فقيہ الامت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃاللہ کا فتویٰ -…

فقيہ الامت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃاللہ کا فتویٰ


سیدنا امیر معاویہؓ کے گستاخ کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

سوال: جو شخص سیدنا امیر معاویہؓ کو صحابی نہ مانے اور ان کی بُرائی کرے، وہ شخص کیسا ہے؟ اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور سیدنا امیر معاویہؓ صحابی تھے یا نہیں؟ اور اگر صحابی تھے تو کس مرتبہ پر تھے؟ اور ان کے صحابی ہونے کی کیا دلیل ہے؟

جواب: سیدنا امیر معاویہؓ صحابی ابنِ صحابی ہیں۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور اکرمﷺ نے فرمایا جاؤ میرے پاس معاویہ کو بلا کر لاؤ۔ اور ترمذی شریف میں روایت ہے

ان النبي قال لمعاويةؓ: اللهم اجعله هادياً مهدياً واهد به:

اس سے سیدنا امیر معاویہؓ کا صحابی ہونا اور حضور اکرمﷺ کا ان کے لیے دعا کرنا، نیز ان کا مرتبہ بھی ثابت ہو گیا۔

سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے جب حضرت عمیرؓ بن اسد کو حمص سے معزول کیا تو سیدنا امیر معاویہؓ کو والی بنایا، بعض لوگوں میں ان کا تذکرہ ہوا، حضرت عمیرؓ نے فرمایا: 

لا تذكر وا معاوية الا بخير فاني سمعت رسول اللهﷺ قال: اللهم اهد به یعنی سیدنا امیر معاویہؓ کا جب تذکرہ کرو، خیر کے ساتھ کرو، بُرائی کے ساتھ ہرگز مت کرو۔ کیونکہ میں نے خود سنا ہے حضور اکرمﷺ نے ان کو دعا دی ہے۔

جو شخص سیدنا امیر معاویہؓ کو بُرا کہتا ہے وہ سخت وعید کا مستحق ہے۔ حدیث شریف میں ہے: 

اذار ایتم الذين يسبون اصحابي فقولو العنة الله على شركم. لذا شخص مذکور فی السوال کی امامت مکروہ ہے۔(فتاویٰ محمودیہ: جلد 2 صفحہ 67)