حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن وسنت کی نظر…

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن وسنت کی نظر میں

  مولانا توحید عالم قاسمی بجنوری

صفحہ 2 از 3
قارئینِ گرامی قدر! قرآن و سنت سے ثابت ان تمام فضائل و مناقب اور خصوصیات کے باوجود دشمنانِ خدا اسلام اور مسلمانوں سے حسد رکھنے والے بالخصوص یہود و نصاریٰ کو جب اسلام کی ہمہ جہت ترقی اور اہلِ اسلام کا عروج ہضم نہ ہو سکا اور ان شیطان کے چیلوں، خدائی دشمنوں کو سو فیصد یقین تھا کہ اسلام کی صداقت و حقانیت، عالم گیر حیثیت اور غلبہ کے سامنے باطل کے لیے ٹھہرنا ممکن نہیں ہے؛ لہٰذا مذہبِ اسلام اور مسلمانوں میں کم زوری اور ضعف پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان میں افتراق و تشتت پیدا کرنا، ان میں غلط فہمیاں پیدا کر کے خلفشار و انتشار پیدا کرنا؛ لہٰذا یہودی شاطروں نے مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کر کے اپنے شیطانی مشن میں کامیابی حاصل کی اور اپنی مسلسل ناکامیوں اور شکستوں کا بدلہ بھی لے لیا کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیتؓ نبی کریمﷺ کی حق تلفیوں، مظلومیت اور محرومیوں کی جھوٹی سچی داستانیں سنا سنا کر مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے، مزید کام منافقین نے جھوٹے پروپیگنڈے کا وہ چکر چلایا کہ سادہ دل مسلمان بھی ان کے جال میں پھنس گئے یہیں سے افتراق و انتشار کے دہانے کھل گئے۔
چنانچہ مسلمانوں میں فرقے بننے لگے کوئی فرقہ محبتِ آلِ بیتؓ میں غلو کا مرتکب ہے تو کوئی حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبانِ لعن و طعن دراز کرتا نظر آتا ہے، کوئی حضراتِ شیخین سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو غاصبِ خلافت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل گردانتا ہے کوئی دوسرا حضرت علیؓ کو خارج از اسلام قرار دیتا ہے، اسی طرح ان کے باہمی مشاجرات اور اختلافات کے حوالے سے بھی بہت سے حضرات افراط وت فریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حقانیت کو بیان کرتے کرتے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص و توہین پر اتر آتا ہے العیاذ باللہ، تو مدِ مقابل حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی براءت کرتے کرتے یزید بن معاویہ کو صحابہ پر فضیلت دیتا نظر آتا ہے۔ العیاذ باللہ۔ وغیرہ وغیرہ جب کہ خود حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام حسنِ سلوک، باہمی تعاون، خانگی مراسم، نسبی تعلقات اور امورِ خلافت میں بھرپور ایک دوسرے کے معاون و مددگار تھے۔
لہٰذا مذہبِ اسلام اور قرآن و سنت کے ماننے والوں کو اس حوالے سے قرآن و سنت ہی کو بڑی مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے کہ جو داستانیں اور موضوع روایات قرآن و سنت کے خلاف یا معارض سامنے آئیں ان کو رد کرنا چاہیے اور جو روایات اور واقعات قرآن و سنت کے موافق ہوں ان کو لینا چاہیے، قرآن و سنت سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے جو اوصاف ثابت ہوتے ہیں وہ درج ذیل ہیں: 
1: حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معصوم تو نہیں ہیں؛ لیکن محفوظ ضرور ہیں، 
2: حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خوفِ خدا اور تقوے والے تھے، 
3: حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنے والے تھے، 
4: حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینی و دنیاوی امور میں امانت دار تھے، خیانت کا تصور بھی گناہ سمجھتے تھے، 
5: حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باہم شیر و شکر رحماء بینہم کی واضح تصویر تھے، 
6: دنیاوی نفع و نقصان سے قطعِ نظر عدل و انصاف کے خوگر تھے، 
7: حضرت نبی پاکﷺ اور آپﷺ کی آل و اولاد سے حددرجہ محبت و الفت کو فلاحِ دارین تصور کرتے تھے، 
8: جان و مال کی پرواہ کیے بغیر احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کو اپنا فرضِ منصبی اور نصب العین سمجھتے تھے، 
9: حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان آراء کا اختلاف اجتہادی شان و حیثیت کا تھا مخالفت و عداوت کی رسائی ان کے قلوب تک نہ تھی، 
10: حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالاتفاق خلافت کی تقسیم من جانب اللہ تسلیم کرتے تھے۔ اس میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا، 
11: حضراتِ صحابہؓ معیار حق تھے۔
محترم قارئین! حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مذکور بالا اوصاف قرآن و سنت سے ثابت ہیں، صراحتاً یا دلالۃً۔ قرآن و سنت کا علم رکھنے والا کوئی شخص ان کا انکار نہیں کر سکتا؛ لہٰذا جب بھی جو روایات یا واقعات ان ارواحِ مقدسہ کے حوالے سے سامنے آئیں اگر وہ درج بالا اوصاف سے ہم آہنگ ہوں گی تو تسلیم کی جائیں گی اور اگر ان اوصاف سے متصادم اور مخالف ہوں گی تو وہ دشمنوں کی شاطرانہ چال اور دجل و فریب کا شاخسانہ ہوں گی، پس ان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے جو شہادتیں ان برگزیدہ شخصیات کے لیے دی ہیں وہ کسی صورت بھی جھوٹی نہیں ہو سکتیں؛ بلکہ یقیناً ان مقابل آنے والے واقعات اور روایات ہی من گھڑت اور جھوٹی ہوں گی۔ خود محبوبِ کبریا حضرت نبی کریمﷺ نے اسی کا احساس کرتے ہوئے فرمایا تھا:  
عن أبی ہریرۃؓ عن النبیﷺ انہ قال: سَیَاتَیْکُمْ عَنِّی أحَادِیْثُ مُخْتَلِفَۃٌ فَمَا جَائَکُمْ مُوَافِقًا لِکِتَابِ اللہ وَسُنَّتِی فَھُوَ مِنِّی وَمَا جَائَکُمْ مُخَالِفًا لِکِتَابِ اللہ وَسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی
(الکفایہ فی علم الروایۃ للبغدادی: صفحہ، 430)
ترجمہ: عنقریب تمہارے پاس میری جانب منسوب شدہ مختلف روایات پہنچیں گی جو کتاب اللہ اور میری سنت (مشہورہ) کے موافق اور مطابق ہوں تو وہ درست ہوں گی اور جو کتاب اللہ اور میری سنت کے معارض ہوں گی تو وہ صحیح نہیں ہوں گی۔
اسی اصل کو خلیفہ رابع حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی بیان فرمایا ہے۔  
عَن أبی الطُّفَیْلِؓ عَنْ عَلِیٍ رَصِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: حَدِّثُوْا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ وَدَعَوْا مَا یُنْکِرُونَ اَتُحِبُّوْنَ أنْ یُّکَذَّبَ اللہ وَرَسُوْلُہٗ
 (تذکرۃ الحفاظ للذہبی: جلد، 1 صفحہ، 12) 
ترجمہ: معروف مشہور چیزیں بیان کرو اور منکر یعنی مشہور و معروف کے خلاف عوام میں ذکر نہ کرو! کیا تمہیں پسند ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی جائے۔
امام ذہبیؒ مذکورہ اصول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:  
صفحہ 2 از 3