شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
سوال: شیعہ کے پیچھے نماز میں اقتداء کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:اس بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر اس کا عقیدہ اس درجے تک نہ پہنچا ہو کہ صحابہ کبارؓ اور امہات المؤمنینؓ کو کافر جانتا ہو، بلکہ صرف ظلم اور غصب اور جور کے ذکر پر اکتفا کرتا ہو تو ضرورت کی حالت میں اس کے پیچھے نماز میں اقتداء کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو بخاری اور مسلم میں وارد ہے اور مشکوۃ شریف میں موجود ہے۔ وہ روایت یہ ہے:
ترجمہ: یعنی عدی بن خیار حضرت عثمانؓ کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آپ محصور تھے یعنی باغیوں نے آپؓ کا حصار کیا تھا۔ تو عدی بن خیار نے کہا کہ آپ عام طور پر سب لوگوں کے امام ہیں اور آپ پر جو تردد آیا ہے وہ آپ پر ظاہر ہے اور ہم لوگوں کے آگے فتنہ کا امام یعنی مفسد نماز پڑھاتا ہے۔ اور ہم لوگوں کو اس میں حرج معلوم ہوتا ہے۔ تو حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ نماز لوگوں کے اعمال میں نہایت بہتر عمل ہے، تو جب لوگ نیک عمل کریں تو تم بھی ان کے ساتھ نیک عمل کرو، اور جب لوگ برا عمل کریں تو تم اُن کی بُرائی سے پرہیز کر۔
یہ ترجمہ روایت مذکورہ کا ہے۔ لیکن شیعہ کے پیچھے نماز میں اقتداء کرنا بحالت ضرورت بھی اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ ارکانِ نماز اور واجباتِ وضو میں ہمارے مذہب کے موافق عمل کرے اور اس میں کچھ خلل نہ ہو، مثلاً وضو میں ہمارے مذہب کے موافق پاؤں دھوئے، ایسا نہ ہو کہ اپنے مذہب کے موافق پاؤں پر مسح کرے۔ ورنہ اس کے پیچھے نماز میں اقتداء کرنا جائز نہیں۔
البته مسائل اجتہادیہ کہ منصوصات قطعیہ سے نہیں اور علماء کرام میں ان مسائل میں فرضیت اور وجوب کے بارے میں باہم اختلاف ہے۔ ایسے مسائل میں اگر خلل واقع ہو تو اس میں مضائقہ نہیں۔ جیسے یہ مسئلہ ہے کہ وضو میں ترتیب اور نیت امام شافعیؒ کے نزدیک واجب ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ثابت ہے کہ جب خون نکلے اور بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس حال میں بھی متاخرین حنفیہؒ کا مذہب یہی ہے کہ شیعہ کے پیچھے نماز میں ہرگز اقتداء نہ کرنا چاہیے۔ لیکن مذہب منصور اور اقویٰ یہ ہے کہ جب شرط مذکور پائی جائے تو اقتداء جائز ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابو یوسفؒ نے ہارون الرشید کے پیچھے اقتداء کی تھی۔ یعنی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز ہے کہ فاضل مفضول کے پیچھے اقتداء کرے۔ اور مذہب تحقیق یہ ہے کہ مسائل اجتہادیہ میں حق تابع اجتہاد ہوتا ہے بخلاف مسائل منصوصہ کے، یعنی بخلاف ان مسائل کے کہ اس میں نص وارد ہے۔ کہ اگر خلاف اس نص کے اجتہاد کیا جائے تو وہ قابل سماعت نہیں۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 389)