شیعہ فرقوں کے احکام اور ان کو سنیوں کے مساجد میں آنے سے روکنا
سوال: چند شخص اہل سنت کے شیعوں کی صحبت کے اثر سے شیعہ ہو گئے ہیں اور یہ مرض بوجہ رشتہ داری کے دن بدن بڑھتا گیا یہاں تک کہ علانیہ طور پر لعن طعن و تبراء گوئی خلفائے ثلاثہؓ اور ازواجِ مطہراتؓ پر شیعوں نے شروع کر دی اور اس وجہ سے اہل سنت والجماعت اور شیعوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی کہ جنازہ اور نماز مل کر پڑھنے کی رواداری بھی نہ رہی۔ اور ان کی یہ ناشائستہ حرکات دیکھ کر سنیوں نے ان کو اپنی مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے انہوں نے اپنی دوسری مسجد بنا لی اور اپنا تنخواہ دار پیش امام بھی مقرر کر لیا۔ اور اب جب کہ شیعوں کی تعداد بڑھنی شروع ہو گئی تو زبردستی سنیوں کی مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور شہر کی تمام مساجد پر اپنا قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام مسجدیں سب مسلمانوں کی ہیں اور ہر ایک مسلمان خواہ کسی فرقہ کا ہو ان میں اپنی اپنی مذہبی رسوم کے مطابق نماز ادا کر سکتا ہے، کوئی مسجد کسی خاص فرقہ کی مخصوص نہیں ہو سکتی اس لئے تمام مسلمانوں کی مشترک ہیں، اس لیے ہم کو بھی تمہاری مسجدوں میں نماز پڑھنے کا حق ہے اور نیز خود آنحضرتﷺ نے عیسائی یا یہودی مہمانوں کو اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ تم اہل سنت و الجماعت ہم کو اپنی مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روک کر قرآن کریم کی اس آیت وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنۡ يُّذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ کی وعید میں داخل ہو رہے ہو۔
سنی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ تم شیعانِ امامیہ کا عقیدہ رکھتے ہو کہ موجودہ قرآن شریف تحریف شدہ ہے، خلفائے ثلاثہؓ اور ا زواجِ مطہراتؓ (نعوذباللہ) کافر و منافق و غاصب تھے اور ان پر لعن و تبراء کرنا کارِ ثواب جانتے ہو جیسا کہ تمہاری کتابوں میں تصریحات موجود ہیں۔ ایسے عقائد رکھنے والے اشخاص منکر ضروریات میں شمار ہوتے ہیں، لہٰذا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ایسے شخصوں کو ہماری سنیوں کی مسجدوں میں داخل ہونے کا کوئی حق نہیں اور نہ اس صورت میں ہم آیت وَمَنۡ اَظۡلَمُ الخ کی وعید میں آسکتے ہیں۔ اور جناب سرورِ کائناتﷺ نے اگر اپنے مہمانوں کو جو غیر مذہب تھے اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو وہ اوائل اسلام میں ایسا ہوا، اس کے بعد پھر ایسا ہوا ہی نہیں جیسا کہ تفسیر کبیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تنازعہ میں کون سا فریق حق بجانب ہے؟ سنی یا شیعہ؟ جواب مدلل عنایت فرمائیں؟
جواب: روافض کے مختلف فرقوں میں سے جو فرقے ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں، مثلاً صحبت صدیقِ اکبرؓ کا انکار کریں یا عائشہ صدیقہؓ پر تہمت رکھتے ہیں یا قرآن مجید کو محترف اور غیر معتبر کہتے ہیں یہ لوگ تو قطعاً باجماع امت کافر ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے مگر خلفائے ثلاثہؓ پر تبراء کرتے ہیں ان کے کفر میں اختلاف ہے مگر احتیاط اس میں ہے جس کو علامہ شامیؒ نے اختیار کیا ہے کہ تکفیر نہ کی جائے لیکن اس میں شبہ نہیں کہ فاسق ہیں۔
بہر صورت سنی مسلمانوں کی مساجد میں ان لوگوں کا عمل دخل جائز نہیں رکھا جا سکتا۔ کیونکہ اگر قسم اول کا عقیدہ رکھتے ہیں تو کافر ہیں، ان کو مساجد کے معاملات میں حقدار بنانا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اور اگر قسم ثانی میں داخل ہیں تب بھی سنی اہلِ محلہ کو حق ہے کہ ان کو اپنی مساجد میں آنے سے منع کر دیں۔ کیونکہ ان سے عام مسلمانوں کو ایذا پہنچتی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر کیا ایذاء ہو گی کہ ان کے پیشواؤں (صحابہ کرامؓ) کو بُرا کہنا شیعوں کے مذہب کا جزو ہے اس لیے دوسری قسم کے روافض کے لیے اگرچہ فتویٰ ان کے کفر کا نہ دیا جائے گا مگر مساجد اہلِ سنت میں آنے سے روکنا جائز ہے۔ البتہ جو روافض تبراء نہ کرتے ہوں بلکہ صرف سیدنا علیؓ کو باقی خلفاءؓ سے افضل کہتے ہیں اور مسجد میں کوئی فساد و تعصب نہیں کرتے ان کو مسجد میں آنے سے نہ روکا جائے تو بہتر ہے، کیونکہ ان سے کوئی ایذا نہیں ہے۔
(امداد المفتين: جلد 2 صفحہ 136)