سوال: تعزیہ پر فاتحہ کے واسطے روٹیاں اور کھانا یا شیرینی یا شربت لے جاتے ہیں اور وہاں فاتحہ دلا کر تبرکاً تقسیم کرتے ہیں۔ شرعاً کھانا اس کا کیسا ہے؟
تعزیہ بنانے والے یا تعزیہ میں چندہ دینے والے کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ آیا ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب: تعزیہ پر فاتحہ کے واسطے روٹیاں یا کھانا یا شیرینی یا شربت لے جانا اور وہاں فاتحہ دلا کر تبرکاً تقسیم کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ اور اسی طرح ان چیزوں کا کھانا اور پینا بھی درست نہیں۔ بلکہ ایسے مقام پر فاتحہ اور درودشریف پڑھنا بھی روا نہیں۔
اس مجلس میں زیارت اور گریہ زاری کی نیت سے حاضر ہونا بھی جائز نہیں۔ اس لئے کہ وہاں زیارت کے لیے کوئی چیز نہیں جس کی خاطر آدمی حاضری دے۔ اور خود اس آدمی کی بنوائی ہوئی لکڑیاں (تعزیے) قابلِ زیارت نہیں بلکہ توڑے جانے کے لائق ہیں۔
تعزیہ بنانے والے یا تعزیہ میں چندہ دینے والے اشخاص اگر ان افعال ناجائز کو جائز اور موجبِ ثواب سمجھتے ہیں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ چنانچہ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں کہ:
اگر بدعت کرنے والا بدعت کو نیکی اور تقربِ خداوندی کا ذریعہ سجھتا ہے تو ایسا بدعتی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چنانچہ ابنِ ماجہ کی اس حدیث شریف سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اور بدعتی عام ہے خواہ خود اس نے اس بدعت کو ایجاد کیا ہو یا اس نے اس کو ایجاد نہیں کیا بلکہ کسی دوسرے نے ایجاد کیا ہے اور یہ اس ایجاد کردہ بدعت کا مرتکب ہو رہا ہے اور اس کو پسند بھی کر رہا ہے تو ایسے شخص کو بھی بدعتی ہی کہیں گے۔
پس جس صورت میں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے تو ان کے پیچھے نماز ہرگز نہیں ہو سکتی، البتہ اگر وہ ان افعال کو گناہ سمجھتے ہیں، مگر وہ کسی مجبوری وغیرہ سے ان افعال میں شریک ہوتے ہیں تو وہ گنہگار ہیں۔ تو کسی متقی و پرہیزگار شخص کی عدم موجودگی میں اُن کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے۔ البتہ کوئی متقی اور پرہیزگار شخص موجود ہو تو ایسے لوگوں کی امامت نہیں کرنی چاہیے۔
تعزیہ بنانا اور تعزیہ میں چندہ دینا اور اس پر کھانا لے جا کر فاتحہ دلانا، اگر ان افعال کو جائز سمجھ کر کرے تو اس کا جواب گزر گیا کہ اسلام سے خارج ہونے کا باعث اور گناہ کبیرہ ہے، ورنہ صرف گناہ ہے۔ (امداد الفتاوىٰ: جلد 11 صفحہ 484)