مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں امت کا عقیدہ اور عمل

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 7
الْعَاشِرَۃُ ۔ لَا یَجُوزُ أَنْ یُنْسَبَ إِلَی أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ خَطَائٌ مَقْطُوعٌ بِہِ، إِذْ کَانُوا کُلَّہُمُ اجْتَہَدُوا فِیمَا فَعَلُوہُ وَأَرَادُوا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ، وَہُمْ کُلُّہُمْ لَنَا أَئِمَّۃٌ، وَقَدْ تَعَبَّدْنَا بِالْکَفِّ عَمَّا شَجَرَ بَیْنَہُمْ، ولا نَذْکُرَہُمْ إِلَّا بِأَحْسَنِ الذِّکْرِ، لِحُرْمَۃِ الصُّحْبَۃِ وَلِنَہْیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّہِمْ، وَأَنَّ اللَّہَ غَفَرَ لَہُمْ، وَأَخْبَرَ بِالرِّضَاء عَنْہُمْ، ہَذَا مَعَ مَا قَدْ وَرَدَ مِنَ الْأَخْبَارِ مِنْ طُرُقٍ مُخْتَلِفَۃٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ طَلْحَۃَ شَہِیدٌ۔ یَمْشِی عَلَی وَجْہِ الْأَرْضِ، فَلَوْ کَانَ مَا خَرَجَ إِلَیْہِ مِنَ الْحَرْبِ عِصْیَانًا لَمْ یَکُنْ الْقَتْل فِیہِ شَہِیدًا، وَکَذَلِکَ لَوْ کَانَ مَا خَرَجَ إِلَیْہِ خَطَاء فِی التَّأْوِیلِ وَتَقْصِیرًا فِی الْوَاجِبِ عَلَیْہِ، لِأَنَّ الشَّہَادَۃَ لَا تَکُونُ إِلَّا بِقَتْلٍ فِی طَاعَۃٍ، فَوَجَبَ حَمْلُ أَمْرِہِمْ عَلَی مَا بَیَّنَّاہُ۔ وَمِمَّا یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ مَا قَدْ صَحَّ وَانْتَشَرَ مِنْ أَخْبَارِ عَلِیٍّ بِأَنَّ قَاتِلَ الزُّبَیْرِ فی النار۔ وقولہ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ’’بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِیَّۃَ بِالنَّارِ‘‘۔ وَإِذَا کَانَ کَذَلِکَ فَقَدْ ثَبَتَ أَنَّ طَلْحَۃَ، وَالزُّبَیْرَ غَیْرُ عَاصِیَیْنِ وَلَا آثِمَیْنِ بِالْقِتَالِ، لِأَنَّ ذَلِکَ لَوْ کَانَ کَذَلِکَ لَمْ یَقُلِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی طَلْحَۃَ: ’’شَہِیدٌ‘‘۔ وَلَمْ یُخْبِرْ أَنَّ قَاتِلَ الزُّبَیْرِ فِی النَّارِ، وَکَذَلِکَ مَنْ قَعَدَ غَیْرَ مُخْطِیِٔ فِی التَّأْوِیلِ۔ بَلْ صواب أراہم اللَّہُ الِاجْتِہَادَ۔ وَإِذَا کَانَ کَذَلِکَ لَمْ یُوجِبْ ذَلِکَ لَعْنَہُمْ وَالْبَرَائَۃَ مِنْہُمْ وَتَفْسِیقَہُمْ، وَإِبْطَالَ فَضَائِلِہِمْ وَجِہَادَہُمْ، وَعَظِیمَ غِنَائِہِمْ فِی الدِّینِ، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ وَقَدْ سُئِلَ بَعْضُہُمِ عَنِ الدِّمَائِ الَّتِی أُرِیقَتْ فِیمَا بَیْنَہُمْ فَقَالَ۔’’تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ وَلا تُسْئَلُونَ عَمَّا کانُوا یَعْمَلُونَ‘‘ وسئل بَعْضُہُمْ عَنْہَا أَیْضًا فَقَالَ: تِلْکَ دِمَائٌ طَہَّرَ اللَّہُ مِنْہَا یَدِی، فَلَا أُخَضِّبُ بِہَا لِسَانِی۔ یَعْنِی فِی التَّحَرُّزِ مِنَ الْوُقُوعِ فِی خَطَائٍ، وَالْحُکْمِ عَلَی بَعْضِہِمْ بِمَا لَا یَکُونُ مُصِیبًا فِیہِ۔ قَالَ ابْنُ فَوْرِکٍ: وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ إِنَّ سَبِیلَ مَا جَرَتْ بَیْنَ الصَّحَابَۃِ مِنَ الْمُنَازَعَاتِ کَسَبِیلِ مَا جَرَی بَیْنَ إِخْوَۃِ یُوسُفَ مَعَ یُوسُفَ، ثُمَّ إِنَّہُمْ لَمْ یَخْرُجُوا بِذَلِکَ عَنْ حَدِّ الْوَلَایَۃِ وَالنُّبُوَّۃِ، فَکَذَلِکَ الْأَمْرُ فِیمَا جَرَی بَیْنَ الصَّحَابَۃِ۔ وَقَالَ الْمُحَاسِبِیُّ: فَأَمَّا الدِّمَائُ فَقَدْ أَشْکَلَ عَلَیْنَا الْقَوْلُ فِیہَا بِاخْتِلَافِہِمْ۔ وَقَدْ سُئِلَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ عَنْ قِتَالِہِمْ فَقَالَ: قِتَالٌ شَہِدَہُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَغِبْنَا، وَعَلِمُوا وَجَہِلْنَا، وَاجْتَمَعُوا فَاتَّبَعْنَا، وَاخْتَلَفُوا فَوَقَفْنَا۔ قَالَ الْمُحَاسِبِیُّ فَنَحْنُ نَقُولُ کَمَا قَالَ الْحَسَنُ، وَنَعْلَمُ أَنَّ الْقَوْمَ کَانُوا أَعْلَمَ بِمَا دَخَلُوا فِیہِ مِنَّا، وَنَتَّبِعُ مَا اجْتَمَعُوا عَلَیْہِ، وَنَقِفُ عِنْدَ مَا اخْتَلَفُوا فِیہِ وَلَا نَبْتَدِعُ رَأْیًا مِنَّا، وَنَعْلَمُ أَنَّہُمُ اجْتَہَدُوا وَأَرَادُوا اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ، إِذْ کَانُوا غَیْرَ مُتَّہَمِینَ فِی الدین، ونسأل اللّٰہ التوفیق۔
(تفسیر القرطبی: جلد، 16 صفحہ، 322)
یہ جائز نہیں ہے کہ کسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے۔ اس لیے کہ ان سب حضرات رضی اللہ عنہم نے اپنے اپنے طرزِ عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات رضی اللہ عنہم ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کفِّ لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے پر کریں کیونکہ صحابیت بڑی حرمت کی چیز ہے اور نبی کریمﷺ نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے، اس کے علاوہ متعدد سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت طلحہؓ کے بارے میں فرمایا:
’’ان طلحۃ شھید یمشی علی وجہ الأرض‘‘
ترجمہ: ’’یعنی سیدنا طلحہؓ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں‘‘
اب اگر حضرت علیؓ کے خلاف حضرت طلحہؓ کا جنگ کے لیے نکلنا کھلا گناہ اور عصیان تھا تو اس جنگ میں مقتول ہو کر وہ ہرگز شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرتے، اسی طرح اگر حضرت طلحہؓ کا یہ عمل تاویل کی غلطی اور ادائے واجب میں کوتاہی قرار دیا جا سکتا تو بھی آپؓ کو شہادت کا مقام حاصل نہ ہوتا کیونکہ شہادت تو صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اطاعت ربّانی میں قتل ہوا ہو، لہٰذا ان حضرات کرام رضی اللہ عنہم کے معاملہ کو اسی عقیدہ پر محمول کرنا ضروری ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔
اسی بات کی دوسری دلیل وہ صحیح اور معروف و مشہور احادیث ہیں جو خود حضرت علیؓ سے مروی ہیں اور جن میں آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’سیدنا زبیرؓ کا قاتل جہنم میں ہے‘‘
نیز سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ
’’سیدہ صفیہؓ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو‘‘ 
صفحہ 2 از 7