سوال: ہنده ایک عورت نا معلوم الاسم والنسب والمذہب ہے، اور جس نے اس خاندان میں نکاح کیا ہے، اس کے خاندان اور مردوں کو بھی اپنے ساتھ اپنی خواہش سے زانی بنایا اور اس کے داماد سے بھی جو رافضی ہے زنا کراتی ہے، اور اس رافضی کی رضامندی کے واسطے اس خاندان کے دوسری عورتوں کو بھی خراب کرانا چاہتی ہے، جو واقعات سے ظاہر ہوتا ہے، بلکہ غیروں کے تعلق کو زیادہ پسند کرتی ہے، اور اگر اس کی نگرانی کی جاوے تو نگرانی کرنے والوں کو متہم کرتی ہے۔
اب ہندہ کے شوہر کا باپ چاہتا ہے کہ ایسی عورت جو خود بدچلن اور محزبِ عزت خاندان ہو، اس کے شوہر اور اس خاندان سے علیحدہ ہو جاوے۔ چونکہ ہندہ بہت چالاک اور جادو و تعویذ وغیرہ لغویات کرنے والے لوگوں سے واقف ہے، اپنے شوہر کو ایسا مجبور کر دیا ہے کہ باوجود علم کے علیحدہ کرنا نہیں چاہتا۔
کیا ایسی عورت کو شرعاً علیحدہ کرنا جائز ہے؟ اور اگر ایسی عورت کو علیحدہ کرنا جائز ہے تو کیا تدبیر کی جاوے؟ کوئی دعا یا اسم باری تعالیٰ یا کچھ مناسب ہو تعلیم فرمایا جاوے۔ اور اس کے شوہر کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
جواب: نماز جائز نہیں۔ اور اصلاح کی تدبیر یہ ہے کہ ساری برادری اس کا کھانا پینا، اس کے یہاں آنا جانا ترک کر دیں۔ (امداد الاحکام: جلد 1 صفحہ 499)