سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا کہنے والے کی…

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا کہنے والے کی امامت کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص جو قاری، حافظ اور عالم کچھ بھی نہیں ہے اور درست قرأت کی بھی حسبِ ضرورت طاقت نہیں رکھتا نیز عموماً ایسے واقعات اور مضامین بیان کرتا ہے جو قرآن وحدیث کے خلاف ہوتے ہیں، مثلاً ایک جمعہ کے موقع پر اس نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکل کشا ہے اور جو لوگ ان کو مشکل کشا نہیں مانتے ان کے کانوں میں پیشاب کریں۔ اس تفصیل کے بعد تین باتوں کا جواب شرعاً مطلوب ہے:

1: ایسی استعداد اور نظریات کا حامل شخص مسلمانوں کے لیے امامتِ جمعہ و عیدین کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں؟ جب کہ علماء کی کمی نہیں ہے۔

2: جو لوگ ایسے شخص کے لیے جمعہ وعیدین کے لیے مصر ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

3: اگر مذکورہ بالا اوصاف کا حامل شخص اپنے بیان کیے گئے مضامین سے برأت کا اعلان کرے اور تائب ہو کر آئندہ کے لیے احتیاطِ کلام کا وعدہ کرے تو پھر وہ مذکورہ بالا تفصیل سے شرعاً امامتِ جمعہ وعیدین کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں؟

جواب: 1: مشکل کشا کے دو مطلب ہیں۔ پہلا مطلب یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکل علمی مسائل کو حل کرتے تھے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ ہر مشکل کو آسان کر دیتے ہیں ان کے لیے کوئی کام مشکل نہیں، اسی طرح سیدنا علیؓ بھی ہر مشکل کو آسان کر دیتے تھے۔

مذکورہ بالا تفصیل کے بعد بشرطِ صحتِ سوال اگر مذکورہ شخص مشکل کشا کا دوسرا مطلب مراد لیتا ہے تو یہ شخص دو وجہوں کی بناء پر امامت کا اہل نہیں۔ 

1: فسادِ عقیدہ کی وجہ سے۔ 

2: درست قرأت کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے۔

اور اگر یہ شخص مشکل کشا کا پہلا مطلب مراد لیتا ہے تب بھی درست قرأت کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے امامت کا اہل نہیں، لیکن اس طرح کے موہوم الفاظ سے احتراز ضروری ہے۔

*2:* جو لوگ ایسے شخص کے لیے امامتِ جمعہ وعیدین کے لیے مصر ہیں وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گنہگار ہیں، ان کو اپنے اس عمل کی وجہ سے توبہ کرنا ضروری ہے۔

*3:* اگر مذکورہ بالا شخص اپنے نظریات سے برأت کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ توبہ بھی کرے اور حسبِ ضرورت درست قرأت سیکھ لے تو ایسا شخص امامت کا اہل ہے، اگرچہ اولیٰ پھر بھی یہ ہے کہ جب علماء موجود ہیں تو کسی عالم کو امام بنایا جائے۔  (ارشاد المفتین: جلد 1 صفحہ 334)