مفتی اعظم محمد كفايت اللہ دہلوی رحمۃاللہ کا فتوىٰ - فتاویٰ…

مفتی اعظم محمد كفايت اللہ دہلوی رحمۃاللہ کا فتوىٰ


حضور اکرمﷺ کی شان میں بےادبی اور حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان لگانے والے کا حکم اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

سوال: ایک مولوی بنام زید اور چند مسلمان ناخواندہ امی اس کے ہمراہ، ایک پادری مذہب عیسوی کے ہاں نشست و برخاست ایک وقت معین پر رکھتے ہیں اور خوردونوش اکل و شرب میں پادری کے ہمراہ ہوتے ہیں، یعنی پان، چائے وغیرہ خاص پادری کے ہاں کا بنا ہوا کھاتے ہیں اور گفتگو میں یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ وہ حضرت سرورِ کائناتﷺ کی شان میں بےادبی کرتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں افک و بہتان لگاتا ہے اور حضرت زینبؓ و حضرت زیدؓ کی شان میں گستاخانہ لفظ کہتا ہے۔

دوسرے مسلمان مولوی کہتے ہیں کہ پادری کے یہاں اکل و شرب نہ کرنا چاہیے تو جواب دیتا ہے کہ کچھ حرج نہیں، اس سے ہمارے ایمان میں کچھ فرق نہیں آتا، اگر فرق آتا ہے تو ہمیں قرآن و حدیث سے ثبوت دو۔

لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس مولوی کے ایمان میں کچھ خلل آیا کہ نہیں؟ اور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

جواب:جناب رسالت پناه روحی فداہﷺ کی یا حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والا یا کسی گستاخی کرنے والے سے ناراض نہ ہونے والا کافر ہے۔ فقہاء متفق ہیں کہ نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے۔

پس جو شخص ایسے آدمی کے فعل پر خواہ وہ عیسائی ہو یا اور کوئی، اظہارِ ناراضگی نہ کرے یا کم از کم دل سے بُرا سمجھ کر اس جگہ سے اٹھ نہ جائے، بےشک وہ بھی کافر ہے۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز درست نہیں۔

قال الله تعالى ولا تركنوا الى الذين ظلموا: وقال الله تعالى واذا رأيت الذين يخوضون في ايتنا الخ (كفايت المفتى: جلد 1 صفحہ 594)