سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں تعزیہ داری کا رواج قدیم زمانہ سے چلا آ رہا ہے، اب الحمدللہ کسی حد تک لوگ باز آ گئے ہیں لیکن تعزیئے اب بھی بنائے جاتے ہیں اور تعزیہ سازی پر جو رقم صرف ہوتی ہے وہ مسجد کا جمع کردہ فنڈ ہوتا ہے، جب اُن کو مسجد کے فنڈ میں سے خرچ کرنے سے منع کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ صاحب! یہ تو ہم پرانے زمانے سے کرتے آئے ہیں، مؤدبانہ درخواست ہے کہ تعزیہ سازی پر قدرے روشنی ڈالتے ہوئے مسئلہ کی وضاحت کی جائے۔
جواب: تعزیہ داری و تعزیہ سازی بدعت و گناہ کا کام ہے، مسجد کا فنڈ اس ناجائز کام میں استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں اور یہ کوئی دلیل نہیں کہ پرانے زمانے سے یہ کام ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ بہت سے حرام کام صدیوں سے ہوتے چلے آ رہے ہیں لیکن انہیں اس بنا پر جائز نہیں کہا جا سکتا۔ (کتاب النوازل: جلد 13 صفحہ 303)