اہل سنت کی مسجد میں شیعہ کا اذان دینے کا حکم - فتاویٰ جات |…

اہل سنت کی مسجد میں شیعہ کا اذان دینے کا حکم


سوال:ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جو کہ قدیم سے سنیوں کے قبضے میں ہے، اور کبھی کبھی شیعہ بھی آ کر نماز ادا کرتا رہتا ہے۔ اب سال بھر سے اذان بھی پڑھنی شروع کر دی ہے۔ کبھی ایک آدمی آتا ہے اور کبھی دو آتے ہیں، اب اس صورت میں اذان شیعہ پر اکتفا کر کے نماز ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یا دوسری اذان کی ضرورت ہے؟ یا شیعوں کو مسجد سے نکال دیا جائے؟

جواب: جب کہ یہ مسجد قدیم سے اہل سنت و الجماعت کی ہے تو روافض کو اس میں اپنے طریق پر اذان کہنے کا کوئی حق نہیں، اہل سنت ان کو اس سے روکیں، اور اگر وہ باز نہ آئیں تو اپنی اذان جدا کہا کریں، کیونکہ روافض کی اذان خلافِ سنت ہے، وہ کافی نہیں ہے۔

وفي البحر الرائق: يكره في الاذان: حي على خير العمل لانه لم يثبت عن النبي۔ والزيادة في الاذان مكروهة، وقد سمعناه الآن عن الزيدية ببعض البلاد

(امداد المفتين جامع: جلد 3 صفحہ 83)