افضلیت و خلافت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے منکر کی…

افضلیت و خلافت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے منکر کی امامت کا حکم


سوال: زید کہتا ہے کہ سیدنا علیؓ، خلفاء میں افضل ہے اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت انصار نے متفق ہو کر کر دی اور آنحضرتﷺ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کی بابت کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

جواب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے افضل بتایا اور فضیلت کلیہ دینا تمام اہلِ سنت والجماعت کے خلاف ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ رسول اکرمﷺ کے بعد سیدنا صدیقِ اکبرؓ تمام امتِ محمدیہﷺ سے افضل ہیں۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے متعلق یہ کہنا کہ انصار نے متفق ہو کر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو خلیفہ بنا دیا۔ قائل کی ناواقفیت پر مبنی ہے، انصارؓ تو شروع سے قریش کے خلاف تھے، کسی انصاری کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے، بالآخر یہاں تک کہا کہ ایک خلیفہ قریشی ہو تو ایک انصاری لیکن تمام مہاجرینؓ و انصارؓ میں سے یہ کسی نے نہ کہا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ سے سیدنا علیؓ افضل یا خلافت کے زیادہ مستحق اور حق دار ہیں۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کو تمام مہاجرینؓ و انصارؓ نے تسلیم کیا۔ اور کیوں نہ تسلیم کرتے جب خود رسول اکرمﷺ نے اپنے طرزِ عمل سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو اپنا جانشین بنا دیا اور نماز پڑھانے میں باوجود سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور چند اشخاص کے اس اصرار کے کہ کسی دوسرے کو امام بنایا جائے، آپﷺ نے نہ مانا اور ناگواری کے لہجے میں فرمایا کہ تم صاحبِ یوسف (علیہ السلام) ہو، یعنی مجھ کو ایک امرِ حق سے پھیرنا چاہتی ہو، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو ہی امام بنایا۔ اور آنحضرتﷺ نے بطورِ پیشگی پہلے ہی فرما دیا تھا: 

يأبى الله والمؤمنون الا ابا بكر

یعنی نہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کسی دوسرے کو خلیفہ ہونے دے گا، نہ مسلمان کسی دوسرے کو خلیفہ بنائیں گے۔ 

آپﷺ کے اس ارشاد سے معلوم ہو گیا کہ آپﷺ کو نورِ وحی سے یہ بات معلوم ہو گئی تھی کہ میرے بعد خود اللہ رب العزت ہی کی طرف سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ خلیفہ بنائے جائیں گے، نیز مسلمان بھی کسی دوسرے کو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہوتے ہوئے پسند نہ کریں گے، اسی لیے آپﷺ نے صراحتاً سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے متعلق کچھ ارشاد فرمانے کی ضرورت نہ سمجھی لیکن آپﷺ کا یہ طرزِ عمل اور یہ ارشادات بھی تصریح سے کم نہیں ہیں۔

پس مذہبِ حق یہی ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہی حضرت علیؓ اور تمام صحابہ کرامؓ اور تمام اُمت محمدیہﷺ سے افضل تھے۔ یہ کہنا کہ حضرت محمدﷺ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے متعلق کچھ نہیں فرمایا، صحیح نہیں، جیسا کہ آپﷺ کے ارشادات (جو مثلِ تصریح کے ہیں) بکثرت خلافتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر دلالت کرتے ہیں، نیز آنحضرتﷺ نے سیدنا علیؓ کی خلافت کے متعلق بھی تو کچھ تصریح نہیں فرمائی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کس وجہ سے مستحقِ خلافت قرار دے دیا گیا۔ پس سیدنا علی المرتضیٰؓ کی فضیلتِ کلیہ کا قائل مبتدع ہے، اور اس کی امامت مکروہ ہے۔(کفایت المفتى: جلد 9 صفحہ 227)