مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 7
اور عشرہ مبشرہ کے علاوہ کسی معین ذات کے متعلق اگرچہ ہم یہ نہ کہہ سکیں کہ وہ جنتی ہے جنت ہی میں جائے گا؛ مگر یہ بھی تو جائز نہیں کہ ہم کسی کے حق میں بغیر کسی دلیلِ شرعی کے یہ کہنے لگیں کہ وہ مستحق جنت کا نہیں ہے؛ کیونکہ ایسا کہنا تو عام مسلمانوں میں سے بھی کسی کے لیے جائز نہیں جن کے بارے میں ہمیں کسی دلیل سے جنتی ہونا بھی معلوم نہ ہو۔ ہم ان کے بارے میں بھی یہ شہادت نہیں دے سکتے کہ وہ ضرور جہنم میں جائے گا تو پھر افضل المومنین اور خیار المومنین (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کے بارے میں یہ کیسے جائز ہو جائے گا اور ہر صحابی رضی اللہ عنہ کے پورے اعمال ظاہرہ و باطنہ کی اور حسنات و سیئات اور ان کے اجتہادات کی تفصیلات کا علم ہمارے لیے بہت دشوار ہے اور بغیر علم و تحقیق کے کسی کے متعلق فیصلہ کرنا حرام ہے اسی لیے مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں سکوت کرنا بہتر ہے؛ اس لیے کہ بغیر علمِ صحیح کے کوئی حکم لگانا حرام ہے۔ انتہی‘‘ 
(شرع عقیدہ واسطیہ: صفحہ، 456 457)
اس کے بعد شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ نے صحیح روایت سے یہ واقعہ بیان کیا ہے:
ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے سامنے حضرت عثمان غنیؓ پر تین الزام لگائے۔ ایک یہ کہ وہ غزوۀ احد میں میدان سے بھاگنے والوں میں تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ غزوۀ بدر میں شریک نہیں تھے۔ تیسرے یہ کہ بیعتِ رضوان میں بھی شریک نہ تھے۔
حضرت عبداللہؓ نے ان تینوں الزاموں کا جواب یہ دیا کہ بیشک غزوۀ احد میں فرار کا صدور ان سے ہوا؛ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی معافی کا اعلان کر دیا۔ مگر تم نے پھر بھی معاف نہ کیا کہ اس کا ان پر عیب لگاتے ہو۔ رہا غزوۀ بدر میں شریک نہ ہونا تو وہ خود آنحضرتﷺ کے حکم سے ہوا اور اسی لیے آپﷺ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو غانمینِ بدر میں شمار کر کے ان کا حصہ لگایا اور بیعتِ رضوان کے وقت وہ حضورﷺ ہی کے بھیجے ہوئے مکہ مکرمہ گئے تھے اور سول اللہﷺ نے ان کو اس بیعت میں شریک کرنے کے لیے خود اپنے ایک ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دے کر اپنے دستِ مبارک سے بیعت فرمائی اور ظاہر ہے کہ خود سیدنا عثمان غنیؓ حاضر ہوتے اور ان کا ہاتھ اس جگہ ہوتا تو بھی وہ فضیلت حاصل نہ ہوتی؛ کیونکہ حضورﷺ کا دستِ مبارک اس سے ہزاروں درجہ بہتر ہے۔‘‘
اس واقعہ میں غور کرو کہ تین الزاموں میں سے ایک الزام کو صحیح مان کر یہ جواب دیا کہ اب وہ ان کے لیے کوئی عیب نہیں؛ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا ہے۔ باقی دو الزاموں کا غلط بے اصل ہونا بیان فرما دیا۔ اس کو نقل کر کے ابنِ تیمیہؒ کہتے ہیں کہ یہی حال تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے ان کی طرف جو کوئی گناہ منسوب کیا جاتا ہے یا تو وہ گناہ ہی نہیں ہوتا بلکہ حسنہ اور نیکی ہوتی ہے اور یا پھر وہ اللہ کا معاف کیا ہوا گناہ ہوتا ہے۔ 
(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ، 460، 461)
علامہ سفارینی نے اپنی کتاب الدرۃ المضئیہ میں، پھر اس کی شرح میں اس مسئلہ پر اچھا کلام کیا ہے اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، پہلے متن کتاب کے دو شعر لکھے ہیں۔
و احذر من الخوض الذی قد یزری، بفضلہم مما جری لو تدری
اور پرہیز کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں پیش آنے والے جھگڑوں میں دخل دینے سے جس میں ان میں سے کسی کی تحقیر ہوتی ہو۔
فانہ عن اجتہاد قد صدرَ فاسلم ازل اللہ من لہم ہجر
کیونکہ ان کا جو عمل بھی ہوا ہے اپنے اجتہادِ شرعی کی بنا پر ہوا ہے تم سلامتی کی راہ اختیار کرو۔ اللہ ذلیل کرے اس شخص کو جو ان کی بدگوئی کرے۔
اس کے بعد اس کی شرح میں فرمایا:
صفحہ 5 از 7