مناظرینِ اہل سنت علامہ تونسوی - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظرینِ اہل سنت علامہ تونسوی

  مولانا عبدالستار تونسوی

بعد از خطبہ: فرمایا کہ مناظرِ شیعہ کوئی ایک روایت بھی اس قسم کی پیش نہیں کر سکتا جس سے یہ ثابت ہو کہ موجودہ قرآنِ مجید محرّف و مبدّل نہیں ہے۔  

باقی اس نے جو آیت: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ الخ۔(سورۃ الحجر: آیت 9)

پڑھی ہے، اس کے پڑھنے کا ان کو کوئی حق نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک تو قرآن کی تمام آیات مشکوک ہیں پہلے اپنا قرآن پر ایمان ثابت کریں، پھر قرآن پر استدلال کریں یہ تو مصادرہ علی المطلوب ہے جو کہ باطل ہے۔

2: علاوہ ازیں اسے قابلِ غور یہ امر ہے کہ فی الواقع یہ بات بالکل حق اور ٹھیک ہے کہ قرآنِ مجید کی محافظت کا وعدہ اللہ نے پورا فرمایا ہے، کہ قرآنِ مجید کے زیر و زبر تک کو بھی کوئی نہیں بدل سکا مگر اس جگہ سوال اور بحث یہ ہو رہی ہے کہ آیا شیعہ مذہب نے خداوندِ تعالیٰ کے اس وعدہ کو سچا سمجھا ہے؟ لہٰذا یہ اپنے نظریہ اور اعتقاد کا ثبوت پیش کریں کہ جس قرآن کا خداوندِ تعالیٰ خود محافظ ہے، شیعہ حضرات اس کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔

3: مولوی اسماعیل بیچارے اپنی کتابوں سے بھی واقف نہیں ان کی معتبر کتاب صافی شرح کافی کتاب فضل القرآن جزء ششم، باب النوادر، صفحہ 76 پر آیت: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ الخ۔(سورۃ الحجر: آیت 9)

کے متعلق لکھا ہوا ہے:  

پس دلالت نمیے کند بر محفوظ بودن جمیع قرآن۔

ترجمہ: پس یہ آیت پورے قرآنِ مجید کے محفوظ ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔  

اور اس عبارت کے بعد یہ لکھا ہوا ہے:  

حفظ قرآن دلالت بریں نمیےکند کہ نزدِ ہمہ کس محفوظ باشد، چہ میے تواند کہ نزدِ امام زماں و جمعے کہ صاحبِ سرا ویند محفوظ باشد۔

ترجمہ: حفظِ قرآن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سب لوگوں کے پاس محفوظ ہو، بلکہ ممکن ہے کہ امامِ زمانہ اور ان کے خاص لوگوں کے پاس محفوظ ہو۔  

تو مولوی اسماعیل ان عبارتوں کی موجودگی میں کس منہ سے اس آیت کو پیش کرتے ہیں؟

4: تفسیر صافی کا شیعہ مناظر نے جو حوالہ پیش کیا ہے: 

اِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ مِنَ التَّحْرِيفِ وَالتَّغْيِيرِ وَالزِّيَادَۃِ وَالنُّقْصَانِ۔  

یہ تو صاحبِ تفسیر صافی نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مقصد بیان کیا ہے اس میں شک نہیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو تحریف، تغیر، زیادتی اور نقصان سے محفوظ رکھا ہے۔  

مگر سوال شیعہ عقیدہ اور نظریہ کا ہے کہ ایک طرف تو یہ شیعہ مفسر قرآن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ کرنے کا وعدہ بیان کرتا ہے، اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ ائمہ اہلِ بیتؓ کی روایات سے ثابت ہے کہ قرآنِ کریم محرف ہے، اور ہمارے مشائخِ شیعہ کا اعتقاد بھی یہی ہے کہ موجودہ قرآن محرف و مبدل ہے۔  

پھر اس اختلاف کو یوں رفع کرتے ہیں کہ ائمہ اہلِ بیتؓ اور مشائخِ شیعہ کا اعتقاد اس موجودہ قرآن کے محرف اور کم و بیش ہونے کے متعلق بالکل صحیح ہے، اور: اِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9)

کے مخالف نہیں کیونکہ اصل قرآن امام مہدی اور ان کے رازداروں کے پاس محفوظ ہے اور موجودہ قرآن جو کہ شرقاً غرباً لوگوں کے پاس ہے، یہ محرف ہے، اور اس کے محرف ہونے میں کوئی حرج نہیں۔  

علاوہ ازیں میں نے تحریری روایات، امامِ معصوم کے اقوال پیش کیے تھے مولوی اسماعیل کو اگر ہمت ہے تو امامِ معصوم کا قول پیش کریں کہ قرآن محرف نہیں۔

5: نہج البلاغہ، جلد دوم، صفحہ 7 کی جو روایت شیعی مناظر نے پیش کی تھی، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآنِ کریم غیر محرف ہے اس میں تو صرف قرآن کو فیصل مانا گیا ہے بسا اوقات آدمی دوسروں کی کتاب اور غیروں کو اپنا فیصل بنا لیتا ہے جیسے ایک مناظر دوسرے مناظر سے کہتا ہے: چلو ہم تمہارے مذہب کی فلاں کتاب کو فیصل بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ اس مناظر کے نزدیک دوسرے مذہب والی کتاب ہمارے نزدیک صحیح اور درست ہے۔  

سیدنا علیؓ نے الزامی طور پر ان کو فرمایا کہ تم کیوں اعتراض کرتے ہو جب کہ ہم نے کسی انسان کو نہیں بلکہ قرآن کو جو تمہارے نزدیک اعتراض کے قابل نہیں حکم بنا دیا، تو اعتراض کی کوئی وجہ نہیں۔

6: ممکن ہے سیدنا علیؓ کے یہ الفاظ تقیہ کے طور پر ہوں۔

7: شیعی مناظر کا یہ جواب اصولِ کافی صفحہ 39 پر ہے کہ جو روایت کتاب اللہ کے موافق ہو لے لو، اور جو مخالف ہو چھوڑ دو تو اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ اپﷺ کے الفاظ موجودہ قرآن کے متعلق ہیں، بلکہ آپﷺ کے الفاظ تو اصلی قرآن کے متعلق ہیں جو شیعہ اعتقاد کے مطابق امام مہدی اور ان کے راز داروں کے پاس ہے۔  

بحث تو اس امر میں ہے کہ آیا موجودہ قرآنِ مجید شیعہ کے نزدیک صحیح اور غیر محرف کتاب اللہ ہے یا نہیں؟ اس کو تو ثابت نہیں کر سکے۔ اس کے ثبوت کے بغیر احادیث کی جانچ پڑتال کی طرف کیسے کود پڑے؟ یہ بات بھی ممکن ہے کہ تقیہ کے طور پر ہو۔ احتمالِ تقیہ کو رفع کیجیے۔

8: روایاتِ تحریف شیعہ کتابوں میں متواتر ہیں، تو یہ خبرِ واحد متواتر حدیث کے مقابلے میں قابلِ اعتبار نہیں۔

9: مرآۃ العقول: صفحہ 534 ملا باقر مجلسی فرماتے ہیں:  

وَعِندِی أَنَّ الْأَخْبَارَ فِی هَذَا الْبَابِ مُتَوَاتِرَةٌ مَعْنًى، وَطَرْحُ جَمِيعِهَا يُوجِبُ رَفْعَ الِاعْتِمَادِ عَنِ الْأَخْبَارِ رَاْساً بَلْ ظَنِّی أَنَّ الْأَخْبَارَ فِی ھٰذَا الْبَابِ لَا یُقْصِرُ عَنْ أَخْبَارِ الْاِمَامَۃِ فَکَیْفَ یُثْبِتُوْنَھَا بِالْخَبَرِ۔  

ترجمہ: میرے نزدیک تحریفِ قرآن کی روایتیں اپنے معنیٰ میں متواتر ہیں، اور ان تمام روایتوں کو ترک کرنے اور بے اعتبار سمجھنے سے پورے فنِ حدیث بے اعتبار ہو جائے گا بلکہ جہاں تک مجھے علم ہے تحریفِ قرآن کی روایتیں مسئلہِ امامت کی روایتوں سے کم نہیں۔ اگر روایاتِ تحریف کا اعتبار نہ کیا جائے تو پھر مسئلہِ امامت جو کہ روایت ہی سے ثابت ہے، کیسے ثابت ہوگا؟  

لیجیے حضرت مولوی اسماعیل جو کہتے تھے کہ تحریفِ قرآن کی روایات متواتر نہیں، ان کا یہ قول بھی غلط ہو گیا خود ان کی اپنی کتابوں میں تصریح موجود ہے کہ مسئلہِ امامت کی طرح تحریف کی روایات متواتر ہیں۔  

اب مولوی اسماعیل پر لازم ہے کہ قرآن کے محرف نہ ہونے کی متواتر روایات پیش کریں حالانکہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ان کے نزدیک موجودہ قرآن کی پوزیشن ایک صحیح خبرِ واحد کے برابر بھی نہیں البّتہ ان کے نزدیک اس قرآن کے محرف ہونے کی روایات معناً متواتر ہیں، جن سے موجودہ قرآن ان کے نزدیک محرف اور غلط ثابت ہو سکتا ہے مگر ان کے پاس متواتر تو بجائے خود کوئی ایک صحیح اور واضح روایت کسی ایک بھی امامِ معصوم کی ثابت نہیں ہے کہ موجودہ قرآن کامل و مکمل ہے اور جب کہ رسولِ کریمﷺ سے موجودہ قرآن نقل کرنے والوں کی ساری کی ساری جماعت کافر، مرتد، غاصب اور ظالم ہے، پھر قرآن ان کے نزدیک کیسے قابلِ اعتبار اور متواتر ہے؟ 

10: باقی مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ہم اس قرآن کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو اس کی وجہ خود ان کی کتابوں میں مذکور ہے وہ یہ ہے: 

ترجمہ مقبول: صفحہ 167 پر سیدنا علیؓ کا فرمان نقل کیا گیا ہے اصل عبارت: 

اَئِمَّہ عَلَیْہِمُ السَّلَام نے یہ حق مخصوص جنابِ صاحبِ العصر کا ہے کہ قرآنِ مجید کو اسی حد پر پڑھوائیں گے جس حد پر وہ زمانہِ رسولِ خداﷺ میں پڑھا جاتا تھا۔

نیز ترجمہ مقبول صفحہ 479 پر یوں مرقوم ہے اصل عبارت: 

ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیر یہ لوگ کر دیں، تم اس کو اس کے حال پر پڑھنے دو، اور تغیر کرنے والوں کا عذاب کم نہ کرو ہاں جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کر دو قرآنِ مجید کو اس کی حالت پر لانا جنابِ صاحبِ العصر امام مہدی علیہ السلام کا حق ہے، اور انہی کے وقت میں وہ حسبِ تنزیلِ خدا تعالیٰ پڑھا جائے گا۔