ایک مسجد کے متعلق اختلاف کہ وه سنیوں کی ہے یا شیعوں کی -…

ایک مسجد کے متعلق اختلاف کہ وه سنیوں کی ہے یا شیعوں کی


سوال: ایک مسجد جو اَب سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے مختلف اقوام کے افراد نے بنوائی تھی، جس میں حضرات سادات اہلِ سنت و الجماعت بھی شریک تھے، زمین کے متعلق زیادہ قرینہ یہ ہے کہ حضرات سادات کی ہی تھی جو مذہباً اہلِ سنت والجماعت تھے مسجد جب سے عالمِ وجود میں آئی اُس وقت سے تاوقت تحریر استفتاء هٰذا اہلِ سنت والجماعت کے عمل دخل میں چلی آ رہی ہے۔ شیعہ میں سے ایک آدھ آدمی نماز پڑھتے رہتے ہیں، تقریباً پچاس، ساٹھ سال قبل یہ مسجد دوبار تعمیر ہوئی، اس مرتبہ مسجد مذکور کی تعمیر ایک ہندؤ عورت جو کہ شیعہ ہو گئی تھی، اس نے کچھ رقم دی تھی اور کچھ رقم ایک سنّی صاحب نے دی، باقی اہلِ محلہ کے تمام افراد نے مل کر دی، مسجد تعمیر ہوئی، تب سے آج تک اہلِ سنت والجماعت کی نگرانی میں رہی۔ تمام اخراجات امام مؤذن دیگر ضروریات کے کفیل اہلِ سنت والجماعت ہیں۔

ان حالات کے ہوتے ہوئے شیعہ نے خفیہ طور سے مسجد مذکور کو شیعہ وقف بورڈ لکھنؤ میں وقف کر دیا، جس کا علم اہلِ سنت و الجماعت کو بالکل نہیں۔ اس مسجد کے برابر میں شیعہ کا امام باڑہ ہے، اسی نسبت پر دونوں کو ایک جگہ بتلا کر وقف کر دیا۔ پھر سنی وقف بورڈ کی جانب سے امام مسجد کے نام نوٹس آیا کہ آپ اس مسجد کو وقف کرا دو، چنانچہ ہم لوگوں نے قدم اٹھایا تو شیعہ نے شیعہ وقف بورڈ کا وقف نامہ پیش کر کے ہمارا وقف بند کرا دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ مسجد ہمارے بڑوں نے بنائی ہے، لہٰذا یہ مسجد ہماری ہے، معاملہ عدالت میں پہنچ گیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعاً اس مسجد کا حقدار کون ہے؟

نوٹ:1967ء کے بندوبست میں مسجد مذکور کے رقبہ میں مسجد قبرستان لکھا ہوا ہے، امام باڑہ کا کوئی نام نہیں۔

جواب:صورت مسئولہ میں تحریر کردہ حالات کے پیشِ نظر وہ مسجد اہل سنت و الجماعت کی مسجد ہے۔ مسجد کے لیے زمین وقف ہونے کے بعد اگر کسی دفعہ تعمیر میں غیرمسلم بھی چندہ دے دے تو اس کو دعویٰ ملکیت کا حق نہیں ہو جاتا۔(فتاویٰ محمودیہ: جلد 23 صفحہ 102)