مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 7
جب یہ بات ہے تو ثابت ہو گیا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اس لڑائی کی وجہ سے عاصی اور گنہگار نہیں ہوئے، اگر ایسا نہ ہوتا تو حضور اکرمﷺ حضرت طلحہؓ کو ’’شہید‘‘ نہ فرماتے اور حضرت زبیرؓ کے قاتل کے بارے میں جہنم کی پیشین گوئی نہ کرتے۔ نیز ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے، جن کے جنتی ہونے کی شہادت تقریباً متواتر ہے۔
اسی طرح جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان جنگوں میں کنارہ کش رہے، انہیں بھی تاویل میں خطاکار نہیں کہا جا سکتا بلکہ ان کا طرزِ عمل بھی اس لحاظ سے درست تھا کہ اللہ نے ان کو اجتہاد میں اسی رائے پر قائم رکھا۔ جب یہ بات ہے تو اس وجہ سے ان حضرات کرام رضی اللہ عنہم پر لعن طعن کرنا، ان سے براءت کا اظہار کرنا اور انہیں فاسق قرار دینا، اُن کے فضائل و مجاہدات اور ان عظیم دینی مقامات کو کالعدم کر دینا کسی طرح درست نہیں ہے۔ بعض علماء سے پوچھا گیا کہ اس خون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی مشاجرات میں بہایا گیا، تو انہوں نے جواب میں یہ آیت پڑھ دی کہ
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ۚ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ  
(سورۃ البقرة: آیت، 141)
ترجمہ: (بہرحال) وہ ایک امت تھی جو گزر گئی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے، اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے۔
کسی اور بزرگ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:
’’یہ ایسے خون ہیں کہ اللہ نے میرے ہاتھوں کو اس میں (رنگنے سے) بچایا، اب میں اپنی زبان کو ان سے آلودہ نہیں کروں گا۔‘‘
مطلب یہی تھا کہ میں کسی ایک فریق کو کسی معاملے میں یقینی طور پر خطاکار ٹھہرانے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا۔
علامہ ابنِ فورکؒ فرماتے ہیں:
’’ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان پیش آنے والے واقعات کہ وہ حضرات آپس کے ان اختلافات کے باوجود ولایت اور نبوت کی حدود سے خارج نہیں ہوئے، بالکل یہی معاملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا بھی ہے۔‘‘
اور حضرت محاسبیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’جہاں تک اس خون ریزی کا معاملہ ہے تو اس کے بارے میں ہمارا کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ اس میں خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف تھا اور حضرت حسن بصریؒ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ:
’’یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ہم غائب، وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، جس معاملہ پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق ہے، ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف ہے، اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔‘‘
حضرت محاسبیؒ فرماتے ہیں کہ ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حسن بصریؒ نے فرمائی، ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جن چیزوں میں دخل دیا، ان سے وہ ہم سے کہیں بہتر طریقے پر واقف تھے، لہٰذا ہمارا کام یہی ہے کہ جس پر وہ سب حضرات متفق ہوں اس کی پیروی کریں اور جس میں ان کا اختلاف ہو اس میں خاموشی اختیار کریں اور اپنی طرف سے کوئی نئی رائے پیدا نہ کریں، ہمیں یقین ہے کہ ان سب نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اللہ کی خوشنودی چاہی تھی؛ اس لیے کہ دین کے معاملہ میں وہ سب حضرات شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔‘‘
اس طویل عبارت میں علامہ قرطبی رحمۃ اللہ نے اہلِ سنت کے عقیدے کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے۔ عبارت کے شروع میں انہوں نے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کی شہادت سے متعلق جو حدیثیں نقل فرمائی ہیں، ان سے اس مسئلہ پر بطورِ خاص روشنی پڑتی ہے، سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ دونوں حضرات آنحضرتﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں اور ان دس خوش نصیب حضرات میں آپ کا بھی نام ہے جن کے بارے میں آنحضرتﷺ نے نام لے کر ان کے جنتی ہونے کی خوشخبری دی ہے اور جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے، ان دونوں حضرات نے حضرت عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کرنے کے لیے حضرت علیؓ کا مقابلہ کیا اور اسی دوران شہید ہوئے، آنحضرتﷺ نے مذکورہ احادیث میں ان دونوں حضرات کو شہید قرار دیا۔ دوسری طرف حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، حضرت علیؓ کے سرگرم ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے پوری قوت کے ساتھ سیدنا علیؓ کے مخالفین کا مقابلہ کیا، آنحضرتﷺ نے ان کے لیے بھی شہادت کی پیشین گوئی فرمائی، غور کیا جائے تو یہی ارشادات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ان جنگوں میں کوئی فریق بھی کھلے باطل پر نہ تھا؛ بلکہ ہر ایک فریق اللہ کی رضا کے لیے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق کام کر رہا تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر یہ اختلاف کھلے حق و باطل کا اختلاف ہوتا تو ہر ایک فریق کے رہنمائوں کے لیے بیک وقت شہادت کی پیشین گوئی نہ فرمائی جاتی، ان ارشادات نے یہ واضح کر دیا کہ حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ بھی اللہ کی خوشنودی کے لیے لڑ رہے تھے؛ اس لیے وہ بھی شہید ہیں اور حضرت عمارؓ کا مقصد بھی رضائے الہٰی کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا؛ اس لیے وہ بھی لائقِ مدح و ستائش ہیں۔ دونوں کا اختلاف کسی دنیوی غرض سے نہیں؛ بلکہ اجتہاد و رائے کی بنا پر تھا اور ان میں سے کسی بھی فریق کو مجروح و مطعون نہیں کیا جا سکتا۔
شرح مواقف مقصد سابع میں ہے:
وامّا الفتن والحروب الواقعۃ بین الصّحابۃ فالشامیۃ انکروا وقوعہا ولا شک انہ مکابرۃ للتّواتر فی قتل عثمان و واقعۃ الجمل والصفّین وَالْمُعْتَرِفون بوقوعہا منہم من سکت عن الکلام فیہا بتخطیۃ أو تصویب وہم طائفۃ من أہل السنّۃ فإن أرادوا أنہ اشتغال بما لا یعنی فلا بأس بہ إذِ قال الشافعیؒ وغیرہ من السلف تلک دماء طہر اللّٰہ عنہا ایدینا فلنطہر عنہا الخ۔
صفحہ 3 از 7