتبين صحتها بل هي باطلة بلا خلاف۔ قال اصحابنا وغيرهم: لا يصحمن كافر عبادة: (تراویح کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: صفحہ 284)