مولوی کی امامت جو شیعہ (مقتول) كو شہيد کہے
سوال: ہمارے شہر میں شیعہ اثناء عشری فرقے سے تعلق رکھنے والے بدر عباس کو نامعلوم لوگوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقتول تحریک جعفریہ خانیوال کا صدر ضلعی اور ماتمی کمیٹی کا سربراہ تھا۔ مدینہ مسجد خانیوال کے امام قاری اکرام اللہ نے نماز جمعہ کے بعد مقتول بدر عباس کے لیے اس کا نام لے کر دو مرتبہ دعائے مغفرت کرائی اور اسے شہید کہا۔ دعا کے الفاظ یہ ہیں یا اللہ! سید بدر عباس شہید کی مغفرت فرما۔
کچھ لوگ قاری صاحب کی اس حرکت پر ناراض ہوئے تو قاری صاحب نے بجائے غلطی تسلیم کرنے کے یہ کہا کہ مجھے کسی کی پرواہ نہیں، انتظامیہ میرے ساتھ ہے۔ بلکہ دو حفاظ کرام سے قاری اکرام اللہ نے یہ کہا کہ مقتول کا اپنی زندگی میں میرے پاس آنا جانا تھا تم اس کا کفر ثابت کرو۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو امام بنانا جائز ہے؟ کیا اس کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟ جو لوگ نماز پڑھ رہے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مسجد کی انتظامیہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: اہل سنت اور شیعہ کے اختلافات پر میں مستقل کتاب لکھ چکا ہوں، اور علماء کا فتویٰ بھی سامنے آ چکا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان عقائد کے رکھنے والے کو مسلمان یا شہید کہنا صحیح نہیں۔ اور ایسے شخص کے پیچھے نماز درست نہیں۔ اگر کسی ہندو، عیسائی، یہودی یا کسی اور غیرمسلم کو ناحق قتل کر دیا جائے، جب کہ وہ ہمارے ملک کا شہری ہے تو وہ بھی ناجائز ہوگا، لیکن کسی ایسے غیر مسلم کو جو ظلماً قتل کیا گیا ہو: شہید: کہنا صحیح نہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد 7 صفحہ 541)