مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن کریم کی روشنی میں - دفاعِ…

مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن کریم کی روشنی میں

  مولانا شفیق احمد اعظمی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔

کفروفسق سے محفوظ تھے

وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ لَو یُطِیعُکم فِی کَثیرٍ مِنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُم الاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِی قُلُوْبِکُمْ وکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالعِصْیَانَ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ (سورة الحجرات: آیت، 7)

ترجمہ: اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں اگر بہت سے کاموں میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اوراس کی (تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر و فسق اور عصیان سے تم کو نفرت دیدی ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں۔

عبادت کے خوگر اور رحمدل تھے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورۃ الفتح: آیت، 29)

ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب سورہ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے معارف القرآن جلد۸ میں تحریر کرتے ہیں:

قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں اس کی تصریحات ہیں جن میں چند آیات اسی سورة میں آ چکی ہیں:

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ مِنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ، اور، اَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَقْوٰی وَکَانُوا اَحَقَّ بِہا وَاَہْلَہا، انکے علاوہ بہت سی آیات میں یہ مضمون مذکور ہے، یَومَ لاَ یُخْزِ اللّٰہُ النَّبِیَ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ مَعَہ وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ المُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اِتَّبَعَہُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَّدَ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحتَہَا الْاَنْہٰرَ اور سورہ حدید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا ہے: وَکُلاَّ وَعَدَ اللّٰہُ الحُسْنٰی.

یعنی ان سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعدہ کیا ہے پھر سورہ انبیاء میں حسنیٰ کے متعلق فرمایا انَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنا الحُسْنٰی اولئک عَنہَا مُبْعَدُوْنَ یعنی جن لوگوں کیلئے ہماری طرف سے حسنیٰ کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے وہ جہنم کی آگ سے دور رکھے جائیں گے۔

صحابہ پر طعنہ زنی جائز نہیں

امام المفسرین علامہ قرطبی اپنی مشہور ومعروف تفسیر قرطبی جلد، 17 صفحہ، 322 پر رقم طراز ہیں: یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لئے ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیاتھا اور ان سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے ان کے باہمی اختلافات میں کف لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہتر طریقہ پر کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت (و عظمت) کی چیز ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔ (بحوالہ معارف القرآن،جلد، 8)

ہرمشکل کا حل اتباع صحابہ

آج ہم مسلمانوں کو عالمگیر سطح پر مشکلات کا سامنا ہے ہر محاذ پر ناکامی اور پسپائی ہے دشمنان اسلام متحد اور اسلام کو مٹانے پر متفق ہیں مسلمانوں پر طرح طرح سے الزامات اور بہتان تراشی ہورہی، پوری دنیا میں اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں میڈیا سرگرم ہے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر چل رہی ہے ہم ایک خطرناک اور نازک دور سے گذر رہے ہیں ان حالات میں صحابہ کرام کی مثالی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان پاکیزہ نفوس کو بھی ان حالات کا سامنا تھا بلکہ بعض اعتبار سے آج کے حالات سے زیادہ خطرناک صورتِ حال تھی مکہ میں ابتلاء و آزمائش کے شدید دور سے گذرتے تھے تعداد بھی کم تھی اور وسائل بھی نہیں، حدیبیہ میں یہودیوں اور منافقوں کی فتنہ انگیزیاں اور سازشیں تھیں، مشرکین مکہ کے حملے اور یہودی قبائل سے لڑائیاں تھیں پھر دائرہ وسیع ہوا تو قیصر روم اور کسریٰ کے خطرناک عزائم تھے ان سب حالات کا مقابلہ صحابہ کرام نے جس حکمت عملی اور صبر واستقامت سے کیا وہی تاریخ ہم کو دہرانی پڑے گی، اس لئے ضروری ہے کہ ہم سیرتِ صحابہ کا مطالعہ کریں ان کو اپنا رہنما و مقتدا جان کر اِس محبت وعقیدت سے ان کی پیروی کریں کہ ان کا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ہے صحابہ ہمارے لئے معیار حق اور مشعل راہ ہیں ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی گوارہ نہیں ان کی عظمت شان کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں عصر حاضر میں ان حضرات کی پیروی گزشتہ صدیوں کے مقابلہ میں زیادہ ضروری اور اہم ہے اور کامیابی کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں۔

میں نے چند آیات کے ذکر پر اکتفاء کیاہے ورنہ ان کے علاوہ اور بہت سی آیات میں ان کے فضائل ومناقب بیان کئے گئے ہیں جبکہ کتب احادیث میں مناقب صحابہ ایک مستقل باب ہوتا ہے جس میں انفرادی طور پر کبار صحابہ کے مناقب بھی ہیں اور مجموعی طور پر تمام اصحاب رسول کی عظمت و جلالت کا ذکر بھی ہے۔


صفحہ 2 از 2