اسماء گرامی علماء و مناظرین و سرپرستان مناظرہ ہر دو فریق -…

اسماء گرامی علماء و مناظرین و سرپرستان مناظرہ ہر دو فریق

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 1 از 2

اسماء اہل سنت و الجماعت:

مناظر: مناظرِ اعظم حضرت علامہ محمد عبد الستار تونسوی مدظلہ۔  

صدر: فاتحِ اعظم حضرت مولانا اللہ یار خان صاحب آف چکڑالہ۔ 

معین: امامِ پاکستان علامہ سید احمد شاہ صاحب بخاریؒ چکڑالوی۔ 

ان حضرات کے علاوہ حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، ناظمِ اعلیٰ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت پاکستان اور حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ رحمہم اللہ تعالیٰ بھی موجود تھے۔  

سرپرستِ محترم: حاجی مہر شوق محمد صاحب سرگانہ

اسماء اہل تشیع:

مناظر:مولوی محمد اسماعیل، صدر دارُ التبلیغ گوجرہ  

صدر: مولوی امیر محمد قریشی  

معین: تلمیذِ مولوی محمد اسماعیل، سید ضمیر الحسن، سید گلاب شاہ ملتانی، مولوی مشتاق احمد ڈیروی، مولوی سیف اللہ جعفری اور مولوی غلام محمد محمودی بھی تھے۔  

سرپرستِ محترم: مہر حق نواز سرگانہ

نیز یہ طے پایا کہ دونوں مناظرین کی پہلی تقریریں 15، 15 منٹ ہوں گی اور بعد میں 10، 10 منٹ ہوں گی۔

تفصیلِ مناظرہ:

مناظرہ 1: مدعی اہلِ سنت و الجماعت کا کہ اہلِ تشیع کے نزدیک ائمہ معصومین کی روایات سے موجود قرآنِ کریم محرف و مبدل ہے۔

مناظرہ اہلِ سنت: حضرت علامہ محمد عبد الستار صاحب تونسویؒ

الحمدللّٰہ رب العالمین، و العاقبة للمتقین، و السلام علی محمد و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔  

اما بعد:  

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 9)

حضرات! جس مبارک کتاب کی محافظت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ داری اٹھائی ہے، اور جسے آن حضرت محمدﷺ اور آپﷺ کے اہلِ بیتِ کرامؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بڑی جاں فشانی و قربانی سے ہم تک پہنچایا ہے، اس کے متعلق شیعہ مذہب یہ کہتا ہے کہ اس میں کفر کے ستون قائم کیے گئے ہیں کمی پیشی، تحریف و تبدیل اور جناب رسولِ اکرمﷺ کی توہین کی گئی۔

یہ میرے ہاتھ میں الاحتجاج طبرسی، شیعہ، صفحہ 137 ہے: 

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے زندیق کو فرمایا:  

ثُمَّ دَفَعَهُمُ الِاضْطِرَارُ بِوُرُوْدِ الْمَسَائِلِ عَلَيْهِمْ عَمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ، تَأْوِيْلَهٗ، اِلیٰ جَمْعِهٖ، وَتَأْلِيْفِهٖ، وَتَضْمِيْنِهٖ مِنْ تِلْقَائِهِمْ مَا يُقِيْمُوْنَ بِهٖ دَعَائِمَ كُفْرِهِمْ۔  

ترجمہ: پھر جب ان منافقوں سے وہ مسائل پوچھے جانے لگے جنہیں وہ نہیں جانتے تھے، تو مجبور ہو کر قرآن کو جمع کیا، اس کی تاویل کی، اور قرآن میں وہ باتیں بڑھائیں جن سے وہ اپنے کفر کے ستون قائم کریں۔  

غور کیجیے! سیدنا علی المرتضیٰؓ امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہو رہا ہے کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستون قائم کر دیے گئے۔

تفسیر الصافی صفحہ 11:  عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلَام: لَوْلَا أَنَّهُ زِيْدَ فِی كِتَابِ اللهِ وَنُقِصَ مِنْهُ مَا خَفِی حَقُّنَا عَلَى ذِی حِجّىٰ۔  

سیدنا محمد باقرؒ فرماتے ہیں: اگر قرآن میں اضافہ نہ کیا گیا ہوتا اور کمی نہ کی گئی ہوتی تو ہمارا حق کسی عقلمند پر پوشیدہ نہ ہوتا۔  

خیال فرمائیے! سیدنا محمد باقرؒ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ قرآن میں کمی و بیشی کر دی گئی ہے۔

اصولِ کافی صفحہ 262: عَنْ أَبِی عَبْدِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَام: وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهُ فِی وِلَايَةِ عَلِی وَالْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا هَكَذَا نَزَلَتْ۔  

ترجمہ: سیدنا ابی عبد اللہ سے روایت ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی: مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهُ فِی وِلَايَةِ عَلِی وَالْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا۔ 

موجودہ قرآن میں فِی وِلَايَةِ عَلِی وَالْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهٖ۔ کے الفاظ نہیں ہیں معلوم ہوا کہ موجودہ قرآن ناقص ہے۔

الاحتجاج طبرسی، صفحہ 131: سیدنا علی المرتضیٰؓ نے زندیق کو فرمایا: إِنَّهُمْ أَثْبَتُوا فِی الْكِتَابِ مَا لَمْ يَقُلْهُ اللهُ لِيُلَبِّسُوا عَلَى الْخَلِيْفَةِ۔  

ترجمہ: ان منافقوں نے قرآن میں وہ باتیں بڑھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی تھیں، تاکہ مخلوقِ خدا کو فریب دیں۔  

دوستو! سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جامعینِ قرآن نے ایسی چیزیں درج کر دیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائیں۔

تفسیر الصافی، صفحہ 11:  وَعَنْهُ عَلَيْهِ السَّلَام: إِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ طُرِحَ مِنْهُ اٰیٌ كَثِيْرَةٌ، وَلَمْ يُزَدْ فِيْهِ إِلَّا حُرُوْفٌ۔  

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے: بہ تحقیقِ قرآن سے بہت سی آیات گرا دی گئیں، مگر جو زیادہ کیا گیا وہ کہیں کہیں حرف بڑھا دیا گیا ہے۔  

دیکھیے! امامِ معصوم کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی بہت سی، بے شمار آیات گرا دی گئیں۔

فصلُ الخطاب از شیعہ، صفحہ 7:  عَنْ أَبِی ذَرٍّ الْغِفَارِی: أَنَّهُ لَمَّا تُوُفِّی رَسُوْلُ اللهِﷺ جَمَعَ عَلِی عَلَيْهِ السَّلَامُ الْقُرْآنَ وَجَاءَ بِهٖ إِلَى الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ، وَعَرَضَهُ عَلَيْهِمْ لِمَا قَدْ أَوْصَاهُ بِذَلِكَ رَسُوْلُ اللهِﷺ، فَلَمَّا فَتَحَهُ أَبُو بَكْرٍ، خَرَجَ فِی أَوَّلِ صَفْحَةٍ فَتَحَهَا فَضَائِحُ الْقَوْمِ، فَوَثَبَ عُمَرُ فَقَالَ: يَا علی ارْدُدْهُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيْهِ. فَأَخَذَهُ علی عَلَيْهِ السَّلَامُ وَانْصَرَفَ. ثُمَّ أُحْضِرَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ عَلِيًّا جَاءَنَا بِالْقُرْآنِ وَفِيْهِ فَضَائِحُ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ، وَقَدْ رَأَيْنَا أَنْ نُؤَلِّفَ الْقُرْآنَ وَنُسْقِطَ مِنْهُ مَا كَانَ فَضِيْحَةً وَهَتْكًا لِلْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ، فَأَجَابَهُ زَيْدٌ إِلَى ذَلِكَ۔

صفحہ 1 از 2