تعزیہ کو مسجد میں رکھنے کا حکم:
سوال: صورتِ حال یہاں کی یہ ہے کہ ایک مسجد یہاں اہل سنت و الجماعت کی ہے جس کے متعلق تخمیناً ایک سو گھر بیوپاریوں کے ہیں، جو سب اہل سنت والجماعت ہیں، اور وہی لوگ اس کے متولی ہیں۔ عرصہ دراز سے ایک فقیر جو مسجد کا خدمتی سمجھا جاتا تھا وہ مذہباً شیعہ تھا، اور لوگ جو یہاں زور دار اور زمیندار سمجھے جاتے ہیں وہ بھی شیعہ ہیں، وہ اس فقیر کے حمایتی رہتے تھے، اس بنیاد پر وہ فقیر مذکورہ بالا مسجد میں ایک تعزیہ بنا کر رکھتا تھا، جو اہل سنت والجماعت کے مذہب کے قطعاً خلاف اور ناجائز ہے۔
چنانچہ دو تین سال ہوئے کہ وہ فقیر مر گیا، اور اس کا یا اس کے ورثاء کا کوئی تعلق مسجد سے نہ رہا اور دوسرا اہلِ سنت و الجماعت مؤذن رکھ لیا مگر اس کے ورثاء بوجہ حمایت اہل تشیع کے کہ جن کے ہاں اس قصبہ میں بڑے زور شور سے تعزیہ داری ہوتی ہے، اس کی حمایت پر کھڑے ہو گئے، اور زبردستی تعزیہ رکھوانا چاہا اور رکھوا دیا۔ اہل سنت والجماعت کو عدالت و دیوانی میں اس فقیر کا استحقاق باطل ہو جانے کا دعویٰ کرنا پڑا، وکلاء نے یہ مشورہ دیا کہ اگر تعزیہ تمہارے مذہب کے خلاف ہے اور تم اپنی مسجد میں رکھا جانا نہیں چاہتے تو دعوے کے ساتھ اپنے مستند علماء کے وہ فتوے بھی شامل کرو جن کی وجہ سے تم مسجد میں تعزیہ رکھنے کے مانع ہو۔
لہٰذا خدمت عالی میں گزارش ہے کہ ایک فتویٰ جو عریضہ ہذا کے ساتھ ہے اس میں تعزیہ اور تعزیہ داری کی برائی اور اس پر شرعاً جو وعیدیں ثابت ہوں وہ سب مدلل اور مفصل ہو حوالہ کتب، اور نیز یہ بھی کہ جس مسجد میں تعزیہ رکھا ہوا ہو، اس مسجد کی نماز میں کیا قصور عائد ہوتا ہے، ارقام فرما کر بھیج دیجیے۔
چونکہ ہمارا یہ فعل کسی مسلم گروہ میں تفریق اور نزاع پیدا ہونے کی غرض سے نہیں ہے بلکہ ایک نہایت ضال اور مبتدع گروہ کے شر اور بدعت سے اپنے کو محفوظ رکھنا مقصود ہے۔ لہٰذا فتویٰ نہایت صاف اور مشرح اور زور دار الفاظ میں ہونا چاہیے، تاکہ عدالت میں کار آمد ہو سکے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حنفی العقیدہ اہل سنت و الجماعت کے مذہب میں تعزیہ بنانا یا اپنے مکان میں رکھنا، اور اس پر منت اور چڑھاوا چڑھانا کیسا ہے؟ اور کس درجہ کا گناہ ہے؟ اور جس مسجد میں تعزیہ رکھا جاتا ہے؟ اس میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ باوجود جاننے کے اس کے معاون اور مددگار ہوں اُن سے کس قسم کا برتاؤ کیا جاوے؟
جواب: تعزیہ بنانا اور اس کو اپنے مکان میں رکھنا بدعت ضلالہ اور بہت بڑا گناہ ہے، اور اس کی تعظیم و تکریم کرنا شرک ہے، اسی طرح اس پر منت اور چڑھاوا چڑھانا حرام اور شرک ہے، اور مسجد میں تعزیہ کا رکھنا ہرگز جائز نہیں، اور جس مسجد میں تعزیہ رکھا ہو اس میں تعزیہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے، اور اہل مسجد کے ذمہ تعزیہ کا نکال دینا واجب ہے، اور جو لوگ تعزیہ کو مسجد میں رکھنا چاہتے ہوں، اور جو ان کے معاون ہیں وہ عند اللہ سخت گنہگار ہیں، ان سے ملنا جلنا، سلام و کلام ترک کر دینا چاہیے، جب تک وہ اس گناہ سے توبہ خالص نہ کریں۔
عن ابن عباس قال قال رسول العلمه من أحدث حدثا أو أوى محدثا عليه لعنت الله والملئكة والناس اجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلاً:
اس حدیث کے موافق جو لوگ تعزیہ اپنے گھر میں یا مسجد میں رکھتے ہیں یا جو اس کے معاون ہیں، ان پر خدا تعالیٰ جل شانہ کی اور فرشتوں کی اور سب مسلمانوں کی لعنت برستی ہے۔ اور ان کی نماز اور روزہ اور تمام اعمال صالح خدا تعالیٰ جل شانہ کے یہاں مردود ہیں۔ کچھ قبول نہیں ہوتے۔
بحر الرائق میں ہے: المنذر للمخلوق لا يجوز لانه عبادة والعبادة لا تكون للمخلوق
اس سے معلوم ہوا کہ تعزیہ کے لیے منت ماننا اور چڑھاوے چڑھانا حرام قریب بشرک ہے۔
حضرت مولانا عبدالحیؒ نے صورت و شبیہ روضہ مقدسہ نبی کریمﷺ کے بنانے کو اور اس کی تعظیم و تکریم غیر مشروع کو بدعت و حرام لکھا ہے، پھر تعزیہ بنانا کیونکر جائز ہو گا؟
قال النبي: لا تتخذوا قبرى عيدا وقال النبي: لعن الله اليهود و النصارى واتخذوا قبور انبياء هم مساجد
حضرت مولانا عبدالحیؒ رسالہ اسلمی میں نقل فرماتے ہیں:
من الاوهام تقرر حكم شيء بشبيهه هذا الوهم قداضل عبدة الاصنام من طريق الصواب واوقعهم في هاوية الجهالة
شامی میں ہے: قال في المدرولبس ثوب فيه تماثيل ذي روح اله في رد المحتار: اقول والظاهر انه يلحق به الصليب وان لم يكن تمثال ذى روح لانه فيه تشبها بالنصارى ويكره التشبه بهم في المذموم وان لم يقصده كما مراه:
اور ظاہر ہے کہ تعزیہ بھی صلیب سے کم نہیں۔ اس لیے اس کے سامنے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ اور مسجد میں اس کا رکھنا حرام ہے: لان المسجد لم يبن لهذا و انما هو لعبادة الله وحده:(امداد الاحکام: جلد 1 صفحہ 180)