مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 7
ترجمہ: رہے وہ فتنے اور جنگیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان واقع ہوئے تو فرقۂ شامیہ نے تو ان کے وقوع ہی کا انکار کر دیا ہے اور کوئی شک نہیں کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت اور واقعۂ جمل و صفین جس تواتر کے ساتھ ثابت ہے، یہ اس کا بے دلیل انکار ہے اور جن حضرات نے ان کے وقوع کا انکار نہیں کیا ہے ان میں سے بعض نے تو ان واقعات میں مکمل سکوت اختیار کیا اور نہ کسی خاص فریق کی طرف غلطی منسوب کی، نہ حق و صواب یہ حضرات اہلِ سنت ہی کی ایک جماعت ہیں، اگر ان کی مراد یہ ہے کہ یہ ایک فضول کام ہے تو ٹھیک ہے؛ اس لیے کہ امام شافعیؒ وغیرہ علمائے سلف نے فرمایا ہے کہ یہ ایسے خون ہیں جن سے اللہ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے؛ اس لیے چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں کو بھی ان سے پاک رکھیں۔
شیخ ابنِ الہمام نے ’’شرح مسامرہ‘‘ میں فرمایا:
واعتقاد أہل السنّۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم وجوبا باثبات اللّٰہ أنہ لکل منہم والکفّ عن الطّعن فیہم الثّناء علیہم کما اثنی اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ (وذکر آیات عدیدۃ ثم قال) واثنی علیہم الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ثم سرد احادیث الباب) ثم قال وما جری بین معاویۃ وعلیؓ من الحروب کان مبیناً علی الاجتہاد۔ 
(شرح مسامرہ صفحہ، 132 طبع دیوبند)
ترجمہ: اہلِ سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لازمی طور پر پاک صاف مانتے ہیں؛ اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے ہر ایک کا تزکیہ فرمایا ہے، نیز ان کے بارے میں اعتراضات کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور ان سب کی مدح و ثنا کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ثنا فرمائی (اس کے بعد چند آیتیں ذکر کر کے فرماتے ہیں) اور رسول کریمﷺ نے بھی ان کی تعریف فرمائی (پھر کچھ احادیث نقل کر کے لکھتے ہیں) اور حضرت معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان جو جنگیں ہوئیں وہ اجتہاد پر مبنی تھیں۔‘‘
شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ نے شرح عقیدہ واسطیہ میں اس بحث پر تفصیلی کلام فرمایا ہے ان کے چند جملے یہ ہیں اہلِ سنت والجماعت کے عقائد لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
ویتبروئون من طریقۃ الروافض الذین یبغضون الصحابۃ ویسبّونہم وطریقۃ النواصب الذین یؤذون أہل البیت بقول لاعمل ویمسکون عما شجر بین الصحابۃ ویقولون إن ہذہ الآثار المرویۃ فی مساویہم منہا ما ہو کذب، ومنہا ما قد زید فیہ ونقص وغیروجہہ والصحیح منہ ہم فیہ معذرون أما مجتہدون مصیبون، و اما مجتہدون مخطئون، وہم مع ذلک لا یعتقدون أن کل واحد من الصحابۃ معصوم من کبائر الاثم وصغائرہ بل یجوز علیہم الذنوب فی الجملۃ، ولہم من الفضائل والسوابق ما یوجب مغفرۃ ما یصدر منہم ان صدر حتی أنہم یغفرلہم من السیئات ما لا یغفر لمن بعدہم۔
ترجمہ: اہلِ سنت ان روافض (شیعہ) کے طریقہ سے براءت کرتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے اور انہیں برا کہتے ہیں، اسی طرح ان ناصبوں کے طریقے سے بھی براءت کرتے ہیں جو اہلِ بیتؓ کو اپنی باتوں سے نہ کہ عمل سے تکلیف پہنچاتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں اہلِ سنت سکوت اختیار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی برائی میں جو روایتیں منقول ہیں ان میں سے بعض تو بالکل جھوٹ ہیں، بعض ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کر دی گئی ہے اور ان کا صحیح مفہوم بدل دیا گیا ہے اور اس قسم کی جو روایتیں بالکل صحیح ہوں، ان میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معذور ہیں، ان میں سے بعض حضرات اجتہاد سے کام لے کر حق و صواب تک پہنچ گئے اور بعض نے اجتہاد سے کام لیا اور اس میں غلطی ہو گئی اس کے ساتھ ہی اہلِ سنت کا یہ اعتقاد بھی نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہر فرد تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہے؛ بلکہ ان سے فی الجملہ گناہوں کا صدور ممکن ہے؛ لیکن ان کے فضائل و سوابق اتنے ہیں کہ اگر کوئی گناہ ان سے صادر بھی ہو تو یہ فضائل ان کی مغفرت کے موجب ہیں؛ یہاں تک کہ ان کی مغفرت کے مواقع اتنے ہیں کہ ان کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے۔
کتاب مذکور میں ابنِ تیمیہؒ ایک مفصل کلام کے بعد لکھتے ہیں:
اور جب سلف صالحین اہلِ سنت والجماعت کا اصول یہ پڑ گیا جو اوپر بیان کیا گیا ہے تو اب یہ سمجھیے کہ ان حضرات کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف جو بھی گناہ یا برائیاں منسوب کی گئی ہیں ان میں بیشتر حصہ تو جھوٹ اور افتراء ہے اور کچھ حصہ ایسا ہے جس کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے حکمِ شرعی اور دین سمجھ کر اختیار کیا؛ مگر بہت سے لوگوں کو ان کے اجتہاد کی وجہ اور حقیقت معلوم نہیں، اس لیے اس کو گناہ قرار دیا اور کسی معاملہ میں یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ وہ خطا اجتہادی ہی نہیں؛ بلکہ حقیقتاً گناہ ہی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا وہ گناہ بھی معاف ہو چکا ہے، یا اس وجہ سے کہ انہوں نے توبہ کر لی (جیسا کہ بہت سے ایسے معاملات میں ان کی توبہ خود قرآن و سنت میں منقول و ماثور ہے) اور یا ان کی دوسری ہزاروں حسنات و اطاعات کے سبب معاف کر دیا گیا اور یا اس کو دنیا میں کسی مصیبت و تکلیف میں مبتلا کر کے اس گناہ کا کفارہ کر دیا گیا، اس کے سوا اور بھی اسباب مغفرت کے ہو سکتے ہیں (ان کے گناہ کو مغفور و معاف قرار دینے کی وجہ یہ ہے) کہ قرآن و سنت کے دلائل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ اہلِ جنت میں سے ہیں اس لیے ناممکن ہے کہ کوئی ایسا عمل ان کے نامۂ اعمال میں باقی رہے جو جہنم کی سزا کا سبب بنے اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی شخص ایسی حالت پر نہیں مرے گا جو دخولِ جہنم کا سبب بنے تو اس کے سوا اور کوئی چیز ان کے استحقاق جنت میں مانع نہیں ہو سکتی۔
صفحہ 4 از 7