تعزیہ بنانے والے کی امامت - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

تعزیہ بنانے والے کی امامت


سوال: زید تعزیہ داری کا شد و مد سے اہتمام کرتا ہے اور چوک یعنی تعزیہ رکھنے کے چبوترہ کو مسجد کے حکم میں جانتا ہے، اس کا بنانا، بگاڑنا اور موقفہ ملکیت فی سبیل اللہ جاننا، خلاصہ یہ کہ بعینہٖ مسجد کے حکم میں سمجھتا ہے۔ اس کی امامت نیز اس کے چوک کا حکم کیا ہے؟

جواب: چونکہ تعزیہ داری گناہ کبیرہ ہے اور اشد فسق و فجو رہے۔ لہٰذا اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔ اور تعزیہ داری کے چوک بنانا حرام ہے۔ پس اس کا وقف صحیح نہیں بلکہ قطعاً باطل ہے۔  (جامع الفتاویٰ: جلد 5 صفحہ 61)