اسماء گرامی علماء و مناظرین و سرپرستان مناظرہ ہر دو فریق -…

اسماء گرامی علماء و مناظرین و سرپرستان مناظرہ ہر دو فریق

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: سیدنا ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ فوت ہوئے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے قرآن کو جمع کیا اور مہاجرین و انصار کے پاس لائے اور ان پر پیش کیا، کیونکہ رسول اللہﷺ کی اس کے متعلق وصیت تھی۔ جب سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے قرآن کا پہلا صفحہ کھولا تو اس پر قوم کی برائیاں تھیں بس سیدنا عمر فاروقؓ ڈر گئے اور کہنے لگے: اے علیؓ! اسے لے جاؤ، ہمیں اس کی حاجت نہیں پس حضرت علیؓ وہ قرآن لے کر واپس چلے گئے اس کے بعد سیدنا زید بن ثابتؓ کو بلایا گیا، جو قرآن کے قاری تھے تو سیدنا عمرؓ نے ان سے کہا کہ سیدنا علیؓ ہمارے پاس قرآن لائے تھے جس میں مہاجرین و انصار کی ہتک اور معائب تھے اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ قرآن جمع کریں اور اس میں سے مہاجرین و انصار کی ہتک والی آیات گرا دیں تو سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا: میں ایسا کر دیتا ہوں۔

حضرات! غور کیجیے، یہ روایت کھلم کھلا ثابت کرتی ہے کہ سیدنا علیؓ کا قرآن اور تھا جس میں مہاجرین و انصار کے ہتک اور معائب تھے اب موجودہ قرآن میں تو مہاجرین و انصار کی تعریف ہے تو ثابت ہوا کہ قرآن شیعہ کے نزدیک محرف و مبدل ہے، اور وہ سیدنا علیؓ والا قرآن نہیں ہے۔

مرآة العقول جلد اول، صفحہ 171:  قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّادِقُ: أَمَا وَاللهِ لَوْ قُرِئَ الْقُرْآنُ كَمَا أُنْزِلَ لَأَلْفَيْتُمُوْنَا فِيْهِ مُسَمَّئيْنَ۔  

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر قرآن اسی طرح پڑھا جائے جس طرح نازل کیا گیا تو تم یقیناً ہمیں اس میں ہمارا نام پاؤ گے۔  

سیدنا جعفر صادقؒ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ اصلی و صحیح قرآن میں ائمہ کے نام لکھے ہوئے تھے، مگر اس موجودہ قرآن میں ائمہ کے نام نہیں۔ تو معلوم ہوا قرآن محرف ہوا۔

تفسیر مقبول صفحہ 407: اَلتَّاۤئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت 112)

  کافی میں منقول ہے کہ سیدنا محمد باقرؒ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو سیدنا باقرؒ نے فرمایا: یوں نہیں ہے، بلکہ التَّائِبِيْنَ الْعَابِدِيْنَ ہے۔  

غور کیجیے! اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ قرآن میں اَلتَّاۤئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 112) غلط ہے۔

تفسیرِ قمی صفحہ 129:  سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: نَزَلَتْ: فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُوْلِ وَاِلیٰ أُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ۔ 

مگر موجودہ قرآن میں وَاِلیٰ أُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ موجود نہیں ہے تو شیعہ کے نزدیک امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہوا کہ موجودہ قرآن میں یہ آیت غلط و محرف ہے۔

اصولِ کافی صفحہ 671: پر مرقوم ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنا قرآن جمع کر کے مہاجرین و انصار کے پاس لائے تھے مگر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا:  

وَاللهِ مَا تَرَوْنَهُ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا أَبَدًا: 

ترجمہ: خدا کی قسم، آج کے بعد اس قرآن کو کبھی نہیں دیکھو گے۔

تو غور کیجیے میں نے ائمہِ معصومین کے یہ 10 اقوال شیعہ کی معتبر کتابوں سے پیش کیے ہیں اگر مناظر میں ہمت ہے تو میری ہر ایک دلیل کا جواب دے، اور اپنی کسی معتبر کتاب سے 12 ائمہ میں سے کسی ایک معصوم کا کوئی ایک معتبر تفصیلی قول پیش کر دے جس میں موجود ہو کہ موجودہ قرآن بغیر کسی تحریف و تبدیل اور کمی و بیشی کے کامل و مکمل ہے میرا دعویٰ ہے کہ شیعہ مناظر دنیا بھر کی اپنی معتبر کتب سے امامِ معصوم کا قیامت تک معتبر قول اس قسم کا پیش نہیں کر سکتا۔  

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے 

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔


صفحہ 2 از 2