شیعہ روافض کے اموال مساجد میں صرف کرنا - فتاویٰ جات | دفاع…

شیعہ روافض کے اموال مساجد میں صرف کرنا


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اہل شیعہ کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے؟ ان کے مردوں پر نماز جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کے اموال سے مساجد وغیرہ تعمیر کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ایسے ہی متبرک مقامات میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: غالی شیعہ مثلاً فرقہ اثنا عشریہ چار صحابہ کرامؓ کے ماسوائے تمام صحابہ کرامؓ کے مرید ہونے و تحریف قرآن و عصمت آئمہ (جو ختم نبوت کو مستلزم ہے) کے عقیدہ کی بنیاد پر کافر، مرتد، ضال، مضل و خارج از اسلام ہیں۔

وفي فتح المغيث: اذار أيمت الرجل ينتقص احدا من اصحاب رسول اللهﷺ فاعلم انه زنديق وذلك ان القرآن حق، والرسول حق، وما جاء به حق وما أدى ذلك: والمشاكل الا الصحابة، فمن جرحهم انما اراد ابطال الكتاب والسنة، فيكون الجرح به اليق والحكم عليه بالزنادقة والضلالة أقوم واحق، الخ

وفي المرقاة: كمل كافر تاب فتوبته مقبولة في الدنيا و الآخرة الاجماعة الكافر بسب النبيﷺ وسب الشيخينؓ اواحدهما

لہٰذا ان کی نمازِ جنازہ جائز نہیں ہو گی، نیز ان کے اموال کو خالص دینی کام و مذہبی معاملہ میں قبول نہ کیا جائے، اگر ضرورت ہو تو اولاً شیعہ سنی کو مالک بنا دے، پھر وہ سنی مسجد میں خرچ کر دیا کرے۔(فتاویٰ قاسميہ: جلد 2 صفحہ 304)