بعد از خطبہ:
مومنو! قرآنِ مجید میں ہے:
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9)
ترجمہ: ہم نے قرآنِ مجید کو نازل فرمایا اور ہم خود اس کے محافظ ہیں۔
تو جب اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہے تو کون اس کو محرّف و مبدّل کر سکتا ہے؟ اور نصِ قرآن کے مقابلے میں کوئی روایت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی اور نہ ہم تحریف و تبدیل کے قائل ہیں۔
مولوی عبد الستار صاحبؒ بار بار تفسیر الصافی کے حوالے پیش کرتا ہے دیکھیے میرے ہاتھ میں یہ تفسیر الصافی ہے اسی آیتِ مذکورہ بالا کے نیچے لکھا ہوا ہے:
مِنَ التَّحْرِيْفِ وَالتَّغْيِيْرِ وَالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ۔
ترجمہ: یعنی: ہم خود قرآن کو تحریف، تغییر، زیادتی اور کمی سے محفوظ رکھیں گے۔
تو دیکھیے! ہمارے نزدیک قرآنِ مجید ہر قسم کی تحریف و تغییر، کمی اور بیشی سے محفوظ ہے ہمارا اسی پر عمل ہے ہم اسی قرآن کو پڑھتے، پڑھاتے ہیں نمازوں میں پڑھتے ہیں ہمارا اور کوئی قرآن نہیں ہے لہٰذا ہمارا اس پر ایمان ہے۔
2: دیکھیے! ہمارے پیر و مرشد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِنَّا لَمْ نُحَكِّمِ الرِّجَالَ وَاِنَّمَا حَكَّمْنَا الْقُرْآنَ، وَهَذَا الْقُرْآنُ اِنَّمَا هُوَ خَطٌّ مَسْطُوْرٌ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ۔ (نہج البلاغہ: جلد 2 صفحہ 7)
ترجمہ: ہم نے لوگوں کو فیصل نہیں بنایا، بلکہ ہم نے قرآن کو فیصل مانا اور یہ قرآن صرف دو گتوں کے درمیان لکھا ہوا ہے۔
دیکھیے! ہمارے سیدنا علی المرتضیٰؓ اسی قرآن کو مانتے ہیں جو دو گتوں کے درمیان ہے اور اسی پر ہم اہلِ تشیع کا ایمان ہے۔
3: اصولِ کافی: صفحہ 39، پر مرقوم ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا:
فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللهِ فَخُذُوهُ وَمَا خَالَفَ كِتَابَ اللهِ فَدَعُوهُ۔
ترجمہ: جو حدیث کتابِ اللہ کے موافق ہو اسے مان لو، اور جو حدیث کتابِ اللہ کے مخالف ہو اسے چھوڑ دو۔
غور کیجیے! ہمارے نزدیک قرآنِ مجید کا یہ مرتبہ ہے کہ اس کے مقابلے میں ہم کوئی حدیث اور روایت نہیں مانتے تو ہم اہلِ تشیع کا اسی قرآن پر ایمان ہے۔
4: قرآنِ مجید متواتر و طبقاتی ہے اخبارِ آحاد اس کو معرّف ثابت نہیں کر سکتیں اور جو روایات مولوی عبد الستار صاحب نے الاحتجاج طبرسی وغیرہ کتبِ شیعہ سے پیش کی ہیں، یہ تمام روایات موضوع ہیں، یہ غلط ہیں۔
چونکہ قرآن متواتر و طبقاتی ہے، اس لیے مولوی عبد الستار صاحبؒ بھی تحریف کے ثبوت کے لیے متواتر و طبقاتی روایات پیش کریں باقی کسی قسم کی کوئی روایت ہمارے نزدیک تحریف ثابت نہیں کر سکتی۔
تو مولوی عبد الستار صاحبؒ ایسی ضعیف روایات سے شیعہ مذہب کے متعلق کیسے ثابت کر سکتا ہے کہ ان کے نزدیک موجودہ قرآن کامل و مکمل نہیں؟ یا اس میں تحریف و تبدیل کی گئی ہے؟ یا اس قرآن کے ذریعے کفر کے ستون کھڑے ہوتے ہیں؟
اگر ہمارے نزدیک یہ قرآن کفر کے ستون کھڑے کرتا، تو پھر ہم اسے کیوں پڑھتے؟ اور بچوں کو کیوں پڑھاتے؟ دنیا کے سامنے اسٹیجوں پر وعظ کیوں کرتے؟