مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 7 از 7
ترجمہ: اس لیے کہ جو نزاع و جدال اور دفاع و قتال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان پیش آیا وہ اس اجتہاد کی بنا پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیا تھا اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا، اگرچہ اس اجتہاد میں برحق فریق ایک ہی ہے اور وہ حضرت علیؓ اور ان کے رفقا ہیں اور خطا پر وہ حضرات ہیں جنہوں نے حضرت علیؓ سے نزاع و عداوت کا معاملہ کیا؛ البتہ جو فریق خطا پر تھا، اسے بھی ایک اجر و ثواب ملے گا، اس عیقدہ میں صرف اہل جفا و عناد ہی اختلاف کرتے ہیں، لہٰذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان مشاجرات کی جو صحیح روایات ہیں ان کی بھی اس میں تشریح کرنا واجب ہے جو ان حضرات سے گناہوں کے الزام کو دور کرنے والی ہو، لہٰذا حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کے درمیان جو تلخ کلامی ہوئی وہ کسی کے لیے موجب عیب نہیں، نیز ابتداء میں حضرت علیؓ نے جو حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی، وہ دو باتوں میں سے کسی ایک وجہ سے تھی، یا تو اس لیے کہ ان سے مشورہ نہیں لیا گیا تھا، جیسا کہ خود انہوں نے اسی پر رنجیدگی کا اظہار فرمایا، یا پھر اس سے حضرت فاطمہؓ کی دلداری مقصود تھی جو یہ سمجھتی تھیں کہ آنحضرتﷺ کی میراث سے جو حصہ مجھے ملنا چاہیے، وہ ملے پھر حضرت علیؓ نے بلاشبہ تمام لوگوں کے سامنے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی بات ایک ہوگ ئی اور مقصد حاصل ہو گیا۔
اسی طرح سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ کا قصاص لینے میں جو توقف سے کام لیا وہ یا تو اس بنا پر تھا کہ یقینی طور سے قاتل معلوم نہ ہو سکا یا اس لیے کہ فتنہ فساد میں اضافہ کا اندیشہ تھا اور سیدہ عائشہؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان کے متبعین نے سیدنا علیؓ کے مقابلہ میں جنگ کرنے کو جو جائز سمجھا اس میں ان میں سے بعض حضرات مجتہد تھے اور بعض ان کی تقلید کرنے والے۔
اور اس بات پر اہلِ حق کا اتفاق ہے کہ ان جنگوں میں حق بلاشبہ سیدنا علیؓ کے ساتھ تھا اور وہ عقیدہ برحق جس پر کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی، یہ ہے کہ یہ تمام حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں؛ اس لیے کہ ان تمام جنگوں میں انہوں نے تاویل اور اجتہاد سے کام لیا؛ اس لیے کہ اہلِ حق کے نزدیک اگرچہ حق ایک ہی ہوتا ہے؛ لیکن حق تک پہنچنے کے لیے پوری کوشش صرف کرنے اوراس میں کوتاہی نہ کرنے کے بعد کسی سے غلطی بھی ہو جائے تو وہ ماجور ہی ہوتا ہے، گناہ گار نہیں۔
اور درحقیقت ان جنگوں کا سبب معاملات کا اشتباہ تھا، یہ اشتباہ اتنا شدید تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اجتہادی آرا مختلف ہو گئیں اور وہ تین قسموں میں بٹ گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت تو وہ تھی جس کے اجتہاد نے اسے اس نتیجہ تک پہنچایا کہ حق فلاں فریق کے ساتھ ہے اور اس کا مخالف باغی ہے، لہٰذا اس پر اپنے اجتہاد کے مطابق برحق فریق کی مدد کرنا اور باغی فریق سے لڑنا واجب ہے؛ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ظاہر ہے کہ جس شخص کا حال یہ ہو اس کے لیے ہرگز مناسب نہیں تھا کہ وہ امام عادل و برحق کی مدد اور باغیوں سے جنگ کے فریضے میں کوتاہی کرے۔ دوسری قسم اس کے برعکس ہے اور اس پر بھی تمام وہی باتیں صادق آتی ہیں جو پہلی قسم کے لیے بیان کی گئی ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک تیسری جماعت وہ تھی جس کے لیے کچھ فیصلہ کرنا مشکل تھا اور اس پر یہ واضح نہ ہو سکا کہ فریقین میں سے کس کو ترجیح دے یہ جماعت فریقین سے کنارہ کش رہی اور ان حضرات کے حق میں یہ کنارہ کشی ہی واجب تھی؛
اس لیے کہ جب تک کوئی شرعی وجہ واضح نہ ہو، کسی مسلمان کے خلاف قتال کا اقدام حلال نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معذور اور ماجور ہیں، گناہ گار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اہلِ حق کے تمام قابلِ ذکر علماء کا اس پر اجماع ہے کہ ان کی شہادتیں بھی قبول ہیں اور ان کی روایات بھی اور ان سب کے لیے عدالت ثابت ہے۔ اسی لیے ہمارے ملک کے علماء نے اور ان کے علاوہ تمام اہلِ سنت نے جن میں ابنِ حمدانؒ (نہایۃ المبتدئین) بھی داخل ہیں، فرمایا ہے کہ:
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا اور ان کے درمیان جو واقعات پیش آئے ان کو لکھنے، پڑھنے، پڑھانے، سننے اور سنانے سے پرہیز کرنا واجب ہے اور ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا، ان سے رضامندی کا اظہار کرنا، ان سے محبت رکھنا، ان پر اعتراضات کی روش کو چھوڑنا، انہیں معذور سمجھنا اور یہ یقین رکھنا واجب ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ایسے جائز اجتہاد کی بنا پر کیا جس سے نہ کفر لازم آتا ہے نہ فسق ثابت ہوتا ہے؛ بلکہ بسا اوقات اس پر انھیں ثواب ہو گا اس لیے کہ یہ ان کا جائز اجتہاد تھا۔ پھر کہتے ہیں بعض حضرات نے کہا ہے کہ حق سیدنا علیؓ کے ساتھ تھا اور جس نے ان سے قتال کیا اس کی غلطی معاف کر دی گئی ہے۔ اور الدرۃ المضیئہ کی نظم میں جو مشاجرات کے معاملہ میں غور و بحث سے منع کیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ امام احمدؒ اس شخص پر نکیر فرمایا کرتے تھے جو اس بحث میں الجھتا ہو اور فضائلِ صحابہ میں جو احادیث آئی ہیں، انہیں تسلیم فرما کر ان لوگوں سے براءت کا اظہار کرتے تھے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گمراہ یا کافر کہتے ہیں اور کہتے تھے کہ (صحیح طریقہ) مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سکوت اختیار کرنا ہے۔
یہ مختصر مجموعہ ہے سلف و خلف، متقدمین و متاخرین علماء امت کے عقائد و اقوال کا جن میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عادل و ثقہ ہونے پر بھی اجماع و اتفاق ہے اور اس پر بھی کہ ان کے درمیان پیش آنے والے مشاجرات میں خوض نہ کیا جائے یا سکوت اختیار کریں، یا پھر ان کی شان میں کوئی ایسی بات کہنے سے پرہیز کریں جس سے ان میں سے کسی کی تنقیص ہوتی ہو۔

صفحہ 7 از 7