سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ کے پیچھے نماز پڑھنا…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ کے پیچھے نماز پڑھنا


سوال: زید کہتا ہے کہ میں سیدنا امیر معاویہؓ سے بدعقیدہ ہوں اور کسی طرح جی نہیں چاہتا کہ ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ کہوں، مگر اب تک کہا ہے اور کہتا ہوں اور کہوں گا۔ زید یہ بھی کہتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ تھے تو صحابی مگر دل میں سلطنت کی محبت رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح سلطنت یا خلافت میرے ہی خاندان میں رہے، اسی بناء پر انہوں نے اپنے بیٹے یزید سے کہہ دیا تھا کہ سیدنا حسینؓ کو مار ڈالنا، پھر زید اس اخیر جملے کے خلاف ایک یہ روایت بیان کرتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسینؓ کے مار ڈالنے کو یزید سے نہیں کہا تھا۔ غرض زید مختلف روایتیں بیان کرتا ہے اور غالباً اول روایت کو صحیح جانتا ہے۔ زید اپنے خیالات کی تائید میں یہ بھی پیش کرتا ہے کہ شمس التواریخ کے مصنف نے بھی اپنی تصنیف میں جابجا سیدنا امیر معاویہؓ پر طعن کئے ہیں۔ زید یہ بھی کہتا ہے کہ حضرت ابوسفیانؓ پکے مسلمان نہ تھے البتہ مرتے وقت پکے مسلمان ہو گئے تھے۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید جو اپنے کو سنی اور حنفی کہتا ہے تو ان عقائد اور خیالات کے رکھنے سے اس کی سنیت اور حنفیت میں کچھ نقصان آتا ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کے پیچھے نماز وغیرہ پڑھنے میں اور اس کی محفلوں اور جلسوں میں بیٹھنے سے کچھ خرابی تو نہیں آتی؟ اور یہ ارشاد فرمائیں کہ اہل سنت و الجماعت کو سیدنا امیر معاویہؓ اور حضرت ابو سفیانؓ سے کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؟ اور شمس التواریخ اور اس کے مصنف جو اکبر آبادی ہیں اور غالباً ابھی زندہ ہوں گے اسلام میں کیا رتبہ رکھتے ہیں؟ آیا ان کی تصانیف قابلِ اعتبار ہیں یا نہیں؟

جواب: احادیث میں ہے: لا تسبوا اصحابی فلوان احدكم انفق مثل أحد ذهبا ما بلغ من احدهم ولا نصيفه اكر موا اصحابی فانهم خياركم لا تمس النار مسلمار آنی: اور رآنی من رآني فمن احبهم فبحبى احبهم ومن ابغضهم فببغضى ابغضهم

اور حضرت ابو سفیانؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ یقیناً صحابی ہیں، اس لیے احادیث مذکورہ ان کو شامل ہو گئی۔ پس ان کا اکرام اور محبت واجب ہو گی اور ان کو بُرا کہنا اور ان سے بغض و نفرت رکھنا یقیناً حرام ہو گا، اور ان سے جو کچھ منقول ہے بعد تسلیم صحت نقل اُن اعمال پر اُن کے حسنات بلکہ خود ایک وصف صحابیت غالب ہے، جیسا ارشاد نبویﷺ ہے فلو ان احدكم، الخ اس پر دال ہے، اور اسی بناء پر: لا تمس النار، الخ فرمایا ہے۔

پس جو وسوسہ و خطرہ بلا اختیار دل میں پیدا ہوا وہ عفو ہے، اور جو عقیدہ اور تعلق اختیار سے ہو اس کی اصلاح واجب ہے۔ اور جو شخص بااختیار بدگمانی یا بدزبانی یا بغض و نفرت رکھے گا، لامحالہ وہ احادیث نبویﷺ کا مخالف اور خارج از اہل سنت والجماعت ہے، جیسا کتب اہلِ سنت سے ظاہر ہے۔ اس لیے اس کی امامت بھی مکروہ ہے اور اختلاط بلاضرورت ممنوع ہے فی شرح العقائد النسفية وما وقع بينهم من المنازعات والمحاربات فله محامل وتاويلات فهم والطعن فيهم ان كان مما يخالف الادلة القطعية فكفر كقذف عائشةؓ والافبدعة

شمس التواریخ نظر سے نہیں گزری نہ مصنف کا حال معلوم ہوا۔ (امداد الفتاوی: جلد 11 صفحہ 599)